چیف سیکریٹری نے بلتستان ڈویژن کا دو روزہ دورہ کیا، ترقیاتی منصوبوں‌پر تفصیلی بریفنگ لی

سکردو( پ ر ) بلتستان ڈویژن میں ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیئے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز کا دو روزہ دورہ۔ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے بلتستان ڈویژن میں ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے سکردو میں ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی ۔اجلاس میں مخلتف محکموں کے زمہ داران نے چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز کو ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

اس اعلی سطحی اجلاس میں سیکریٹری برقیات ظفر وقار تاج ، سیکریٹری صحت سعید اللہ خان نیازی ،سیکریٹری تعلیم خادم حسین ، کمشنر بلتستان ڈویژن حمزہ سالک ، چیف انجینئر بی اینڈآر ، چیف انجینئر واٹر اینڈ پاور، ڈائر یکٹرایجوکشن ،ڈائر یکٹرصحت ، ڈائر یکٹرزراعت اور ڈائر یکٹرلوکل گورنمنٹ کے علاوہ بلتستان کے چاروں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی ۔ اجلاس میں محکمہ تعمیرات ، برقیات ، صحت اور تعلیم کے شعبوں کی جاری اور نئی ترقیاتی سکیموں کی تعداد اور لاگت کے علاوہ رواں سال میں جاری کردہ فنڈز اور نئی اور پرانی سکیموں کے تکمیلی مراحل ،بیمار اور سالانہ ترقیاتی منصوبوں سے خارج کی گئی سکیموں اور سکیموں کے تکمیلی مراحل میں پیش آنے والے مسائل ، نئی ترقیاتی سکیموں کی منظور ی ، انتظامی منظور ی اور دیگر اہم ایشوز کے بارے میں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کو بریفینگ دی گئی ۔

اجلاس میں محکمہ برقیات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے چیف انجینئر بلتستان اکبر ناز نے کہا کہ بلتستان کے چاروں اضلاع میں رواں مالی سال میں ۴۷ نئی اور پر انی سکیموں پر کام ہورہا ہے جن کی لاگت ۶۹۔۵۸ میلن روپے ہے ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بلتستان کے چاروں اضلاع میں بجلی کے متعددنئے اور پر انے منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ اس کے علاوہ روندو میں ہر پو ہائیڈرل پاور سٹیشن کی تعمیر کے لیے تمام فیسبلٹی اور دیگر امور کو مکمل کرکے ضروری فنڈنگ کے لیے وفاق کو ارسال کیا گیا ہے ۔ ہر پو ہائیڈرل پاور سٹیشن کے قیام سے علاقے میں بجلی کی موجودہ قلت پر قابو پایا جاسکے گا ۔ اس موقع پر چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے سکردو میں بجلی کے بحران کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکمے سے کہا ہے کہ لو ڈ شیڈنگ میں کمی لاکر لوگوں کو ہر صورت میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے ۔ انہوں نے بلتستان میں ہائیڈرل پاور کی سات ٹارگٹ سکیموں کو جون تک مکمل کرنے کا ہدف دیا ہے اورکمشنر بلتستان سمیت ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو بجلی کے سات منصوبوں کی مکمل مانیٹرینگ کر نے کی ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے کمشنر بلتستان کی سربراہی میں ٹاسک فورس کے قیام کی بھی ہدایت دی ہے جو ان منصوبوں کی مکمل رپورٹنگ کے علاوہ دیگر منصوبوں کی پر وگر س کے حوالے سے جائزہ لینگے ۔چیف سیکریٹری کو سال ۱۹۔۲۰۱۸کے لیے محکمہ براقیات کی طرف سے مختلف منصوبوں کے حوالے سے شیڈو ترقیاتی سکیموں کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اس موقع پر چیف سیکریٹری نے ضلع شگر کے لیے نئی سکیمیں تیار کرنے کی بھی ہدایت دی ۔

اس موقع پرسیکریٹری برقیات ظفر وقار تاج نے محکمہ برقیات کی سروسز کو بہتر بنانے اور ادارے کی کارکردگی کو مزید فعال بنانے کے حوالے سے محکمہ برقیات کی طرف سے کیے گئے اقدامات کا تذکرہ کیا۔ چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے محکمہ برقیات کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا بھی اظہار کیا۔ تاہم انہوں نے لوڈ شیڈنگ کم کرنے کے حوالے سے محکمہ برقیات کو سخت اقدامات کرنے کی ہدایت بھی دی ۔ اس موقع پر چیف سیکریٹری نے کہا کہ وہ بلتستان میں دو روزہ قیام کے دوران اداروں کی نہ صرف کارکردگی کا جائزہ لینگے اور خود بھی عوام سے مل کر ان کے مسائل کے حوالے سے آگاہی حاصل کریں گے۔ انہوں نے دورے میں آئے ہوئے تینوں محکمہ جات کے سیکریٹریز کو بھی ہدایت دی کہ وہ دو روزہ کے موقع پر اپنے اپنے محکمہ جات کو درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کریں اور جو مسائل موقع پر ہی حل ہوسکتے ہیں ان کو حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ بلتستان کے مسائل کو اولیت دی جائے گی، تاکہ اس اہم ڈویژ ن کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ انہوں نے محکمہ جات کے زمہ داران سے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے جو بھی منظوریاں حاصل کرنے کی ضرورت ہے یا منصوبو ں کی انتظامی منظوری کا مسلہ ہے ان کو ترجیحی بنیادوں پر اپنے محکمہ جات کے زریعے ضروری منظور ی حاصل کی جائے اور منصوبوں پر تعمیراتی کام بلا تاخیر شروع ہونا چاہیئے۔ انہوں نے متعلقہ محکمے سے کہا ہے کہ پر ی کوالفیکشن جیسے تاخیر ی مراحل کو ترک کرکے ایک سہل طریقے سے ٹنڈرینگ کا نظام شروع کیا جائے جس طرح محکمہ تعمیرات نے شروع کی ہے ۔ اجلاس میں محکمہ تعمیرات کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ میں چیف انجینئر بی اینڈ آر وزیر تاجور نے کہا کہ بلتستان کے چاروں اضلاع میں رواں سال کے۱۴۹ نئی اور پرانی سکیموں کے لیے سالانہ ترقیاتی پر وگرام میں تین ارب ۲۳ کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے ۔ ان سکیموں کے لیے اب تک ایک ارب ۸۹ کروڑ روپیے کی ریلز مل چکی ہے جبکہ ان تمام سکیموں کوہدا ف کے مطابق مکمل کرنے کے لیے مزید ایک ارب پچاس کروڑ روپے درکار ہیں ۔بریفنگ میں اگلے سال کی شیڈو ل سکیموں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے محکمہ تعمیرات کی طرف سے کیے گئے اقدامات اور ترقیاتی سکیموں کو مقرر مدت میں مکمل کرنے کے اہدا ف کا بھی جائزہ لیا اور بعض نامکمل سکیموں کی رپورٹس بھی طلب کیں۔ انہوں نے محکمہ تعمیرات کے مجموعی کاموں پر خوشی کا بھی اظہار کیا۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز کو بلتستان میں محکمہ تعلیم کے ترقیاتی کاموں اور کالجز کی صورت کے حال طلباء اور اساتذہ کی تعداد اور کالجز اور سکولوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی ۔ اس موقع پر چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے کہا کہ سکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کی تربیت اور سکول نہ جانے والے بچوں کو سکولوں اور کالجوں میں داخلے اور کالجوں میں اساتذہ و لیکچرارز کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے پروپوزل تیار کرنے کی بھی ہدایت دی۔

انہوں نے سیکریٹری تعلیم سے کہا ہے کہ بلتستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور دیگر ضروری اقدامات کے حوالے سے ایک خصوصی میٹنگ ترتیب دینے کی بھی ہدایت دی۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹرصحت ڈاکٹراقبال نے بلتستان کے چاروں اضلاع میں محکمہ صحت کی جاری سکیموں ، ڈاکٹروں کی ضرورت اور لوگوں کو علاج معالج کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ اجلاس میں سکریڑی صحت نے بھی بلتستان میں صحت کے شعبے کی اہم ضروریات اور دیگر اہم مسائل کے حوالے سے تفصیلات سے اگاہ کیا ۔ چیف سیکریٹری گلگت بلتستا ن نے بلتستان ڈویژن میں محکمہ صحت کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ عوام النا س کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیئے ۔ اس موقع اجلاس میں چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے سرکاری ملازمین کی طرف سے اخبارات میں بیانات دینے کا سخت نوٹس لیا اور کہا کہ سرکاری قوانین کے مطابق سرکاری ملازم اخبارات میں بیانات نہیں دے سکتے ۔ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے سکردو میں اسپیشل ایجوکیشن سنٹر کو فوری طور پر مکمل کرکے سنٹر کو ف فعال بنانے کی بھی ہدایت دی اور بعد ازاں انہوں نے اسپیشل ایجوکشن سنٹر کا بھی دورہ کیا اور عمارت کا معائینہ کیا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments