گلگت بلتستان کے علمی ہیرو ،پروفیسر عثمان علی مرحوم

قلم کی سیاہی میں روح پھونکنے والے یہ قلمکار بیجان تحریروں میں ایسی جان ڈالتے ہیں کہ صدیوں سے بگڑے معاشروں میں تہذیب و تمدن کے انقلاب برپا ہوجاتے ہیں۔ یہ انقلابی یہ کالم نگار یہ اہلِ دانش حق و صداقت کا پرچم اٹھائے ہر دور میں ظلم و ناانصافی کے خلاف اپنا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ جنکی بدولت آج دنیا میں قومیں زندہ ہیں انقلاب اور انقلابی زندہ ہیں باوقار معاشرہ اور معاشرتی نظام زندہ ہے علم و عقل کے اس فکری اثاثے کو پاکستان میں بھی اُسی طرح قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیئے جس طرح دیگر ترقی یافتہ ممالک میں کالم نگاروں کو قدرو منزلت کے اعلی مقام پر فائز کر کے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ ہر سطح پر ان کی پذیرائی کی جاتی ہے۔

گلگت بلتستان کے اونچے کو ہسہاروں. مثل ارم وادیوں.گنگناتی آبشاروں.پہاڑوں کو چیرتے دریاؤں. اونچے میدانوں. اور خوبصورت نظاروں کے دامن میں جہاں ہیرے اور جواہرات کی بہتات ہے وہاں علم و ادب کے خزینے بھی اپنی پوری علمی آب و تاب سے قوم کو علم و فن کی روشنیوں سے آشنائی دہے رہے ہیں.علم و ادب کے ان خزینوں میں اک خزینہ جس نے اپنی عمر کی بہاریں گلگت بلتستان کے لئے وقف کیں وہ ممتاز مورخ ادیب اور استاد مرحوم پروفیسر عثمان تھے ۔

پروفیسر عثمان نے گلگت بلتستان کی تاریخ کے گمشدہ اوراق کو تلاش کر کے ایک سے بڑھ کر ایک تاریخ کی کتاب تخلیق کر کے نہ صرف تاریخ کی تصحیح کی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے علم و ادب کے گنجینے مرتب کیے ہیں.پروفیسر عثمان نے نہ صرف گلگت بلتستان کی تاریخ پر مستند درجنوں کتابیں لکھیں ہیں بلکہ گلگت بلتستان کی تاریخی حیثیت اور آئنی شناخت کے حوالے سے بھی قوم کے شعور کو بیدار کیا.گلگت بلتستان کی تہزیب و ثقافت نقوش پارینہ اور شینا زبان کے حوالے سے بھی بہت عمدہ اور مستند کتابیں لکھیں ہیں.اپنی پوری زندگی قوم کو علم سے آشنا کرنے والے استاد نے جہاں استاد کا حق ادا کیا وہاں انہوں نے گلگت بلتستان کی بکھری ہوئی تاریخی حقیقتوں کو اجاگر کیا.قومیں اپنے ماضی سے پہچانیں جاتی ہیں جس قوم کے ماضی پر دھول پڑی ہو وہ قوم مستقبل کے راستوں کے تعین سے محروم ہوتی ہے پروفیسر عثمان علی نے ہمارے ماضی کو محفوظ کر کے مستقبل کیحوا لے کرنے کاجو مشکل کام جس خوبصورتی اور دیانتداری سے پورا کیا ہے اس پر قوم انہیں اپنا محسن مانتے ہوئے خراج تحسین پیش کرتی ہے.گلگت بلتستان کے اس عظیم استاد اور انسائیکلو پیڈیا کی خدمات کے احاطے سے میرا قلم قاصر ہے لیکن ایک طالب علم کی حیثیت سے قوم کے اس عظیم ہیرو کی خدمات پر سلام پیش کرنا اپنا فریضہ تصور کرتا ہوں.آئیں قوم کے اس عظیم ثرمایہ کو سلام محبت پیش کریں.اور اپنی آنے والی نسلوں کو بتائیں کہ پروفیسر عثمان ہمارے قومی ہیرو ہیں ، یاد رکھئیے انہی کے دم سے قومیں زندہ ہیں کیونکہ جن قوموں میں قلمکار نہیں اہلِ دانش نہیں اُن قوموں میں زندگی کے آثار نہیں وہ سو سال بھی سانسیں لیتی رہیں لیکن وہ زندوں میں شمار نہیں۔ہم گلگت بلتستان حکومت وزیر اعلی اور وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ پروفیسر عثمان مرحوم کو ان کی لازوال علمی خدمات کے عوض بعد از مرگ صدارتی ایوارڑ برائے حسن کارکردگی سے نوازا ،گزشتہ روز گلگت بلتستان ہاؤس اسلام آباد میں ایک پر وقار تقریب میں پروفیسر عثمان مرحوم کے صاحب زادے میجر عدیل نے گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان سے ایوارڑ وصول کیا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments