تاجر برادری کا امتحان

شمس الرحمن تاجک
چترال بازار دنیا کا نواں عجوبہ ہے۔ ہم جب 2006 میں اس بازار میں آئے تو لگا کہ ہم قدیم افریقہکے کسی دیہاتی بازار میں آگئے ہیں جہاں انسانی زندگی کے لئے صرف ہوا میسر تھی۔ باقی ضروریات کے لئے آپ پیسے خرچ کرکے بھی کچھ حاصل کرنے سے قاصر ہی رہتے تھے۔ مزید معلومات لینے پر پتہ چلا کہ بازار کی یہ حالت کوئی نئی نہیں اور نہ ہی کسی کو اس سے کوئی سروکار ہے کہ بازار کی حالت تبدیل کرنے پر توجہ دے۔ چترال باآر کے کاروباری افراد اور ان کے نمائندے سہولیات سے عاری بازار کے اتنے زیادہ عادی ہوگئے تھے کہ ان کو یہ تک یاد نہیں رہا کہ بازار میں کون کونسی سہولیات موجود ہیں اور کونسی نہیں۔
ہر شعبہ زندگی کی طرح بازار میں کاروبار کرنے والے افراد بھی انتہائی معزز اور معزز پیشے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی عزت نفس اور ان کے لئے سہولیات کی فراہمی حکومت اور بازار سے متعلقہ یونینز اور دوسرے اداروں کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ چونکہ بازار چترال پورے ضلع کا واحد ایسا بازار ہے جہاں پر ضلع کے پسماندہ اور سرحدی علاقوں سے لے کر چترال شہر کے تمام علاقوں سے لوگوں کا آنا جانا مستقل بنیادوں پر جاری رہتا ہے اس لئے حکومت اور بازار یونین کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ بازار میں کاروبار کرنے والے افراد کی تمام ضروریات کا خیال رکھیں۔ ان کو عزت دیں تاکہ وہ بازار آنے والے افراد کی عزت کریں۔ آپ اگر بازار میں کاروبار کرنے والے افراد کو جانوروں سے بھی بدتر سمجھیں گے تو کاروباری افراد بھی بازار آنے والے عام عوام کو اسی نظر سے دیکھیں گے۔ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے چترال بازار میں کاروبار کرنے والے افراد کو کوئی بھی انسان سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔ آپ بازار جائیں تو وہاں پر بنیادی انسانی سہولیات کا فقداں نظر آرہا ہوتا ہے۔ آپ بنیادی انسانی ضرورت یعنی لیٹرین کو ہی لے لیں۔ پورے چترال بازار میں لیٹرین کی عدم دستیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہم بازار میں کاروبار کرنے والے افرادکو انسان نہیں سمجھتے۔ باقی ضروریات زندگی کو ایک طرف رکھ کر بھی آپ اس واحد انسانی ضرورت کو مد نظر رکھیں گے توتاجر برادری کی نمائندگی کرنے والے افراد کی بے حسی اور اس کے نتیجے میں انتظامیہ کی خاموشی کا پتہ چل سکتا ہے۔

گزشتہ کئی سالوں سے میڈیا میں ہم صرف ایک فرد بشیر حسین آزاد کو بازار، کاروباری افراد اور بازار میں آنے والے عام عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ چاہے وہ بجلی کا مسئلہ ہو، پانی کا مسئلہ ہو، واش رومز کا مسئلہ یا بازار آنے والے افراد کو سہولیات فراہم کرنے کا مسئلہ۔ وہ مسلسل اور توانا انداز میں ان تمام مسائل کیلئے آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ ان کی خبریں قومی میڈیا میں چترال بازار کے حقوق کے لئے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کررہے ہوتے ہیں۔ وہ مسلسل اپنے مضامین کے ذریعے بھی بازار کے مسائل مقامی اور قومی میڈیا میں اٹھا رہے ہیں۔ کئی دفعہ میڈیا کی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ میٹنگز میں بھی وہ بازار کے مسائل کو بہت زیادہ شدومد کے ساتھ اٹھایا ہے۔ وہ نہ صرف میڈیا کے ذریعے بازار کے مسائل کو اجاگر کرتے رہتے ہیں بلکہ ان کی آواز مقامی اور قومی سطح پر ایک مستند اور باوقار فرد کے مطالبے کا درجہ رکھتی ہے۔ تاجر دوست پینل کے ذریعے بشیر حسین آزاد کے گروپ کا تجار برادری کے انتخابات میں حصہ انتہائی خوش آئند بات ہے۔ اگر ایک فرد کسی نمائندگی کے بغیر اپنی برادری کے لئے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھا رہا ہے ایسے فرد اور ان کے پینل کو اگر تاجر برادری اپنے نمائندے کے طور چن لیتی ہے تو یہ کاروباری افراد اور عام عوام کے لئے بھی بہترین فیصلہ ہوسکتا ہے۔تاجر دوست پینل کا منشور دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ چترال بازار میں کاروباری افراد اور عام عوام کے لئے کیا کیا تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔ ایسا منشور شاید تجار یونین کے جب سے انتخابات ہورہے ہیں کسی نے نہیں دیا ہوگا۔اس لئے حالیہ انتخابات تاجر برادری کے لئے امتحان کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اب بھی کیا ایسے افراد کا انتخاب کریں گے جنہیں کئی دفعہ نمائندگی دینے کے باوجود وہ نہ تو کاروباری افراد کے حقوق کے لئے کچھ کر سکے اور نہ ہی عوام کو سہولیات دینے میں کامیاب ہوئے اور کیا کاروباری افراد اب بھی پتھر کے دور جیسا بازار جو سہولتوں سے مکمل طور پر مبرا ہے، چاہتے ہیں یا پھر تاجر برادری کی نمائندگی نوجوان اور تعلیم یافتہ لوگوں کے حوالے کرکے اپنی آواز ذمہ داروں تک پہنچانے کا مظبوط بندوبست کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments