انسانی صحت کا گمنام محسن ۔۔۔ڈاکٹر کفایت اللہ 

تحریر:مجیب الرحمان

شیلف سے ادویات کی ایک ایک ڈبی اٹھانا اور اس پر جمی گرد کو ہاتھوں سے ہی جھاڑ کر بیچ نمبر اور ایکسپائری مینوفیکچرنگ ،بوتلوں میں موجود محلول کو روشنی کی جانب کر کے باریک بینی سے جائزہ لینا ان کا مشغلہ بن چکا تھا۔

مشکوک ادویات کے سیمپل حاصل کرکے پھر اسے لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے بھجوانا ،غیر معیاری ہونے کی صورت میں ان ادویات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد اور بھر پور قانونی کاروائی کرکے سزائیں دلوانا اپنا فرض سمجھنے والے

جی ہاں!یہ تھے انسانی صحت کے گمنام محسن ڈاکٹر کفایت اللہ جنہوں نے کبھی خودنمائی کی اور نہ ہی اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ کیا۔یہی وجہ ہے کہ آج گلگت بلتستان کو غیر معیاری ادویات سے پاک اور بے مثال خطہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔کیوں نہ ہو اس میں گلگت بلتستان کے نامور سپوت کی دن رات کی بے لوث محنت،ایمانداری اور خون پسینہ شامل ہے۔

چند انسانیت دشمن عناصر نے غیر معیاری، ان رجسٹرڈ اور بغیر بل وارنٹی کے ادویات کی خرید و فروخت کی کوشش بھی کی۔مگر اس کوشش کو اسی وقت ہی ناکام بنا دیا اور متعدد کمپنیوں کو بند کروایا اور ان کے کارندوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔کم اور محدود وسائل کے باوجود تن تنہا ادارے کومضبوط اور فعال بنایا ۔تمام اضلاع میں چیک اینڈ بیلنس کی خاطر ڈرگ انسپکٹرز کی ضرورت محسوس کی اور ذاتی دلچسپی سے ہر ضلعے میں ڈرگ انسپکٹرز تعینات کئے۔اور ان کی کارکردگی کا لمحہ بہ لمحہ جائزہ لیتے رہے۔ صرف ڈرگ انسپکٹرز پر ہی اکتفا نہیں کر لیاخود ہی وقتاً فوقتاً میگا انسپکشن کی۔

کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کے معیار کا بروقت اندازہ لگانے کی ضرورت محسوس کی ۔اپنی تمام تر توانائیاں فوڈ اینڈ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کے لئے صرف کیں۔با لآخر ان کی محنت رنگ لے آئی گلگت میں لیبارٹری کا قیام عمل میں آیا۔اور کچھ روز قبل وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے باقاعدہ افتتاح بھی کیا۔

گلگت بلتستان میں فارمیسی کونسل کے قیام کے لئے بھی طویل جدوجہد کی۔اس میں کامیابی حاصل کر لی اور فارمیسی کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام امتحانات کا انعقاد گلگت میں کروایا اور کامیاب افراد کو فارمیسی کونسل کے لائسنس مہیا کئے۔ اب گلگت بلتستان کے سینکڑوں افراد ملک کے دیگر شہروں اور بیرون ملک روزگار کما رہے ہیں۔

ملک کے بعض شہروں سے لائی جانے والی ادویات کے حوالے سے عوام میں بے چینی پائی جا رہی تھی۔اس بے چینی کے خاتمے کے لئے ادویات سپلائیرز اور ہول سیلرز کو پابند کیا کہ ہر ضلعے میں مستند اور معروف کمپنیز کی ڈسٹری بیوشنز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ان کی محنت کی بدولت آج گلگت بلتستان میں ادویات کی متعدد ڈسٹری بیوشنز موجود ہے۔جہاں ڈائریکٹ کمپنیوں سے ہی سٹاک اور وہاں سے مارکیٹ کے لئے سپلائی جا ری ہے۔

ادویات کی سٹوریج مناسب درجہ حرارت میں نہ ہونے کی وجہ سے ادویات کے معیار پر اثر پڑنے کے خدشے کے پیش نظر تمام اضلاع کے ڈسٹری بیوٹرز کو پابند کیا کہ ڈبلیو ایچ او کے معیار کے مطابق سٹوریج یقینی بنائی جائے۔ان کی مخلصانہ کوششوں سے وئیر ہاؤسز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔رہنے والے چند اضلاع میں بھی اب وئیر ہاؤسز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ تمام میڈیکل سٹورز میں درجہ حرارت کو برابر رکھنے اور گرمی سے بچانے کے لئے ائیر کنڈیشنڈ کی تنصیب یقینی بنائی۔

نارکاٹکس اور نشہ آور ادویات کی خرید و فروخت روکنے کے لئے بھی مؤثر حکمت عملی اپنائی تھی ۔اور تمام میڈیکل سٹورز میں نارکاٹکس رجسٹر فراہم کئے تھے جن میں قواعد و ضوابط کے مطابق تمام اندراج مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹری نسخے پر ہی فراہمی کی اجازت تھی۔اور باقاعدگی سے ڈرگ انسپکٹرز یا کود ہی اس کی چیکنگ کیا کرتے تھے۔

میڈیکل سٹورز پر غیرمتعلقہ افراد، سیلف پریکٹس ،عطائیوں اور درج قیمت سے زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن ان کا شیوہ تھا۔کسی کی مجال ہی نہیں تھی کہ کوئی غیر قانونی حرکت کرے اور انسانی جانوں سے زیادتی کی کوئی کوشش کرے۔

پرائیویٹ میڈیکل سٹورز ہوں یا سرکاری ہسپتالوں میں دی جانے والی ادویات،کوئی بھی ایسی دوائی نہیں جس پر نظر نہ ہو۔باقاعدگی سے لیبارٹری ٹیسٹ اور غیر معیاری ہونے پر کیسز رجسٹرڈ نہ ہوں۔اب بھی بے شمار کیسز ڈرگ کورٹ میں چل رہی ہیں۔

انسانیت کے ساتھ زیادتی کی کوئی کوشش کامیاب ہونے نہیں دی۔ہمسایہ ملک سے غیر رجسٹرڈ ادویات کی کھیپ گلگت بلتستان پہنچنے کی اطلاع موصول ہوئی ایف آئی اے کے تعاون سے اس کوشش کو اسی وقت ناکام بنائی۔سادگی کی انتہاء تھی سیکریٹری کی پوسٹ پر ہونے کے باوجود گھر سے دفتر پیدل چل کر آتے تھے۔کبھی سرکاری خزانے پر غیر ضروری بوجھ نہیں بنے۔

بظاہر ڈاکٹر کفایت اللہ کا سایہ ہمارے سروں سے اٹھ چکا ہے مگر انہوں نے جس طرح سے ڈرگ کنٹرول محکمے کی آبیاری کی ہے صدیوں تک اس محکمے کی کارکردگی بہتر انداز میں چلے گی۔ان کی آخری حسرت تھی کہ ان کے ڈرگ انسپکٹرز جو عارضی خدمات سر انجام دے رہے ہیں وہ جلد سے جلد مستقل ہوں۔تاکہ گلگت بلتستان کی عوام انسانی جانوں سے زیادتی کرنے والے موت کے سوداگروں کی شر سے بہتر انداز میں محفوظ رہ سکیں۔امید ہے ارباب اختیار ان کے وژن کو عملی جامہ ضرور پہنائیں گے۔

ڈاکٹر کفایت اللہ تمام ہیڈ آف ڈپارٹمنٹس کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ محض اپنی تنخواہ اور پروٹوکول کی حد تک کبھی محدود نہ رہے۔اور نہ ہی کبھی وسائل کی کمی کو بہانہ بناکر اپنی ذمہ داریوں سے عاری رہے۔پوری زندگی خلوص نیت کے ساتھ گلگت بلتستان میں جعلی ادویات کی روک تھام کے لئے مسلسل جدو جہد کرتے رہے۔جہاں جس فورم میں گئے وہاں عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کی بات کی۔

مرحوم چیف ڈرگ کنٹرولرڈاکٹر کفایت اللہ کے احسانات اور اقدامات کی فہرست بہت طویل ہے۔ان کے اقدامات کا احاطہ ایک معمولی کالم یا تحریر میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ان کی رحلت پوری قوم کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ان کی کمی سدا محسوس ہوتی رہے گی۔موت برحق ہے ہر ذی روح نے موت کا پیالہ ضرور پینا ہے۔دعا گو ہوں اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ان کے لواحقین کو صدمہ سہنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور ان کا مشن جاری و ساری رہے !آمین۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments