لفظِ “دَیُوْث”  بُرُشَسکی یا عربی؟

قلمکار: احسام ہنزائی

    میں بچپن میں اپنے بزرگوں سے اکثر   ایک لفظ سنتا تھا، جب کوئی بچہ شرارت  کرتا تو اس کو بُرُشسکی زبان میں “یا لے دَیُوْث” کہہ کر پکارتے تھے۔ مطلب یہ لفظ کبھی کبھار پیار و محبت میں بھی اور کبھی کبھی بحیثیتِ تعنہ یا عام گالی کے طور پر بھی استعمال کیا کرتے تھے لیکن تب مجھے اس کا مطلب نہیں پتہ تھا اور شاید ان بزرگوں کو بھی پتہ نہ ہو یا ہو سکتا ہے اُس زمانے کے بزرگوں کو معلوم ہو لیکن بعد میں اس کی اصطلاح بدل دی گئی ہو۔۔

مگر یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کے بارے میں جان کر آپ کو بھی تعجب ہوگا کہ یہ لفظ بُرُشسکی زبان میں کیسے شامل ہو گیا۔۔

کیونکہ “دَیُوْث”  عربی زبان کا ایک لفظ ہے جو بعد میں بُرُشسکی زبان کی عام بول چال میں بھی استعمال ہونے لگا۔ لیکن میں یہ جاننے سے قاصر رہا ہوں کہ کب، کیسے اور کیوں اس لفظ کو بُرُشسکی زبان میں استعمال کیا جاتا تھا۔

بہر حال جیسے بھی آیا میں اس لفظ کی حقیقی اور صحیح معنیٰ سے قارئین کو روشناس کرانا چاہتا ہوں جس کا ایک مقصد تو اس لفظ کی اصطلاح  ہے اور دوسرا  آج کل کے بگڑتا ہوا معاشرے کی اصلاح کرنا ہے جو کہ اس لفظ کی اصطلاح بیان کرتے ہوئے عین ممکن ہے۔۔۔

اس سے پہلے کہ میں لفظِ دیوث پر تبصرہ کروں، میں سمجھتا ہوں کہ ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے دیوثیت کو بیان کروں۔۔

“دَیُوْثِیت” ایک ایسی بیماری ہے جو معاشرے کے ان ستونوں کو لگتی ہے جن پر ایک مہذب معاشرے کی بقاء کا دارومدار ہے، یعنی جس کو اپنانے سے یا تو وہ ستون گِر جاتی ہے اور اس سے دور رہنے سے وہ ستون اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے یعنی وہ معاشرہ اپنی اصلی حالت میں باقی رہتا ہے۔۔ اور ستون بن کر معاشرے کے اخلاقی بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھانا  ہر ایک کی بس کی بات نہیں ہے۔

ہو سکتا ہے اس تحریر کو پڑھتے ہوئے  لوگ مجھے کند ذہنیت ضرور تصور کر لیں، مگر کوئی بات نہیں یہ میرا اپنا  تجربہ ہے۔

مجھے آج کل کے معاشرے کی طرف دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ لوگوں نے مادی دنیا پر زیادہ توجہ دی ہے اور من کی دنیا پر کبھی غور نہیں کیا ہے، حالانکہ اس ظاہری دنیا تو انسان کے اندر اپنے وجود کی دنیا ہے، بلکہ انسان کے اندر کی پوری کائنات ہے جو ظاہری دنیا سے کئی گُنا زیادہ بڑی ہے۔۔

 معزرت کے ساتھ مجھے کہنا پڑھ رہا ہے کہ پسماندہ ذہنیت اور کمزور نظریہ رکھنے والے لوگ (والدین)  اکثر بے حیائی، غیر اخلاقی اور برائی کے معمولی سے رساؤ میں بھی عمارت کے بوجھ کو اپنے ہی اوپر گرا لیتے ہیں۔ وہ اپنے اولاد کے سامنے مجبور بکری اور ماں کے روبرو تڑپتی ہوئی مچھلی بن جاتے ہیں اور اولاد کی حرکات و سکنات کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہوئے بھی نظر انداز کر کے خاموش رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور بعد میں ہائے ہائے کرنے لگتے ہیں۔۔  خیر ۔ ۔ ۔ !

معاشرے میں پھیلنے والا غیر اخلاقی اور بے حیائی کا کوئی بھی فیشن یعنی عورت اور مرد کا ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کرنا، رہنے سہنے میں اور بات چیت میں غیر اخلاقی رویہ اختیار کرنا، مرد اور عورت دونوں کا چلنے اور پہننے میں نامناسب طرز کا فیشن اور سٹائل اختیار کرنا اور بد اخلاقی کی کوئی بھی رسم ان کی “دیوثیت” کی علامت بن جاتیں ہیں۔۔

 جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،

يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَأسًا يُّوَارِىۡ سَوۡاٰتِكُمۡ وَرِيۡشًا‌ ؕ

“اے اولاد آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو”

(سورۃ الاعراف آیت 26)

 

 اگر “سرپرست” قسم کے یہ لوگ چاہتے تو اپنے  وجود کو معاشرتی برائیوں کے سامنے چٹان کی طرح مضبوط رکھتے اور اپنے قدموں کو بے حیائی کے مقابلے پر جمائے رکھتے اور ان برائیوں کو دیس میں آنے ہی نہ دیتے تو شاید آج یہ معاشرہ اس قدر اخلاقی زوال کا شکار نہ ہوتا اور نہ ہی کوئی سوچتا کہ جینز، ٹائیٹس، شورٹس اور ٹی شرٹ پہن لوں تو ماڈرن، بولڈ اور عقلی طور پہ با شعور کہلاؤں۔۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے ان کی حوس بھری نگاہوں کے آگے خود کو پیش کر کے بھلے کسی کو کیا حاصل ہونا۔۔ خیر۔ ۔ ۔!

اب یہاں میں لفظِ “دَیُوْث” کی بھی اصطلاح بتاتا چلوں،

دیوث ہر اس سرپرست کو کہا جاتا ہے  “جو اپنے ماتحت کسی بھی فرد کو (چاہیے گھر ہو یا گھر سے باہر) کسی بھی برائی اور غیر اخلاقی سرگرمی میں مبتلاء دیکھے اور اُسے اُس برائی سے نہیں روکے” دیوث کہلاتا ہے۔۔۔

اس بارے میں مجھے حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللّٰہ سے مروی ایک حدیث  یاد آرہی ہے کہ،

 رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،

“مجھے میری عزت کی قسم ہے کہ جنت

میں ہمیشہ شراب پینے والا اور دیوث کبھی داخل نہیں ہو سکیں گے۔۔

صحابہ کرام رضی الله عنھم نے سوال کیا کہ

اے اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم..! ہم نے ہمیشہ شراب پینے والے کو تو جان لیا ہے مگر دیوث کون ہے..؟

فرمایا: جو اپنے اہل و عیال میں برائی دیکھے اور اُسے نہ روکے”۔۔

(متفق علیہ)

اس حدیثِ مبارکہ سے دیوث کا مفہوم اور بھی واضح ہو رہا ہے اور کہہ سکتے ہیں کہ  اس میں تمام سرپرستِ اعلیٰ، جیسے:  باپ، بیٹا، بھائی، شوہر، مذہبی سکالرز اور سیاسی حکمران بھی شامل ہیں۔۔۔ ایک اور سمجھنے والی بات یہ بھی ہے کہ اس میں ماں، بیٹی اور بہن  بھی شامل ہیں، وہ اس لحاظ سے کہ حیاء دار ہونا مرد پر بھی اتنا ہی واجب ہے جتنا عورت پر، اس لئے عورت کی بھی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی اگر کسی گھر کی سرپرستِ اعلیٰ یا کوئی لیڈر ہے تو مرد اور عورت دونوں کو برائی سے روکے،  لیکن اس زمانئہ  جاہلیت نے شرم و حیاء اور وفا و قربانی صرف عورت پر مختص کی ہے جس کی وجہ سے مرد کھلے عام برے اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں محو نظر آتے ہیں۔ اور ان کو دیکھ کے کچھ عقل سے خالی لوگ مرد اور عورت کے درمیان فرق کو بھلا دیتے ہیں۔۔ اور کہتے ہیں کہ عورت کیوں کر وہ سب نا کرے جو مرد کرتا ہے۔

 لیکن میری نظر میں عورت کی عزت مردوں سے کئی گنا زیادہ ہے اس لئے عورت کو مرد کی مشابہت نہیں کرنی چاہئے اور  اپنی اس عزت کا پاس رکھتے ہوئے معاشرے کے اقدار اور روایات کے اندر رہنا سیکھیں جس کا اللّٰه تعالیٰ نے قرآن پاک میں بھی ذکر فرمایا ہے۔ اور مرد کو بھی اپنی عزت سے زیادہ عورت کی عزت کا خیال رکھنا چاہیئے۔۔ اگر ایسا کرے گا تو اس کے ماں بیٹی کی بھی اتنی ہی عزت ہوگی۔۔

شاعر کہتا ہے،

 

دنیا کی لذتوں میں مشغول نہ ہو اے بنتِ حوا،

تیرے جیسے ہزاروں اس مٹی کے نیچھے دفن ہیں۔۔

 

لہذا

 گزارش یہ ہے کہ ہم سب کو اپنے معاشرے کی اصلاح اور اس میں موجود عظیم تہذیب و ثقافت اور روایات کا خاص خیال رکھتے ہوئے معاشرے میں موجود برائیوں اور غیر اخلاقی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہئے اور جہاں تک دسترس حاصل ہو وہاں تک اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیئے۔۔

  پروردگار کے حضور دعا ہے کہ

جن لوگوں کی ہمارے معاشرے پر بُری نظر ہے اور ہمیں زوال کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں اللّٰہ پاک ان کے بُرے عزائم کو خاک میں ملا کر ان کو ناکامی عطا فرمائے اور اس پاک سر زمین کو امن و امان اور سلامتی نصیب کرے۔۔

آمین۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments