بڑے صاحب کی پیش گوئی

چاغی بلوچستان کے سکہ بند بلوچ قبیلے سے تعلق رکھنے والے محمدصادق سنجرانی کو سینیٹ کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے اور جب انہو ں نے حلف اٹھایا کہ میں پاکستان کے اساسی نظریے اور علاقائی سا لمیت کا تحفظ کروں گا۔ ہر حال میں قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دوں گا تو دشمنوں کے منہ پر زوردار طمانچہ مارا گیا۔ پاکستان کے بیرونی دشمنوں کو کرارا جواب مل گیا۔ مجھے علامہ اقبال ؒ کی نظم بڈھے بلوچ کی بیٹے کو نصیحت یاد آئی۔ مفکرِ پاکستان نے کہا تھا ؂

عزت ہے بڑی چیز جہاں تگ و دو میں

پہناتی ہے درویش کو تاجِ سردارا

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد کے ملّت کے مقدر کا ستارا

سینیٹ کے چیئرمین کو صدر مملکت کے بعد دوسرا پروٹوکول حاصل ہے۔ صدر مملکت کی غیر موجودگی میں صدرِ مملکت کے فرائض بھی چیئرمین سینیٹ انجام دیتا ہے۔ ایک ستم ظریف نے سوشل میڈیا میں تبصرہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی کا سپیکر صادق تھا اب سینیٹ کا چیئرمین بھی صادق آیا آگے دیکھنا ہوگا کہ کس صوبے کا ایاز امین صدر کا منصب سنبھالتا ہے اور کس صوبے کا محمد امین وزیر اعظم بن کر صادق اور امین کی آئینی شرط پر ہماری حکومت کو پورا اتارتا ہے۔ بعض ناقدین کہتے ہیں کہ ہم نے صادق سنجرانی کا نام نہیں سنا تھا۔ اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ نے عبد القدوس بزنجو کا نام کب سُنا تھا؟یہ جون 2017ء کی ایک سہ پہر کا واقعہ ہے ۔ چترال کے پرُفضا مقام پر تعزیت کے لئے لوگ جمع تھے۔ ایبٹ آباد سے ’’بڑے صاحب ‘‘ آئے ہوئے تھے۔ بڑے صاحب بہت کم بولتے ہیں۔ اس لئے وہ بولے تو لوگ گوش بر آواز ہوتے ہیں۔ پانامہ کا ہنگامہ گرم تھا۔ کسی نے 2018ء کے انتخابات کا ذکر چھیڑا ۔ چند سیاستدانوں کے نام لئے اُن کو متوقع وزیر اعظم قرار دیا تو بڑے صاحب کی رگِ فصاحت پھڑک اُٹھی ۔ بڑ ے صاحب نے کہا ایسے لوگ حکومت میں آئیں گے جن کا نام کسی نے نہیں سنا ہوگا۔ ایک بزرگ نے سوال کیا کہ شاید معین قریشی اور شوکت عزیز کی طرح باہر سے آئیں گے۔ بڑے صاحب نے کہا وہ لوگ ہمارے درمیاں ہی موجود ہوں گے مگر ہم نے ان کا نام نہیں سنا ہوگا۔ اس پیشگوئی کو کسی نے اہمیت دی یا نہیں مگر سمجھنے والے سمجھ گئے کہ بڑے صاحب کیا کہہ رہے ہیں ۔ پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ہمارے سیاسی بادشاہ گر سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سینیٹ کا اگلا چیئرمین بھی ہمارا ہوگا۔ اس بات کو بھی کسی نے اہمیت نہیں دی۔ زرداری نے ایک نازک موقع پر نوازشریف کا نام لئے بغیر اشارتاََ کہا کہ میاں صاحب کی گردن میں مضبوط سریا ہے۔ اس پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ اُس نے اپنی بیمار بیوی کو ایم این اے اور مفرور سمدھی کو سینیٹر منتخب کرایا جو حلف نہ اُٹھا سکے بھائی کو پارٹی کا سربراہ اور بیٹی کو مستقبل کا وزیر اعظم نامزد کیا تب جا کر ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ ’’ مضبوط سریا‘‘ سے کیا مراد ہے ؟تکبراور غرور کے کتنے نام ہیں ؟آصف زرداری کی تین پیشگوئیاں اور بھی ہیں یہ بھی اخبارات میں آئی ہیں ۔ انہوں نے عمران خان کا نام لئے بغیر کہا تھا کہ نیازی کچے دھاگے سے بندھاہوا میرے پاس آئے گا۔ جب پاکستان تحریک انصاف کے 13ووٹ زرداری کے قدموں میں ڈال دیئے گئے تو یہ پیشگوئی پوری ہوئی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ سیف الرحمن دوبئی آکر میرے پاؤں پڑگیا اب اصلی بالوں والا بھی میرے پاؤں پکڑے گا۔ جب چوہدری نثار علی خان نے پانامہ کیس کا فیصلہ آنے سے 5دن پہلے نوازشریف کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کیا تو اس پیشگوئی کی صداقت کا پہلا اشارہ مل گیا۔’’آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا‘‘اب زرداری کی دو پیشگوئیاں ایسی ہیں جن کا امتحان جولائی 2018ء کے بعد ہوگا۔ انہوں نے پیشگوئی کی ہے کہ اگلے الیکشن میں ایوان صدر کے اندر بھی ہمارا بندہ ہوگا۔ پرائم منسٹر ہاؤس میں بھی ہمارا بندہ ہوگا۔ دیکھئے یہ پیشگوئیاں دن کی روشنی میں دیکھتی ہیں یا نہیں ۔خو ش آئند بات یہ ہے کہ دنیا کے تین بڑے بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ ، ولادیمیر پیوٹن اور شی جن پنگ کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے لئے سینیٹ کے بڑے عہدوں پر ہمارے دو کھرپ پتی بزنس مین صادق سنجرانی اور سلیم مانڈوی والا آگئے ہیں ۔ بڈھے بلوچ کی اپنے بیٹے کو آخری نصیحت یہ تھی ؂

اخلاصِ عمل مانگ نیا گانِ کہن سے

شاہان چہ عجب گر بنوازند گدارا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments