ہنزہ میں‌اقتدار اور اختیار کی جنگ:‌ گرکس سے میر غضنفر علی خان تک

تحریر: مولا مدد قیزل 

گرکس اور مغلوٹ کے نام سے کون واقف نہیں۔ یہ  للی  تھم  یا للی گشپور کے دو جڑوے بچے تھے۔ کہاوت مشہور ہے کہ پیدا ہوتے وقت دونوں کے پشت آپس میں جڑے ہوے تھے۔ چھرے سے کاٹ کر دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے اصلی نام صاحب خان اور جمشید خان رکھے گئے تھے، لیکن گرکس اور مغلوٹ کے نام سے مشہور ہوے۔ ان دونوں کی پرورش شروٹ اور گلاپور میں ہوئی مگر ان دونوں کی چپلقش کی وجہ سے شروٹ اور گلا پور کے عوام میں تصادم کا خطرہ عروج پر آگیا تو راجہ شاہ ملک جوکہ انکےنانا تھے  نے عوام  کو تصادم سے بچانے کیلئے ہنزہ نگر کی وادیوں کو ان دونوں شہزادوں کے نام جاگیر کے طور پر تقسیم کردیا۔ ہنزہ کی جاگیر نگر کی نسبت زیادہ   اور بہتر تھی،  اس لیے  دونوں بھائی اس کی ملکیت چاہتے تھے۔ دونوں بھائیوں میں لڑائی ہوئی۔ لڑائی رکوانے کے لئے  راجہ شاہ ملک نےقرعہ اندازی کے ذریعے ان جاگیروں کی تقسیم برچہ مموسنگھ (بگروٹ کا رہایشی) کے ذریعےنگر سمائرکے مقام پر کی۔قرعہ اندازی  میں نگر جمشید خان اور ہنزہ صاحب خان گرکس کے نام نکلا۔مغلوٹ سے یہ نہ رہا اور ہنزہ کی جاگیر کو بھی ہتھیانے کے لیے گرکس کے قتل کا منصوبہ بنایا اور ایک دن دریائے ہنزہ و نگر کے دہانے پر شکار کھیلنے کے بہانے بولا کر اسے تیر مار کر قتل کردیا ۔بس یہی سے اقتدار کی جنگ کاآغاز ہوا ۔

گرکس  تھم  کی کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی ،صرف ایک بیٹی نور بی بی  کے نام تھی جسے وقتی طور پر والئی ہنزہ تسلیم کر لیا گیا۔وزیر بٹو نے درواز  (موجودہ تاجکستان  کے بدخشان نامی  نیم خود مختار علاقے کا ایک ضلع)جاکر وہاں سے گشپور شاہ خان کو ہنزہ لایا اور نور بی بی سے اس کی شادی کر دی، اور اُسے تخت ہنزہ پر بیٹھا دیا گیا۔شاہ خان کے بعد  انکا بیٹا میوری تھم ریاست ہنزہ کی گدی پر براجمان ہوا،   جوبعد میں  قبیلہ تھپ کینذ کاخون ناحق بہاکر  درواز فرار ہوا ، اور وہاں کے بادشاہ کی بیٹی سے شادی کی، جس کے بطن سے ایشو ثانی پیدا ہوئے۔ عیشو ثانی نے حکمران بنتے ہی قبیلہ ہمچاٹنگ  اور حسین کذ کا خون نا حق بہایا۔میر عایشو ثانی کے سات بیٹے تھے جنہوں نے یکے بعد دیگر ے ہنزہ پر حکمرانی کی۔چھٹے اور ساتویں بیٹے سلطان خان اور ہری تھم خان نے  ہنزہ کو دولخت کر کے حکومت کی مگر بعد میں ہری تھم خان نے ریاست نگر پر حملہ کی،اور وہاں سات سال حکومت کرنے کے بعد کشمیر فرار ہوگئے۔

ادھرشیر سلطان خان کے بعد انکے  دو بیٹوں نے ریاست ہنزہ کو دو لخت کر دیا۔ قلعہ  التت پر میر علی خان قابض ہوئے اور بلتت پر شہباز خان حاکم بنارہا لیکن کچھ عرصے کےبعد شہباز خان نے علی خان کو قتل کروادیا، اور پوری ریاست کا میر بنا۔ اسکی حکومت کا تختہ اسی کے بیٹے میر شاہ بیگ نے الٹ دیا، اور پھر شاہ خان ابنِ حیدر نے تخت پر قبضہ کرلیا۔ اس انارکی کے عالم  میں شاہ بیگ کا بیٹا خسرو خان ہنزہ سے فرار ہو کر داریل چلا گیا۔ ادھر شاہ خان ثانی  کی وفات کے بعد  اسکا کم سن بیٹا غلام نصیر خان  وزیر دودار کی سر پرستی میں والئی ریاست ہنزہ بنا ۔ جب خسرو خان ابن شاہ بیگ کو  اس کا پتہ چلا تو داریل کے چند قبائل کے ساتھ ہنزہ آیا اور غلام نصیر خان کو قتل کر کے اپنے باپ کی گدی پر بیٹھا۔  اس نے تقربیا تیس سال حکومت کی۔ خسرو کا تخت اس کے بیٹے مرزا خان نے اس طرح الٹا کہ اپنے باپ کو پتھر کے وار سے قتل کردیا، اور خود حکمران بن گیا۔

مرزا خان کی حکومت ریاست کے بہت بد شگون ثابت ہوا۔  اس عالم میں   اہل ہنزہ نے خسرو خان کے جلا وطن  بیٹے سلیم ثانی کو  ہنزہ بلایا جو  کہ اپنے خالہ زاد بھائی راجہ غوری تھم کے پاس  گلگت میں سیاسی پناہ گزین تھا ۔ سلیم خان ہنزہ آیا اور اپنے بھائی مرزا خان کو قتل کر کے اس کی جگہ خود ریاست ہنزہ کے تخت پر متمکن ہوا۔

میر سلیم خان کے پانچ بیٹے تھے، محمد جمال خان، غضنفر علی خان، محمد امین خان، عبداللہ خان، اور شاہ سلطان،  انکی وفات کے بعد تخت ہنزہ کے حصول کے لیَے میر غضنفر اور اسکے بھائی محمد امین خان کے مابین شدید  اختلاف پیدا ہوا  جس کے پیچھے دونوں فرزندان کے دایگان (اوشمشو) کا ہاتھ تھا ۔ میر سلیم خان  نے اپنے بڑے بیٹے محمد جمال خان  کو پہلے ہی قتل کروادیا تھا۔ کشمکش کے بعد میرغضنفر علی خان تخت ہنزہ کے حصول میں کامیاب ہوئے، امین خان کو گرفتار کر کے پہلے اسکے دایگان  (اوشم )  کے گھر نظر بند کیا گیا  لیکن جب اس نے غضنفر کےقتل  کی سازش کی تو انہیں غلکین گوجال لے جایا گیا جہاں ذہر دے کر اسے بھی راستے سے ہٹا دیا گیا ۔باقی دو بھائیوں نے غضنفر کی بھرپور  حمایت کی۔

میر  غضنفر علی خان اول نہایت ہی خوش نویس ،علم دوست اور شاعر تھے، ان کا  دور حکومت جنگی مہمات و فتوحات کا زرین دور کہلاتا ہے ۔کہا جاتا ہ کہ انہوں نے تاریخ ہنزہ مرتب کہ جو کہ مشتاق نامی شخص لے کر فرار ہوگیا

میر غضنفر علی خان کے بھی پانچ بیٹے، محمد غزن خان،بختاور شاہ،نونہال شاہ،توکل شاہ اور  ریحان علی شاہ تھے۔ یہ تمام میربچے   اپنی جگہ اپنے حامیوں کی پشت پناہی سےاپنے والد  کے تخت کے حصول کے لیے کوشاں تھے۔میر غضنفر کی تکفین و تدفین کے بعد  وزیر  اسد اللہ بیگ نے  عمائدین و اکابرین   ریاست ہنزہ   سمیت میر کے تمام بچوں کا ایک اجلاس طلب کیا ۔جس میں  انہوں نے  مجلس کو مخاطب کرتے ہو ا کہا ۔

“اے ہنزہ کے عمائدین و اراکین۔ یاد رکھیےکہ آج ہنزہ ایک آباد ملک کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔جس کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔میر غضنفر بڑی نیک نامی و ناموری کیساتھ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں (یہ شینا زبان کا قول مشہور تھا کہ رابڑو غضنفر چھیش بڑو دیامر، یعنی حکمرانوں میں سب سے بڑا غضنفر  ہےاور پہاڑوں میں کوہ دیامر۔ ننگاپربت ) ۔ آج ہمیں اس آباد  وطن کو برباد نہیں کرنا چاہیے بلکہ باہمی اتفاق سے میر کے تمام فرزندوں میں سے جو  اپنے والد کے تخت کا حقیقی وارث ہے اسے تخت پر بیٹھانا چاہیے۔۔۔۔۔ اور صحیح حقدار انکا بڑا بیٹا محمد غزن خان ہے۔

پس تمام لوگوں نے اسے طوحا ًوکرحاً اسے قبول کیا ۔ اور میر غزن خان کو شمشیر حکمرانی انکے ہاتھ میں دی گئی۔ میر غزن خان کے والئی ریاست ہنزہ بنتے ہی  ان کا بھائی  بختاور شاہ چیچک کی بیماری میں مبتلا ہوگیا، اور جانبر نہ ہوسکا۔ راجہ نونہال شاہ نےغزن خان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا مگر اس سازش کی خبر میر غزن خان کو مل گئی ، جس نے نونہال شاہ کو  گرفتار کر کے انکا سر قلم کر دیا ۔اسکے بعد جب  اس  بھائی گشپور توکل شاہ سے  بھی خطرہ محسوس ہوا تو اسکے پاوں میں بیڑیاں ڈال کر شمشال بھیج دیا گیا جہاں  اسے بھی موت کی نید سلا دی گئی۔جب غزن خان تیسرے بھائی کے خوف سے بھی آزاد ہوا تو چوتھے بھائی ریحان علی شاہ کو بھی اپنے راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنا دیا  اور اپنے وزراء کی مشاورت سے انہیں کشمیر جلاوطن کر دیا گیا۔

میر غزن خان کےچھ بیٹے تھے میر صفدر خان، گشپور سلیم خان عرف بپو، سخاوت شاہ، جہاندار شاہ، محمد نفیس خان، اور محمد نظیم خان۔ میر غزن خان نے جب اپنے بیٹے گشپور سلیم خان  کے لیے مہتر چترال امان الملک کی بیٹی اختر کا رشتہ مانگا تو امان الملک نے بخوشی قبول کی، شادی کا پروگرام طے ہونے کے بعد میر غزن خان نے وزیر ہمایون بیگ کی قیادت میں ہنزہ کے صف اول کے عمائدین پر مشتمل بارات کو چترال روانہ کیا۔ جیسے ہی وہ روانہ ہوئے ادھر  میرغزن خان کے بڑے بیٹے صفدر خان  نے وزیر دارابیگ کیساتھ مل کر اپنے باپ غزن خان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا یا اور  منصوبے کے تحت  جب میر غزن خان دربار عام کے لیے شمال باغ روانہ ہوا تو بربر کوہل پر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ۔ یوں  اپنے باپ کو قتل کر کے  میر صفدر خان تخت ہنزہ پر متمکن ہوگیا۔ دوسری طرف  سلیم خان کو  بہانے سے باراتیوں سمیت واپس بلایا گیا اور اسے بھی شمشال میں کچھ عرصہ نطر بند رکھنے کے بعد قتل کردیا گیا ۔ صفدرخان نے اس منصوبے شامل تمام سازشیوں کو انعامات و جاگیریں دی ۔ جبکہ ہمایون بیگ کو بھی جلاوطن کیا گیا جس نے بعد میں  تسخیر ہنزہ و نگر میں انگریزوں کی مدد کی ۔

میر صفدر خان کو جب  انگریزوں کیساتھ لڑائی میں منہ کی کھانی پڑی تو چین کی طرف بھاگ نکلے۔سرکار برطانیہ صفدرخان کو دوبارہ تخت ہنزہ پر بٹھانے کے حق میں نہیں تھا  اسلیے حکومت برطانیہ نے میر نظیم خان کو بلایا  اور تاج پوشی کی گئی۔ حکومت برطانیہ کی ریاست ہنزہ پر اثرو رسوخ بڑھنے سے خاندان عایشو  میں قتل و غارت کا سلسلہ تھم گیا۔

میر محمد نظیم خان کے سات بیٹے تھے، میر محمد غزن خان ثانی ،شہباز خان، محمد شاہ خان(مشہور گروپ کپٹین) ،ہری تھم (غازی جوہر)، محمد امین (بپو)، صاحب خان اور محمد غنی خان۔

میر نظیم خان  ایک ماہ تک بستر علالت پر پڑے رہنے کے بعد ۱۱ جولائی ۱۹۳۸ کو انتقال کر گئے انکےبعد بڑا بیٹا محمد غزن خان ثانی تخت ہنزہ پر متمکن ہوا، جن کی موت پراسرار  طور پر  گلمت گوجال میں ہوئی ۔

میر غزن خان ثانی کے بعد اسکا بڑا بیٹا میر محمد جمال خان  تخت ہنزہ پر بیٹھے۔ ہنزہ کے اس آخری حکمران نے ریاست  پر ۲۹ سال حکومت کی۔ ۱۹۷۴ میں وزیر اعظم  پاکستان ذوالفقار بھٹو  نے ایک اعلامیہ کے ذریعے  ریاست  ہنزہ و نگر کےخاتمے کا اعلان کیا، جس کے بعد جمال خان کو پاکستان آرمی میں بطور اعزازی میجر جنرل شامل کیا گیا۔

جمہوریت کی آمد کے بعد قتل اور جلاوطنی کا سلسلہ بظاہر بند ہوگیا مگر  درپردہ  جائیداد کے لیے لڑایاں و ناراضگیاں چلتی رہی  ۔ میر جمال خان کے بعد انکے بڑ ے بیٹے میر غضنفر علی خان (موجودہ گورنر)  کو علامتی طور پر ریاستِ ہنزہ کا والی مقرر کیا گیا، جبکہ ان کے دو بھائی پرنس امین محمد اور پرنس عباس پاکستان کے دیگر شہریوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔

سقوط ریاست ہنزہ کے بعد میر غضنفر نے جمہوری سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا، اور متعدد بار ووٹوں کی طاقت سے جیت کر علاقے کا منتخب نمائند ہ بنے ۔ پہلی بار مشہور کوہ پیما نذیر صابر کے ہاتھوں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں دو دفعہ وزیر بیگ (سابق سپیکر) بھی  جیت گئے۔ میر غضنفر کی کاکردگی بطور  عوامی نمائندہ تسلی بخش نہیں رہی ہے، اس لئے ہنزہ آج بھی بہت ساری بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔

میر غضنفر علی خان کے تین بیٹے   ہیں، پرنس شاہ سلیم خان ، پرنس سلمان علی خان اور شہر یار علی خان ہیں۔ ماضی میں میر غضنفر نے وزیر بیگ کے مدمقابل اپنے منجھلے بیٹے شہریار خان کو میدان میں اتارا، لیکن اسے عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔  ،  ۲۰۱۵ کالیکشن میں میر غضنفر علی خان دوبارہ کامیاب ہوے۔ تاہم گورنری کا عہدہ پانے کے بعد خالی نشست پر انہوں نے اپنے بڑے بیٹے شاہ سلیم خان کو انتخابی عمل کا حصہ بنایا۔ کیونکہ باپ گورنر تھا اس لئے  اہل ہنزہ نے اس امید کے ساتھ انکے بیٹے کو بھی ووٹ دے کر اپنا نمائندہ منتخب کیا تاکہ ہنزہ کے مسائل حل ہو سکے۔

اس بات کا کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ آگے چل کر باپ بیٹے کے درمیان جائیداد کی ملکیت کے معاملے پر چپقلش اس قدر سنگین ہوگا کہ بیٹے کو بالاخر پابندِ سلاسل ہونا پڑے گا۔

خاندان عیشو میں اقتدار اور جائیداد کی جنگ ایک بار پھر چھڑ چکی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس چپقلش کے پیچھے بہت سارے عوامل کارفرما ہیں، اور یہ معاملہ سطحی نہیں ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ماضی کی طرح اس چپقلش کے پیچھے بھی اپنوں اور غیروں کی سازشیں موجود ہوسکتی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ سازشی ٹولہ پھر سے سرگرم ہوگیا ہو۔

کسی بھی علاقے کا حکمران سست ، کاہل  اور  اناپرست  ہو تو اسکا خمیازہ اس علاقے کے باشندوں کو سہنا پڑتا ہے۔ ریاست ہنزہ  میں جب بھی اقتدار کی خونی جنگ ہوئی ہے ، نقصان عوام کا  ہی ہوا ہے۔  لہذا عوام  اور سیاسی و سماجی حلقوں کو چاہیے کہ وہ منتخب و غیر منتخب نمائندوں کو یوں بے لگام نہ چھوڑیں۔

حالات سلجھانے میں سول سوسائٹی کو متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہنزہ اقتصادی اور سیاسی تبدیلی کے حوالے سے ایک اہم دور سے گزررہا ہے۔ کسی سازش کے تحت ہماری آواز کو دبایا گیا تو اس نقصان کاازالہ آنے والی نسلیں صدیوں تک نہیں کرپائیں گی۔

اس مضمون کی تحریر میں درج ذیل کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے:

1-    وادی ہنزہ  تاریخ کے آئینے میں  از رحمت اللہ بیگ

2-تاریخ اقوام دردستان وبلورستان از عبدالحمید خاور

3-ریاست ہنزہ تاریخ و ثقافت کے آئینے میں از فدا علی ایثار

4-تذکرہ فارسی گویان ہنزہ از فدا علی ایثار

آپ کی رائے

comments