عوام کا بھٹو

غلام حسن شاد

پی پی پی ڈپٹی جنرل سیکریٹری ضلع نگر

پاکستان کے منتخب وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو پاکستان ی عوام اور محرم طبقات کیلئے امید کی کرن بن کر طلوع ہوئے ۔انہوں نے پاکستان کے غربت زدہ عوام کو اور پاکستان میں غریب عوام کی تعمیرو ترقی کیلئے مختلف منصوبوں کا آغاز کیا ۔ملک میں غریبوں کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کردیا ، شہید قائد نے پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کیلئے دن رات محنت کی ۔پاکستان کو پہلا متفقہ آئین دیا اور منتخب لیڈروں کو عوام کے سامنے جواب داہ بنا دیا ۔پاکستان کے اندر پہلا اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کراکر دنیا میں پاکستان کا نام روشن کردیا اور پوری دنیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات استور کئے۔ ان کی انقلابی دور حکومت میں پاکستان کے اندر طلبہ کیلئے تعلیمی اور ٹرانسپورٹ کی سہولیت فراہم کی گئی ۔ کچی آبادی کے مکینوں کو مالکانہ حکوق مل دیئے گئے ۔اس عوام دوست اور غریب پرور لیڈر کی مقبولیت کو دیکھ کر جنر ل ضیاء نے ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ چلایا اور اس وقت کے ایک ظالم جج نے اپنی عدالت کی قتل گاہ سے 18مارچ 1978کو پاکستان کے منتخب وزیر اعظم جناب ذولفقار علی بھٹو کو موت کا فیصلہ سنایا ۔اس فیصلے کی پوری دنیا نے مخالفت کردی اور بھٹو کے حق میں آواز بلند کردیا پھر بھی اس درندہ صفت اور عوام دشمن آمر نے اس فیصلے پر 4آپریل 1979ء کو عمل درآمد کیا اور پھانسی سے ایک دن پہلے 3اپریل 1978کو سہالہ میں نظر بند بیٹی اور ان کے شریک حیات کو محبوب قائد سے ملاقات کرائی گئی یہ درد ناک اور صبرآزماء لمحہ تھا اس کو بیان کرنا بہت مشکل ہے ۔ محترمہ اور ان کی شریک حیات نے بھٹو صاحب کی طرف موت کو لمحہ بہ لمحہ دیکھی ہو ۔قائد عوام کا جسمانی سایہ نو ہم سے چھین لیا پر ہمیشہ کیلئے عوام کے دلوں کی دھڑکن بن گئے ۔اب عوام اورقائد عوام کے ساتھ نہیں چھوٹ سکتا ۔جب تک پاکستان زندہ ہے قائد عوام کا نام زندہ رہے گا ۔جب تک منشور زندہ ہے تب تک قائد عوام کا نام زندہ رہے گا ۔جب تک پاکستان کے مزدور زندہ ہیں بھٹو کا نام زندہ رہے گا ۔

کیا ملت کی مستقبل کا روشن پھر دیا کس نے

جلایا خون جس نے اسی پہ ہے الزام ظلمت کیوں

کوئی نعم البدل بھٹو کا ہے تو سامنے لاو

عزائم اپنے بتلاو طریقہ کار سمجھاو

(انعام درانی)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments