گلگت بلتستان میں بھارت کی سازشوں کا جال

ڈاکٹر اعزاز احسن

گلگت بلتستان جہاں جغرافیائی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے وہاں اس کی معاشی اور ثقافتی اہمیت اور تقسیم بھی مسلمہ ہے ،رنگ برنگ کی تہذیب و ثقافت اور مسلکی تقسیم جہاں اس علاقے کو انفرادیت بخشتی ہے وہاں دشمن اس تقسیم کو اپنے مقاصد کے لئے بھی استعمال کرتا ہے ،بدقسمتی سے گزشتہ ایک طویل عرصے سے دشمنوں نے جہاں ایک طرف پاکستان کے اہم صوبے بلوچستان کی قومی تقسیم کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا وہاں گلگت بلتستان کی مسلکی تقسیم کو بھی اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا ،مذہب دنیا میں ہر انسان کی بنیاد ہوا کرتی ہے ،مذہب و مسلک کے معاملے میں ہر انسان کا جذباتی ہونا فطری امر ہے اس فطری کمزوری کو دشمن اکثر اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے لیکن جیسے جیسے جن علاقوں میں تعلیم و شعور کا سفر عام ہوتا ہے وہاں وہاں مذہب و مسلک کو استعمال کرنا دشمن کیلئے دشوار ہوتا ہے وہاں دشمن اپنے طریقے تبدیل کرتا رہتا ہے ،بھارت چونکہ چانکیہ کے مکارانہ اور انتہائی شاطرانہ فلسفے پر قائم ہے جس کی بنیاد ہی دھوکے پر قائم ہے اور بھارت نے روز اول سے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ہے اس لئے سازشوں اور اوچھے ہتھکنڈوں سے آج بھی اپنے مفادات کے لئے اوچھی حرکتوں سے بعض نہیں آیا ہے ،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے شروع ہونے کے بعد تو اس کی سازشوں میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے ہے ،بھارت نے پاکستان کے دو اہم علاقوں بلوچستان اور گلگت بلتستان کو اپنے نشانے پر رکھا ہے اور اپنے نمک خواروں کو استعمال کر کے جہاں بلوچستان میں علاقائی ،لسانی اور قومی تقسیم کی خلیج کو وسیع کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے وہاں گلگت بلتستان میں ایک طرف مسلکی تقسیم کو اپنے لئے کار آمد بنانے کے لئے مصروف عمل ہے وہاں نوجوان نسل کو پاکستان سے سیاسی طور پر متنفر کرنے کے لئے وفاقی پرست جماعتوں سے نفرت پیدا کرنا چاہتا ہے اس ناپاک مقصد کے لئے سب سے آسان محاز اس نے سوشل میڈیا کو بنایا ہے اس محاز پر اسے آسانی سے ایجنٹ مئسر آتے ہیں بالخصوص ملک سے باہر مقیم ننگ وطن چند ٹکوں کے عوض سوشل میڈیا میں طوفان بد تمیزی برپا کرتے ہیں دوسری طرف بہت ہی منظم انداز میں بھارت گلگت بلتستان کی نوجوان نسل میں احساس محرومی پیدا کر کے پاکستان کے خلاف اکسانے کیلئے کام کر رہا ہے اس ناپاک مقصد کا محاز بھی سوشل میڈیا ہے جس کا تیزی سے استعمال کر رہا ہے ،بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے قومی حقوق کے نام پر کچھ ننگ وطن غیر محسوس طریقے سے بھارت کے مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہیں ،گلگت بلتستان میں شعیہ سنی خلیج سے فائدہ بھارت نے خوب لیا اسی مسلکی تقسیم کے نام پر بہت عرصے تک گلگت بلتستان میں بھائی بھائی کا دشمن بنا ،خون خرابہ ہوا لیکن گلگت بلتستان کے با شعور عوام اس سازش سے آگاہ ہوئے اور امن کے لئے آگے بڑھے بہت ساری قربانیوں سے گلگت بلتستان کا امن بحال ہوا ،گزشتہ کئی برسوں میں گلگت بلتستان میں امن سے جہاں اس علاقے کی رونقیں بحال ہوئیں وہاں اس علاقے کی طرف پوری دنیا کے سیاح متوجہ ہوئے جس وجہ سے علاقے کی معیشت میں بہتری ہوئی ،عوام کی زندگیوں میں واضح تبدیلی واقع ہوئی ،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد گلگت بلتستان کی اہمیت اور زیادہ اجاگر ہوئی ،یہ تمام مثبت تبدیلیاں بھارت کے لئے تکلیف دہ اور اس کے مفادات کے خلاف تھیں اور بالخصوص پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھارت اپنی لئے تباہی کا منصوبہ تصور کرتا ہے اس منصوبے کی ناکامی کیلئے بھارت بلوچستان سے گلگت بلتستان تک ناپاک سازشوں میں مصروف عمل ہے ۔گلگت بلتستان میں چونکہ مسلکی تقسیم سے بہت عرصے تک بھارت نے فائدہ اٹھایا ہے اس لئے اب بھی یہی تقسیم اس کے فائدے میں ہے اس لئے بھارت جہاں گلگت بلتستان میں نوجوان نسل کے زہنوں میں سیاسی محرومی کو بسا کر پاکستان سے نفرت کے بیچ بونا چاہتا ہے وہاں مسلکی تقسیم کو اپنے لئے کا رآمد بنانے کیلئے بھی مصروف عمل ہے ،بھارت نے بہت بھاری رقم اس مقصد کے لئے مختص کی ہے کہ گلگت بلتستان میں پہلے کی طرح مسلکی فسادات کروائے جائیں اور دوسری طرف علاقہ پرستی اور قوم پرستی کو عروج دیا جائے ،بھارت کی ایجنسی ،را،اس کے لئے سوشل میڈیا کااستعمال اپنے کارندوں کی مدد سے کر رہی ہے ،سوشل میڈیامیں بہت تیزی سے جہاں مسلکی تقسیم اور گستاخانہ پوسٹیں کی جاتی ہیں اور گلگت بلتستان کے کچھ ننگ وطن گلگت بلتستان کے قومی حقوق کے نام پرپاکستان سے نفرت کے بیچ بو رہے ہیں،اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام دشمن کی ان سازشوں کو سمجھیں اور جہاں سوشل میڈیا میں پلانٹڈ مذہبی پوسٹیں کرنے والوں کو مسترد کریں وہاں نوجوان نسل میں ایک سازش کے زرئعے سیاسی محرومی پیدا کرنے والوں کو بھی مسترد کریں ،

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments