تعلیم قوم کی مجبوری ہے

غیر سرکاری اداروں کا بھلا ہو کہ وہ نجی سطح پر قو م کی خدمت کر رہی ہیں ۔۔چھوٹی موٹی بہت ساری مجبوریاں ان کی مدد سے دور ہو جاتی ہیں ۔۔ملک کے دور افتادہ علاقوں میں ان کے کام قابل تحسین ہیں ۔۔ایس آر ایس پی صوبہ کے پی کے میں مختلف میدانوں میں کام کر رہی ہے ۔۔ان میں زرعی نہریں ،پن بجلی گھر،سڑکیں ،پل اور مہا کام یہ کہ تعلیمی اداروں میں سہولیات مہیا کرنے اور مسائل دور کر نے کے حوالے سے ان کی خدمات اچھی ہیں ۔۔دو سال پہلے ایس آر ایس پی نے چترال کے دور افتادہ علاقہ ارندو یونین کونسل میں مختلف سکولوں میں سہولیات کے حوالے سے بڑے منصوبوں پر کام شروع کیا ۔۔اب ان کی تکمیل کی ہے ۔۔علاقے کے تقریباً سولہ سکولوں میں مختلف مد میں کام ہوئے ہیں ۔۔ان سکولوں میں سات زنانہ پرائمیری ۔۔چھ مردانہ پرائمیری۔۔ایک مڈل سکول اور دو ہائی سکول ہیں ان سکولوں میں اضافی کمرے ، واش رومز،چاردیواری ،حفاظتی تار ،روشنی کے لئے سولر سسٹم ،امتحانی ہال اور پانی کی فراہمی شامل ہیں ۔۔ان پر تخمیناًتیرہ کروڑ روپے خرچ آئے ۔۔یہ سارے منصوبے اس علاقے میں پاک آرمی اور چترال سکاوٹ کی نگرانی اور مدد سے تکمیل کو پہنچے ۔۔ارندو یو سی ایک دور افتادہ اور پسماندہ علاقہ ہے ۔۔یہاں پر ان سارے سکولوں میں اس انداز سے سہولیات مہیا کرنا شاید محکمے کے لئے ممکن نہیں تھا ۔۔ایس آر ایس پی نے بہت اہم کام کیا کیونکہ علاقے میں بہتر تعلیمی سہولیات مہیا کرنے کے لئے اداروں میں سہولیات کا ہونا لازمی تھا ۔۔محکمہ تعلیم اس کے لئے ایس آر ایس پی کو خرا ج تحسین پیش کرتا ہے ۔۔دس مارچ کو ان سارے منصوبوں کا ارندو میں باقائدہ افتتاح تھا ۔۔پروگرام دمیل چھاونی میں منعقد ہونا قرار پایا تھا ۔۔علاقے کے معززیں مدعو تھے ۔۔متعلقہ محکموں کے اعلی آفیسرز مدعو تھے ۔۔پروگرام کا میزبان ایس آر ایس پی تھا ۔۔چیف ایکزکیٹیوشہزادہ مسعود الملک میزبان اعلی اور محفل کے صدر تھے ۔۔جنرل آفیسرز کمانڈنگ آرمی ڈویزن سوات میجر جنرل عامر علی اعوان محفل کے مہمان خصوصی تھے ۔۔محکمہ تعلیم کا ایک اہلکار پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دے رہا تھا ۔۔فوج کی اعلی نظم و نسق تھی ۔۔جوان روایتی چاق و چوبند تھے ۔۔ان کی آنکھوں سے برتری کی چمک آرہی تھی ۔۔ان کی اکھیاں کہتی تھیں کہ ذرا نظم و نسق کا خیال رکھنا ۔۔پنڈال سجا تھا ۔۔مہمان آتے رہے ۔۔ان کا استقبال ہوتا رہا ۔۔محکمہ تعلیم کی طرف سے ڈسٹرک ایجوکیشن آفیسر جناب احسان الحق صاحب ۔۔ڈپٹی ڈی ای او جناب قاری حافظ نور اللہ صاحب ۔۔اے ڈی ای او جناب شہزاد ندیم صاحب ۔اے ڈی ای او محترمہ مہرونساء صاحبہ ۔۔اے ایس ڈی ای او محترمہ عائشہ صاحبہ موجود تھیں ۔۔یہ اس بات کی سند تھی کہ ایس آر ایس پی نے علاقے میں تعلیمی سہولیات مہیا کرنے کی سعی کرکے بہت بڑا کام کیا ہے ۔۔قوم تعلیم سے بنتی ہے ۔۔غیرت سے زندہ رہتی ہے ۔۔تہذیب سے نام پیدا کرتی ہے ۔۔اس محفل میں معماران قوم تاروں کی طرح چمک رہے تھے ۔۔معماراں قوم گلشن انسانیت کے پھول ہوتے ہیں ۔۔زندہ قومیں ان کی خوشبو میں مست مست ہوجاتی ہیں ۔۔ سٹیج پر کرنل عدنان دیر سکاؤٹ ، کرنل فیصل ،کرنل معین الدین چترال سکاؤٹ ،اے سی چترال سجاد نواز ،سی او ایس آر ایس پی شہزادہ مسعود الملک اور پروجیکٹ منیجر ایس آر ایس پی انجینئر خادم اللہ رونق افراز تھے ۔۔۔گو کہ سٹیج پہ عزت ماب جنرل صاحب کے ساتھ ایک معمار قوم کی نشست نہیں تھی ۔۔ایک سرفروش پاسبان قوم کے ساتھ ایک معمار قوم کو بیٹھایا جاتا ۔۔تو محفل کی وہ رونق ہوتی کہ وقت یاد کرتا ۔۔میزبانوں سے شکوہ نہیں شاید اس قوم کے لئے وہ وقت نہیں آیا ۔۔کہ استاد کو وہ مقام دیا جائے ۔۔لیکن قوم کے سر فروش نے چائے کی نشست میں اس کمی کو ان معماراں قوم کے گلے لگ کر پورا کیا ۔۔اور یہ احساس دلایا کہ مجھے جنرل بنانے میں ایک استاد کا کردار ہے ۔۔۔پروگرام مختصر پررونق اور اہم تھا ۔۔دس پنتالیس پہ پروگرام شروع ہوا۔۔تلاوت کلام مجید اور ترجمہ ۔۔قومی ترانہ ۔۔پھر سی او ایس آر ایس کی طرف سے مہمانوں کو چترالی روایتی ٹوپی اور چوغہ پہنایا گیا ۔۔کمانڈانٹ چترال سکائٹ اور مہمان خصوصی چترالی ٹوپی اور چوغے میں چاند لگے ۔۔سی او نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔۔ایس آر ایس پی کی خدمات اور آگے خدمت کرنے کا عزم ۔۔پاک آرمی اور چترال سکائٹ کا شکریہ کہ ان کے تعاؤن سے اس سرحدی علاقے میں کام کرنا ممکن ہوا ۔۔پراجکٹ ڈائریکٹر انجنئر خادم اللہ نے ان پروجیکٹ کا خلاصہ مختصر اور جامع انداز میں پیش کیا ۔۔مہمان خصوصی نے علاقے کے عمائدیں سے وعدہ کیا کہ دروش ارندو روڈ جو نامکمل ہے اس کو مکمل کراؤں گا اور یہ ایک سرفروش کا وعدہ ہے اس میں کمپروامائز نہیں ہو سکے گی ۔۔ آپ نے کہا کہ اس سال چترال کے لئے پچیس کروڑ کی معمولی رقم آرمی کی طرف سے مختص کی گئی ہے اس رقم سے بیس سے پچیس پروجکٹ ممکن ہو سکیں گے پاک آرمی آپ کی خدمت کے لئے ہروقت تیار ہے ۔۔شندور کی فاتح پولو ٹیم کے کھیلاڑیوں کو دس لاکھ روپے کا انعام دیا گیا ۔۔ پھر ان پراجیکٹس کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا ۔۔سٹیج سیکٹری کو آخر میں نعرہ لگانا تھا ۔وہ دعا کے انتظار میں تھا کہ فیتہ کاٹا جائے گا پھر دعا ہو گی پھر نعرہ ۔۔۔میز بان آفیسر کی آنکھوں میں یک دم غصہ اتر آیا کہ نعرہ کیوں نہیں لگا یا جاتا پھر یہ غصہ پیار میں بدل گیا جب جنرل صاحب نے خود دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ۔۔پھر اللہ اکبر کی گونج پاک سر زمین اور پاک آرمی کی تابندگی کے نعرے کے ساتھ پروگرام ختم ہوا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments