تحقیقاتی کمیٹی اور رپورٹ

خبرآئی ہے کہ حکومت نے پشاور کے چڑیا گھر میں نایاب نسل کے برفانی چیتے سمیت دیگر جانوروں کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ہے کمیٹی میں صوبائی سیکرٹری سابق چیف کنزرویٹر ڈاکٹر ممتاز ملک اور ضلع پشاور کے ڈی ایف او وائلڈ لائف شامل ہیں پشاور کے چڑیا گھر کو بنے ہوئے ابھی دو ماہ بھی نہیں گذرے تھے کہ برفانی چیتا ہلاک ہونے کی خبر آگئی ساتھ ہی یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ منفی 10ڈگری سینٹی گریڈ میں زندگی گذارنے والے برفانی چیتے کو 35ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں چڑیا گھر کے اندر محبوس رکھنے کا مشورہ کس نے دیا تھا اس کے بعد دوسرے جانوروں کی ہلاکتوں کی خبریں آنے لگیں چڑیا گھر کے انتظامیہ اور وائلڈ لائف کے حکام نے یہ عذر پیش کی کہ بچوں نے چڑیا گھر کے جانوروں کو تنگ کیا بچوں کے رویے سے تنگ آکر جانوروں نے ’’ خودکشی ‘‘ کی یا اس نا مناسب رویے کی وجہ سے یہ جانور ہلاک ہوئے ؟ اس پر یہ بحث چھڑ گئی کہ چڑیا گھر انتظامیہ نے بچوں کے رویے کا اندازہ کیوں نہیں لگایا بچہ بچہ ہوتا ہے چاہے لاہور میں ہو یا پشاور میں، ابھی یہ بحث جاری تھی کہ تحقیقاتی کمیٹی کی خبرآگئی بعض نے کہا شکر ہے حکومت نے اس اہم مسئلے پر بھی تحقیقاتی کمیٹی بنائی یہ کمیٹی ایک ہزار کمیٹیوں کی طرح رپورٹ دے گی اور دیگر ایک ہزار ایک ر پورٹوں کی طرح اس رپورٹ کو الماری میں رکھ کر الماری کو تالا لگایا جائے گا برفانی چیتا مرگیا اور دوسرے جانور ہلاک ہوئے تو کیا ہوابقول فیض ؂

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا

یہ ’’ خون خاک نشیناں ‘‘ تھا رزقِ خاک ہوا

دور کی کوڑی لانے والے پوچھتے ہیں ’’ کیا پروٹوکول کے لحاظ سے برفانی چیتے کا مقام قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خان اور سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق سے بلند تھا ؟ ہمارے ہاں قائد ملت دن دیہاڑے بھرے مجمع میں قتل کئے گئے تحقیقاتی رپورٹ کی عمر اب 67سال ہوگئی ہے کسی نے اس رپورٹ کی شکل نہیں دیکھی جنرل ضیاء الحق کو29جرنیلوں کے ساتھ ہوا میں اڑا دیاگیا C-130 طیارے کے حادثے کی رپورٹ ’’ مقدس دستاویز‘‘ کے طور پر چھپا دی گئی کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ افراد کا معاملہ اتنا اہم نہیں تھا پاکستان کا آدھے سے زیادہ حصہ کاٹ کر پھینک دیا گیا تحقیقات ہوئی رپورٹ تیار ہوئی مگر سات پردوں میں چھپائی گئی پشاور شہر کا اندوہناک واقعہ آرمی پبلک سکول میں پیش آیا 16دسمبر 2014ء کا دن تھا 138بچوں کے ساتھ دیگر افراد کو ملا کر 152بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تحقیقات ہوئی مگر رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا اس حوالے سے متاثر خاندانوں نے عدالتوں سے بھی رجوع گیا مگر شنوائی نہیں ہوئی آرمی پبلک سکول پر حملے کے بڑے ملزم کی ضمانت منظور کی گئی تھی مگر ایک طاقتور ادارے کی مداخلت پر دوسرے مقدمے میں اس کو قید کیا گیا اگر طاقتور ادارہ مداخلت نہ کرتا تو 138 معصوم بچوں کا قاتل ضمانت پر رہا ہوکر افغانستان پہنچ چکا ہوتا۔ کہنے والے نے یہ بھی کہا ہے کہ برفانی چیتا خوش قسمت نکلا جس کی ہلاکت کا ماتم ہوا ایوان عدل کی گھنٹیاں بجائی گئیں حکومت کے کار پردازوں کو جھنجھوڑا گیا ورنہ پشاور میں مرنے والے پاکستانیوں اور پختونوں کی موت کا تو پُرسان ہی نہیں ہوتا کوئی پوچھتا ہی نہیں فارسی کا مقولہ ہے ’’ مرگِ انبوہ جشنے دارد‘‘ صوبائی حکومت نے چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لئے جو کمیٹی مقر ر کی ہے اس کمیٹی میں ڈاکٹر ممتاز ملک کا نام آیا ہے جو اپنے شعبے کے ممتاز افراد میں شمار ہوتے ہیں عالمی سطح پر شناخت رکھتے ہیں CITESاور دیگر اداروں میں اُن کا نام عزت کے ساتھ لیاجاتا ہے اور انہوں نے وائلڈ لائف کے شعبے میں خیبر پختونخوا کی بے مثال خدمت کی ہے لیکن کمیٹی ، کمیشن اور تحقیقات کا ذکر آتے ہی مجھے سعادت حسین منٹو کا افسانہ یاد آتا ہے افسانے کا عنوان بھی کمیشن ہے بادشاہ کے دربار میں ایک فریادی آتا ہے فریاد کرتا ہے کہ میں دھوبی ہوں میری برادری نے شاہی فوج کے لئے کام کیا تھامزدوری نہیں ملی ہم فاقے سے ہیں ہماری مزدوری ادا کردی جائے بادشاہ نے کمیشن بنایااور کمیشن کے ذمے یہ کام لگایا کہ دھوبیوں کی مزدوری کتنی ہے ؟ اور یہ کتنے گھرانے ہیں کیوں کر فاقوں سے دو چار ہیں کمیشن نے کام شروع کیا ایک دن ایسا ہوا کہ بادشاہ کا اکلوتا بیٹا شکار پر نکلا تیر کمان ہاتھ میں تھے دھوبیوں کا محلہ جنگل کے قریب تھا ہڈیوں کے ڈھانچے ، قحط زدہ لاغر انسانی شکل و صورت کے لوگ نظر آئے شہزادے کو عجیب لگا میرِ شکار سے تیر مانگا کمان میں چُست کیا تیر چلایا تو ڈھانچہ گرا اس طرح شہزادے نے تیر ختم کئے دھوبیوں کا محلہ قحط زدہ لوگوں سے خالی ہوا اس واقعے کو عرصہ بیت گیافریادی واپس نہ آیا بادشاہ نے ایک کمیشن کی رپورٹ مانگی رپورٹ آئی اُس میں دھوبیوں کے ہاں قحط کا ذکر تھا شاہی فوج کے ذمے ان کی مزدوری کا تفصیلی حساب تھا بادشاہ نے فوری ادائیگی کا حکم دیا ہر کارے دوڑائے گئے، فریادی کا پتہ لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ مزدوری وصول کرنے والا کوئی زندہ نہیں بچا بادشاہ نے کمیشن کے سربراہ کو شاباش دی اور رپورٹ کو شاہی دستاویز کے طور پر داخلِ دفتر کرنے کا حکم دیا پشاور کے چڑیا گھر کے جانوروں کی ہلاکت اور اس حوالے سے ہونیوالی تحقیقات کا انجام بھی منٹو کے افسانے سے مختلف نہیں ہوگا ؂

ہم نے مانا کہ تغافل کروگے لیکن

خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments