چترال میں خواتین کی خودکشیوں کے بڑھتے ہوے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار، اصلاح احوال کا مطالبہ

چترال (نمائندہ) سوشل ویلیفئر ڈیپارٹمنٹ اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نے مشترکہ طور پر بین الاقوامی یوم خواتین کے سلسلے میں پروگرام منعقدکیا گیا جس میں ضلع ناظم مغفرت شاہ مہمان خصوصی اور ڈپٹی کمشنر منہاس الدین نے صدارت کی ۔ اس موقع پر مقرریں نصرت جبیں ڈسٹرکٹ افیسر نصرت جبین ، گورنمنٹ گرلز کالج کے پرنسپل پروفیسر مسرت جبین ، اے کے آر ایس پی کے ٹیم لیڈر رضیہ سلطانہ ، منیجر جینڈر اینڈ ڈیویلپمنٹ نگہت یاسمین، صدر چترال پریس کلب ظہیر الدین اور دوسروں نے چترال کے تناظر میں نوعمر خواتین میں خودکشی کی بڑھتی ہوئی رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس پریشان کن صورت حال کے اصل محرکات معلوم کرکے اس پر قابو پانے کی کوشش کی جائے۔ اس موقع پر مقرریں نے خواتین کو حاصل حقوق کی سطح کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہاکہ چترال میں خواتین کو ووٹ دینے پر پابندی کبھی نہیں لگائی اور نہ ان کو تعلیم کے حصول میں کسی رکاوٹ کا سامنا ہوا جبکہ چترال میں بچیوں کی سکولوں میں انرولمنٹ کی سوفیصد شرح کو حوصلہ افزا قرار دیا گیا اور موجودہ وقت میں کئی ہونہار طالبات کی ملکی اور بیرونی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کو چترال میں خواتین کوحاصل حقوق کا ثبوت قرار دیا۔ اس موقع پر حکومت کی طرف سے خواتین کو بااختیار بنانے کے سلسلے میں حکومتی اقدامات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا جن سے چترال کی خواتین بھی مستفید ہورہی ہیں جن سے خواتین کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔ مقررین نے خواتین کو بااختیار بنانے کے سلسلے میں ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ کمیٹی فار سٹرنتھیننگ آف ویمن کے قیام کو نہایت مفید قرار دیا۔ ضلع ناظم مغفرت شاہ نے کہا کہ چترال کی ترقی کے لئے ضلعی حکومت کی کوششوں سے عنقریب شروع ہونے والی پانچ ارب روپے مالیت کی چترال گروتھ اسٹریٹیجی میں خواتین کی ترقی کے لئے خاطر خواہ حصہ رکھا گیا ہے جوکہ اپنی نوعیت کا پہلا ترقیاتی پروگرام ہے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ قوم کی کردار سازی میں اپنے کردار کو پہچان لیں اور اسے نبھانے کی کوشش بھی کریں۔ اس موقع پر زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایان کارکردگی کا مظاہر ہ کرنے والے خواتین میں شیلڈ بھی تقسیم کئے گئے جن میں اقلیتی کالاش خواتین بھی شامل تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments