چترال میں شاپنگ بیگ کے استعمال پر 5مارچ کے بعد مکمل پابندی عائد ہوگی۔اسسٹنٹ کمشنر ساجد نواز

چترال(نمائندہ) چترال میں شاپنگ بیگ کے استعمال پر 5مارچ کے بعد مکمل پابندی ہوگی اس انتظامی فیصلے کا اعلان اے سی چترال ساجد نواز نے تجار برادری چترال کے نمائندہ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے صوبے میں شاپنگ بیگ کے استعمال پر پابندی کے بعد چترال میں بھی اس پر مکمل طورپر پابندی عائد کی جارہی ہے اور اس کے متبادل کے طورپرڈسٹرکٹ انتظامیہ بائیو ڈگریڈ ایبل شاپر متعارف کررہی ہے جس کے استعمال سے ماحول پر بُرے اثرات مرتب نہیں ہونگے۔اُنہوں نے کہا چترال بازار میں فی الحال 500 بیگ تقسیم کیے جائینگے اس کے بعد دکاندار اپنے لیے یہ شاپر خرید کر استعمال کرینگے۔اُنہوں نے کہا کہ ایک کلو اور اُس سے چھوٹے سائز کے سفید شاپر پر پابندی نہیں ہوگی اُنہوں نے چترال کے دکانداروں سے اس سلسلے میں تعاون کی اُمید کااظہار کیا۔

اے سی چترال ساجد نواز نے دکانداروں کو تجاوازت کرنے سے باز رہنے کی تاکید بھی کی ۔میٹنگ میں چترال کے تجار برادری کے ہونے والے انتخابات کے بارے میں بھی تجاویز زیر غور آئے اور دونوں پینلوں کے متفقہ رائے ’’کہ ووٹنگ موبائل بکس کے ذریعے ہوگی‘‘ پر اتفاق کیا گیا۔اے سی چترال نے تجار برادری کے ساتھ انتظامیہ کی طرف سے پوری طرح تعاون کرنے کا اظہار کیا۔

اس موقع پر اے سی چترال نے مرغی فروشوں کے لئے ہدایت نامہ بھی جاری کردیا۔درین اثنا چترال بازار کے متعدد تھوک اور پرچون فروشوں نے شاپنگ بیگ کے استعمال پر پابندی پراپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاپنگ بیگز پر پابندی کے وجہ سے دکانداروں اور صارفین کو بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے دوسرے اضلاع میں شاپنگ بیگ کے پابندی کے خلاف عدالتوں میں کیس جاری ہے اور کئی ضلعوں میں شاپنگ بیگ ڈیلروں نے عدالت سے حکم امتناہی حاصل کی ہوئی ہیں۔اُنہوں ڈسٹرکٹ انتظامیہ سے اس سلسلے دکانداروں کے ساتھ نرمی برتنے کی درخواست کی ۔اس موقع پر اے ڈی اے آر ڈی ڈی فہیم الجلال،تجار برادری کے طرف سے عبوری کابینہ کے فضل محمد،تجاربرادری کے انتخابات کے لئے چترال پینل آف تجار کے طرف سے صدارت کے امیدوار شبیر احمد اور جنرل سیکرٹری سراج احمد، تاجر دوست اتحاد پینل چترال کے صدارت کے امیداوار بشیر حسین آزاد اور نائب صدر فضل حسین موجود تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments