ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

پہلے سوشل میڈیا پر خبر آگئی پھر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے بھی خبر دیدی کہ نئی سیاسی جماعت بننے جارہی ہے بلکہ بن کر آرہی ہے بعض نے اس کو یونائیٹڈ مسلم لیگ کا نام دیا ہے بعض نے طنزاََ مسلم لیگ (یو) لکھا ہے موجودہ حالات میں اس جماعت کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کیونکہ اس وقت پاکستان کا سیاسی اور جمہوری نقشہ 1984ء کا منظر پیش کررہا ہے جب ہمیں پنجاب اور سندھ میں ایک یا دو سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کے لئے نئے کرداروں اور نئی جماعت کی ضرورت پیش آئی تھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمیں کراچی میں قبلہ و کعبہ الطاف حسین ملا جنہوں نے ایم کیو ایم بنا کر ہمارا مسئلہ حل کردیا پنجاب میں ہم مشکلات کے اندر گھرے رہ گئے اس کا حل ہم نے یوں نکالا کہ غیر جماعتی انتخابات کروا کے اُس اسمبلی کے اندر مسلم لیگ کی نئی برانڈ متعارف کر وائی یہ برانڈ بعد میں جونیجو لیگ، چٹھہ لیگ ،فنکشنل لیگ، ق لیگ اور نون لیگ کے ناموں سے پہچانی جانے لگی گذشتہ سال پھر ہمیں نئی قیادت کی ضرورت محسو س ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تحریک لبیک ہاتھ آئی، ملی مسلم لیگ نے ہمیں سہارا دیا مگر دونوں نے وہ نتائج نہیں دیے جو ہمیں مطلوب تھے اب ہمیں ایک بار پھر نئی پارٹی کی تلاش ہے جو پرندوں کو اپنی طرف کھینچنے کی صلاحیت رکھتی ہو ایسی پارٹی یونائیٹڈ مسلم لیگ ہی ہوسکتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ خادم حسین رضوی ، طاہر القادری ، شیخ رشید اور عمران خان کو کہاں کھپایا جائے ؟ ہمارے احباب کے وسیع حلقے میں یہ بات مشہور کی گئی ہے کہ ان کو اپنی ’’ قوالی جاری رکھنے کی اجازت ہوگی البتہ ان کے ہاتھ کچھ بھی نہیںآئے گا ؂

تماشا کرنے والوں کو خبر دی جاچکی ہے

کہ پردہ کب گرے گا ! تماشا کب ختم ہوگا !

زیر بحث یہ بات نہیں کہ پاکستا ن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا زور کس طرح توڑا جائے ؟ زیر بحث یہ بات ہے کہ نئی سیاسی قوت کو کس طرح میدان میں لایا جائے ؟ تاکہ پرندے اُ ڑ اُڑ کر اس میں بسیرا کر لیں ہانک ہانک کر پرندوں کو اُس طرف لے جانے کی ضرورت نہ پڑے ہم نے اب تک جو تجربے کئے وہ طاقت کے بل بوتے پر کامیاب ہوئے، کنونشن لیگ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی طاقت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے بنائی گئی ، 1985ء والی مسلم لیگ جنرل ضیاء الحق کی طاقت کو خراج ادا کرنے کے لئے وجود میں آئی 2002ء والی قاف لیگ جنرل مشرف کی طاقت کو خراج دینے کے لئے بنائی گئی موجودہ حالات میں طاقت کا سرچشمہ نظر نہیں آتا کس کا قصیدہ بڑھا جائے ؟ کس کو خراج عقیدت پیش کیاجائے؟ پرندے حیران و پریشان ہیں موجودہ حالات کو سمجھنے کیلئے کنونشن لیگ کی کہانی بھی بہت مددگار اور معاون ثابت ہوسکتی ہے یہ کہانی قدرت اللہ شہاب نے لکھی ہے کنونشن لیگ بھی ایم کیو ایم کی طرح ایک فوری ضرورت کے تحت بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی اکلوتی بہن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دینے کے لئے بنائی گئی تھی اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی کیونکہ قائد اعظم کے قریبی ساتھی کنونشن لیگ میں آگئے تھے اور فیلڈ مارشل کے قصیدے گارہے تھے پھر ایسا ہوا کہ فیلڈ مارشل کمزور ہوا تو پرندے اُڑ گئے اور ایم کیو ایم کی طرح کنونشن لیگ کا شیرازہ بکھر گیا بقول شاعر ؂

اک دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا

مجھے ایسے مواقع پرلواڑگی لنڈی کوتل کے پہاڑی خطے کا کلاسیکی شاعر امیر حمزہ شنواری یاد آتا ہے حمزہ بابا پشتو کا بے مثال شاعر گذرا ہے ان کی ایک نظم ہے ’’ لٹون‘‘ پشتو میں تلاش کو لٹون کہتے ہیں گویا نظم تلاش کے حوالے سے ہے اور علامہ اقبال ؒ کی نظم تنہائی کی طرح یہ بھی حُسنِ تخیل کا شاہکار ہے نظم کے ایک بند کا ترجمہ آج کے موضوع کا احاطہ کرتا ہے ؂

بُت ہیں نئے نئے

باری باری تراشتا ہوں

کرتا ہوں پرستش ان کی

مگر تھوڑی دیر تک

تھوڑی دیر بعد ہوتے ہیں

یہ بت پرانے

ان کو توڑتا ہوں

پھر نئے بت تراشتا ہوں

سوچتا ہو ں یہ مضامین نو کا انبار ہے

مگر نہیں یہ تو ’’ تلاش ‘‘ ہے

جو مسلسل جاری ہے

تلاش کے اس سفر میں ہمیں کیا کیا گوہر آبدار ملے ہیں ! نواز شریف بھی ہماری آنکھ کا تارا تھا زرداری سے بھی ہم کو پیار تھاالطاف حسین کو ہم نے پالا تھا طاہر القادری اور ان کے ہم نوا ہماری آغوش محبت میں پلے بڑھے خادم حسین رضوی قوال اور ہمنوا ہمارے ٹکڑوں پر پلتے آئے ہیں مسلم لیگ کے جتنے نام اور جتنے حروف ہیں ہمارے دستِ شفقت کی بدولت وجود میں آئے جو انی دیکھی ، بڑھاپا دیکھا اور مرکھپ گئے ہمیں ہیروں کی تلاش رہتی ہے ہیرا عبد القدوس بزنجو کی صورت میں ہو یا صادق سنجرانی کی صورت میں ہو جس معدن جس کان میں ہو ہم اسکو نکالتے ہیں تراش خراش کے بعد جب شوکیس میں سجاتے ہیں تب جاکر دوسروں کو پتہ لگتا ہے ’’ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی ‘‘

محمد خان جونیجو کا منظر عام پر آنا ایسی ہی کرامت تھی علامہ اقبال ؒ نے سچ کہا ؂

کوئی جوہر قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں

ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments