یاسین میں دریا کے بیچ مصنوعی جھیلیں بنا کر شکاری مورچہ زن ہوگئے، مہاجر پرندوں‌کا بے دریغ شکار جاری

یاسین (رپورٹ معراج علی عباسی ) یاسین میں دریاغیر سے ہجرت کرکے آنے والے مہمان پرندوں کا بے دریغ شکار جاری. سنگ دل شکاریوں نے موسمی سختی کے باعث روس ،سائبیریا وغیرہ سے آنے والے مہاجرپروندوں کی تباہی کے لیے دریا یاسین کے بیچ میں جگہ جگہ پر دیواریں کھڑی کر کے مورچے بنائے ہیں اور شکار کر رہے ہیں. بعض مقامات پر بلڈورز اور ٹریکٹر کی مدد سے مصنوعی جھیلیں بنا کر شکار گاہیں تعمیر کی گئی ہیں اور شکاری اسلحہ سے لیس ہوکردن بھرمو رچہ زن رہتے ہیں ۔تا کہ دریا میں اترنے والا یا اوپر سے گزرنے والا کوئی پرندہ بچ کے نہ جاسکیں ۔ علاقے میں موجود چندشکاریوں نے مہمان پرندوں کو قتل عام کرنے کے ساتھ ساتھ دریا یاسین پر ہر دس قدم پر بڑے بڑے تالاب بناکر دریا کے بہاو کو روک رکھا ہے ۔موسم میں تبدیلی کے ساتھ ہی دریا کے بہاو میں آضافہ ہوتے ہی شکاریوں کے بنائیں ہوئے مصنوعی تالاب پھٹنا کر سیلابی ریلے کی شکل اختیار کرتے ہے۔ ۔جس باعث دریا یاسین کے کنارے آباد لوگوں کو شدیدپریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

یاسین کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ محکمہ والڈلائف لائسنس ہافتہ شکاریوں کے لیے شکارکی حدمقرار کرے تاکہ ماحول کو خوبصورت انسانی زندگی کے لیے فائدہ مند بنانے والے مہاجرپرندوں کا قتل عام میں کمی ٓاسکیں اور غذر انتظامیہ دریا یاسین پر قانونی طور تعمیرکردہ تالابوں کو دریا کے بہاو میں اضافہ ہونے سے قبل کھلدیں تاکہ دریا کے کنار آباد لوگ محفوظ رہ سکیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments