خوشبوؤں کی زمین دیوسائی حکومتی توجہ کی منتظر

ڈاکٹر عبد الحلیم صدیقی

دیو سائی گلگت بلتستان میں ضلع سکردو اور ضلع استور کے درمیان بلند اور وسیع سطح مرتفع کا نام ہے۔ اس علاقے کی سطح سمندر سے اوسط بلندی 4144 میٹر (13،500 فٹ) کے لگ بھگ ہے اور اس کا رقبہ تقریبا 3000 مربع کلومیٹر (1200 مربع میل) ہے۔مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے خوبصورت ترین لمحات دیوسائی اور دیوسائی کے ریچھوں بشمول لوکل کمیونٹی کو دنیا کے سامنے لانے کیلئے صرف کئے ،میری طویل جدو جہد ایک الگ اور سسپنس سے بھری داستان ہے وہ داستان عنقریب کتاب کی صورت میں قارئین کے سامنے آئے گی آج کی نشست میں مقصود اپنی ریسرچ اور جدو جہد بیان کرنا نہیں بلکہ قارئین کو یہ بتانا مقصود ہے کہ ہم بے خبری میں اپنا ماحول بھی تباہ کر رہے ہیں اور دوسری طرف جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں،دیوسائی کو نیشنل پارک کا درجہ دلوانے میں ابتدائی جدو جہد میں ہی شامل تھا میں نے تقریبا پوری دنیا کے جنگلی حیات کے ماہرین کو مدعو کیا اور حکومتی اداروں کی توجہ مبذول کرائی تو 1993 میں حکومت کی جانب سے دیوسائی کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ قدرتی حیات اور حسن سے مالا مال یہ خطہ پاکستان کے چند مشہور ترین نیشنل پارکس میں شامل ہے۔۔ دیوسائی کے وسیع میدان پر ایک نظر ڈالیں تو طرح طرح کے رنگین پھول اور ان میں اکثر مقام پر اپنے پچھلی ٹانگوں پر کھڑے اور بازوؤں کو سینے پر باندھے سنہری گلہریاں آپ کا استقبال کرتی ہیں اور ان کی سیٹیاں اپنے ہونے کا احسا دلاتی ہیں ۔دیوسائی نیشنل پارک میں ہزاروں کی تعداد میں ادویاتی جڑی بوٹیاں، انواع واقسام کے جنگلی پھول اور نایاب جنگلی حیات بھی پائے جاتے ہیں۔ جبکہ ہمالین بھورے ریچھ کی موجودگی پارک کی اہمیت کو مزید دو چند کر دیتی ہے

پورے سنٹڑل ایشیا میں بھورے ریچھوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جتنے دیوسائی میں موجود ہے 1992جس وقت ہم نے ریچھوں پر ریسرچ کا آغاز کیا تھا اس وقت سولہ ریچھ تھے آج اٹھارہ برس گرزنے کے بعد اب 75 بھورے ریچھ ہیں ،دیکھا جائے تو اتنے عرصے میں نسل جس طرح بڑھنی چاہئے تھی وہ تو نہیں ہے مگر مایوس نہیں لیکن مجھے دکھ اس بات کا ضرور ہے کہ جس طرح ہمارے دور میں کام ہورہاتھا وہ کام آج نہیں۔ انتظامیہ کی سستی اور لاعلمی کا یہ عالم ہے کہ میں جب وہاں انتظامات سمبھال تھاتو کئی غیر قانونی شکاریوں اور مختلف غیر قانونی کام کرنے والوں کو سزائیں دلوائیں لیکن آج دیوسائی نیشنل پارک میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے زمہ دار ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں پوری نہیں کر رہے ہیں جس وجہ سے نہ تو ریچھ محفوظ ہیں اور نہ ہی نایاب پرندے ،میرے دور میں سختی اتنی زیادہ تھی کہ ہر سال دو سے چار شاہین پکڑنے والے سمگلروں اور ریچھ کے شکاریوں کو پکڑ کر سزائیں دلوائیں تھیں لیکن گزشتہ اٹھارہ برسوں میں نہ کوئی شاہین کاسمگلرپکڑا گیا ہے اور نہ کسی کو سزا ملی ہے اور نہ ہی ریچھ کو مارنے والا شکاری پکڑا گیا جبکہ سیاحوں کا آنا جانا بڑہ گیا ہے اس کے باوجود بھی ایک بھی خلاف ورزی بھی ریکارڑ پر نہیں آئی تو اس کا مطلب تو یہ ہو سکتا ہے کہ یا تو یہاں کی انتظامیہ اس قدر ایماندار ہو گئی ہے کہ کسی میں اتنی جر ات نہیں ہے کہ خلاف ورزی کرے اوریا پھر انتظامیہ لمبی تان کر سو گئی ہے یا مال و زر کی ہوس میں اندھی ہو گئی ہے کہ اسے سب اچھا نظر آتا ہے۔یہاں کی انتظامیہ میں سیاسی اثرات اتنے زیادہ ہیں کہ پارک کے سٹاف میں سینئر کو جونئر بنا دیا گیا اور جونئر کو سینئر بنا دیا گیا ہے ،غیر تجر بہ کار اور جنگلی حیات سے بھی شناسائی نہ رکھنے والے عہدوں پر براجمان ہیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے قومی اثاثے کی حفاظت کا کیا عالم ہو گا۔جو تجربہ کار ریسرچر تھے انہیں کھڈے لائین لگا دیا گیا اور منظور نظر غیر تجربہ کار سیاسی پیاروں کو نوازا گیا ۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ ریچھوں کے تحفظ کیلئے دیوسائی کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا ہے اس علاقے میں محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے زمہ داران کی ملی بھگت سے نو سے دس ٹینٹ ہوٹل کھلے ہیں ایسا دنیا میں کسی نیشنل پارک میں نہیں ہوتا ہے لیکن یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے ،حالانکہ دنیا کے اکثر نیشنل پارکس کا معانہ کر کے باریک بینی سے ریسرچ کر چکا ہوں اس لئے دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کے نیشنل پارکس کے ماہرین دیوسائی نیشنل پارک کی حالت زار اور انتظامیہ کی لا پرواہی کو دیکھیں گے تو ان کے پاس سوائے سر پر ہاتھ رکھ کر رونے کے اور کوئی چارہ نہیں ہوگا،۔موسم گرما میں افسران بالا کے رقعے ان کے مہمانوں کے ہاتھوں ملازمین تک پہنچتے ہیں تو محدود ملازمین ان کی مہمان داری میں مصروف ہوتے ہیں ایسے میں یہ محدود ملازمین سیاحوں کی طرف سے پھیلائی گئی گندگی کو صاف کریں گے ،یا مچھلی کا شکار کرنے والوں پر نظر رکھیں گے یا کور ایرایا جہاں ریچھوں کے لئے جگہ مختص کی گئی ہے اس کی حفاظت کریں یا ریسرچر اورروزانہ سیاحوں کو گائیڈ کریں گے یا ریچھوں کی مردم شماری کریں گے الغرض انتظامی سطح پر سستی ،کاہلی اور اقربہ پر وری کی وجہ سے دیاسائی نیشنل پارک کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے اس کا اندازہ شاید حکام بالا کو نہیں۔موسم گرما میں آنے والے سیاح کو بہتر طریقے سے گائیڈ کرنا ناممکن ہے جس کا اندازہ یاتو ایک علم و شعور رکھنے والا شخص یا قدرتی حیات سے پیار کرنے والا شخص ہی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس نایاب میدان دیوسائی میں نیشنل پارک کے نام پر کیا ہو رہا ہے اگر اس اثاثے کی فکر ہوتی تو یہ حالت نہ ہوتی،ہیلی کاپٹروں کی نچلی پروازوں سے بھی اؤریچھوں کے لئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ہیلی کاپٹر کی نچلی پرواز سے نہ صرف جنگلی حیات پریشان ہوتی ہے بلکہ جانوروں کی رہنے کی مخصوص جگہیں ہوتی ہیں اور ان کی حدود میں رہ کر پھلتے پھولتے ہیں اور ایسے جانور اپنی مخصوص جگہ تب تک نہیں چھوڑتے ہیں جب تک یا تو اس کی خوراک میں کمی نہ ہو یا کوئی اور طاقت ور جانور ان کی جگہ پر قابض نہ ہو یا کسی اور وجہ سے تنگ نہ ہو ،ریسرچ کرنے والوں کیلئے ایسا وقت بہت ہی مشکل ہوتا ہے جب جانور اپنی جگہ چھوڑ دیں مردم شماری کے وقت ریسرچر درست رپورٹ نہیں دے سکتے ہیں ایک جانور کئی برسوں کی پرورش سے پھلتا پھولتا ہے لیکن انسان کی غلطی سے آپ خود اندازہ لگائیں کہ ان نایاب جانوروں اور پودوں پر کیا گزتی ہوگی،زندہ اور کامیاب قومیں اپنے قدرتی وسائل ،نایاب ذخائر اور حساس اثاثوں کی حفاظت کر کے ہی دنیا میں اپنا مقام بناتیں ہیں ،سیاحوں کے لئے زون ،ٹائمنگ اور اصول و ضوابظ اور نیشنل پارکس کے قوانین ہوتے ہیں کہ کوئی بھی سیاح نہ تو کسی پودے کو توڑ سکتا ہے اور نہ کوئی ایسا کام کر کر سکتا جس سے جنگلی حیات کی زند گیوں میں خلل پیدا ہو لیکن کیا ہے کہ سستی اور کاہلی کا یہ عالم ہے کہ کھلے اور غیر معیاری گندگی کو محفوظ کرنے والے کچرہ دان سے ریچھ گندگی کھانے کی عادی ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ہونے پر سیاحوں کے کیمپ میں اکثر گندگی کی تلاش میں ریچھ آ دھمکتے ہیں ،سیاحوں کو بتایا نہیں جاتا ہے کہ سامان اور گندگی کو کس طرح محفوظ کرنا ہے ،گندگی کے کچرہ دان بھی محفوظ نہیں ریچھ جس وقت چاہے کچرہ دان سے کچہرہ ٹتول کر کھا سکتا ہے ،ریچھوں کی رہنے والی جہگوں پر مخصوص ایریا میں کچرہ دان ایسا ہوتا ہے کہ وہاں سے کسی قسم کی خوشبو خارج نہ ہو لیکن دیوسائی میں ایسا کوئی انتظام نہیں ،ریچھ کے سونگھنے کا عمل باقی جانوروں سے کئی گناہ زیادہ ہوتا ہے ،اس میں سونگنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے ۔

بغیر ڈھکن کے کچرہ دان ہیں ریچھ اآسانی سے اسے ٹٹولتا ہے او راپنے پسند کی اشیا کھا جاتا ہے ، افسوس کا مقام تو یہ بھی ہے کہ ریچھوں نے متعد بار ٹینٹ نما ہوٹلوں اور غیر محفوظ کچرہ دان پر حملہ بھی کیا اور انسانوں کی خوراک کھایا جس سے ریچھوں کے پاخانے میں پلاسٹک اور دوہ د کے ڈبے بھی دیکھنے کو ملے، اس کے علاوہ خانہ بدوشوں کی آمد اور اخراخ اور ان کی رہائش کے علاقوں کو مخصوص کرنے کے علاوہ دیگر طریقوں پر کوئی کام نہیں کیا جاتا ہے جس سے جنگلی حیات کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ خانہ ندوشوں کی آمد اور اخراج کا وقت کاتعین ہو تا کہ نیشنل پارک کے اہلکار جنگلی حیات کا تحفظ کر سکیں ،،،

دنیا کے ہرنیشنل پارکس میں کچھ علاقے ایسے ہوتے ہیں جوعام سیاحوں کیلئے ممنوع ہیں کیونکہ ان علاقوں میں انسانوں کی آمدو رفت سے جنگلی حیات کو خطرہ ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے انتظامیہ کے نچلے اہلکار جو کم تجربہ کار اور کم پڑھے لکھے ہیں اس لئے پی ڈبلیو ڈی کے آفیسران ،اور دیگر اداروں کے اہلکار یہ کہہ کر ان علاقوں سیر و تفریح کے لئے جاتے ہیں کہ روڑ سروے کر رہے ہیں یا کوئی اور سروے ہو رہا ہے اس سلسلے کو بند ہونا چاہئے،دیوسائی نیشنل پارک کے ملازمین کی اب تک پروفیشن ٹرینگ نہیں ہوئی اور نہ ہی سائنٹفک طریقے سے تربیت ہوئی ہے اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دنیا میں ہر نیشنل پارک میں یہ طریقہ کار موجود ہے کہ ہر ماہ اپنے ملازمین کی تربیت کے لئے گاہے بگاہے تربیتی نشستوں کا انعقاد ہوتا ہے لیکن کیا عجب ہے کہ دیوسائی نیشنل پارک ہے جہاں اتنے خطرناک مشن پر تعنیات اہلکاروں کی کئی برسوں سے کوئی تربیت نہیں ہوئی ہے ،اس شعبے میں میری طویل جدو جہد اور ریسرچ ،امریکہ۔کنیڈا،میکسکو،ساوط افریقہ ،سپین ،آئر لینڈ ،ناردرن آئر لینڈ،سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کے اکثر نیشنل پارکس میں ریسرچ ورک اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے کام کرتا ہوں ہوں اپنے طویل تجربے کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر حکومت نے بروقت دیوسائی پر توجہ نہ دی تو ہم اپنے اس قیمتی اثاثے سے محروم ہوں گے ،دنیا کا واحد نیشنل پارک دیواسائی ہے کہ جہاں نایاب ،حساس،اور منفرد قسم کے جا نور حشرات اور پودے ہیں ان کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کرنا میری دلی خواہش ہے میں اپنی بساط کے مطابق جدو جہد کر رہا ہوں کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ یہاں کی مقامی آبادی میں شعور و آگاہی کیلئے بغیر کسی معاضے کے کام کر رہا ہوں دیو سائی نیشنل پارک کیلئے میری جدو جہد تو تاریخ کا حصہ بن چکی ہے لیکن مقامی آبادی کیلئے کام اکثر کرتا رہتا ہوں ان علاقوں میں بہت دفعہ بغیر کسی حکومتی وسائل کے میڈیکل کیمپ اور مقامی عوام کی سہولتات اور تعلیمی اداروں میں جنگلی حیات کے حوالے سے شعور بیدار پیدا کرنے کے لئے کردار ادا کرتا رہاں ہوں اور یہ میں اپنا فرض تصور کرتا ہوں ،یہ کام حکومت کا ہے حکومت وقت کے تعاون کے بغیر میرے لئے اکیلے ممکن نہیں میرا خواب ہے کہ دیوسائی نیشنل پارک کی جنگلی حیات محفوظ اور دنیا کی توجہ اس طرف ہو تاکہ یہاں کے ارد گرد علاقوں کے رہنے والے لوگوں کی معاشی تقدیر بدل سکے۔اس کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ذمہ دار حکام کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی،ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اس قومی اثاثے کو ایسے محفوظ اور دنیا کے لئے پر کشش بنائیں کہ ہماری آنے والی نسلیں اس قومی اثاثے پر فخر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments