وزیر اعلی بتائے کہ اگر 315 افراد کے قتل کا ذمہ دار پیپلزپارٹی ہے تو ایف آئی آر تک کیوں درج نہیں‌کی گئی ہے؟‌ پیپلز پارٹی شینبر

نگر( بیورو رپورٹ) وزیر اعلیٰ بتائیں کہ 315 افرادکے لاشوں کی زمہ دار پی پی پی کی پچھلی حکومت ہے توپی پی پی کے کسی رہنماء کے خلاف کوئی FIR تک درج کیوں نہیں کی گئی جبکہ لاہور سانحہء ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے قتل کے خلاف مسلم لیگ ن کے رہنماؤں پر براہ راست FIR درج ہیں اور عدالتوں میں تحقیقات ہو رہی ہیں، اگر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان قاتلوں کو سزا دلانا چاہتے ہیں تو وہ بتائیں کہ دیامر سمیت دیگر اضلاع میں بے گناہ مارے جانے والے نگر اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد کے قاتلوں میں سے کس کس کو سزائیں دلائی ہیں علی محمد ملک صدر پی پی پی تحصیل شینبر،قدیر شاہ سابق صدر پی پی تحصیل شینبر و دیگر کارکنان کا وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمان کے بیان پر شدید رد عمل۔ انہوں نے مذید کہا کہ وزیر اعلیٰ نگر آکر نئے ترقیاتی منصوبوں اعلان کرنے کے بجائے نگر میں سابق پی پی پی حکومت کے دئے گئے منصوبوں کی بریفنگ معلوم ہونے پر غم و اندوہ کے عالم میں جاوید حسین اور پی پی پی کے خلاف پروپیگنڈہ اور پیٹھ پیچھے منافقت کر کے چلے گئے۔ وزیر اعلیٰ بتائیں کہ نگر میں جاری 5ارب کے منصوبوں میں اس کی حکومت نے کتنے پیسے فراہم کئے ہیں ،سی ایم گلگت بلتستان نے پیپلز پارٹی کے کچھ منصوبوں پر اپنے نام کی تختی چسپاں کرا کر عوام سے بددیانتی اور خیانت کا اظہار کیا ہے ،انہوں نے مذید کہا کہ دنیا کا سب سے برا کرپشن سیکینڈل پاناما میں پاکستان کے سابق نا اہل وزیر اعظم نااہل سیاسی رہنماء کا پیرو کار ہو کر سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ اور اس کی حکومت پر الزامات لگانا مسلم لیگ ن کا ppp کے خلاف مذموم ایجینڈے کا حصہ ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ ابھی تو وزیر اعلیٰ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ دائینتر 6میگا واٹ ،چھلت 500 kv،سمائیرVIP ریسٹ ہاؤس اورنگر خاص 2میگا واٹ پاورمنصوبوں بارے میں پتہ ہی نہیں انشاء اللہ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد نگر کے عوام کی ترقی عروج پر ہو گی ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الر حمٰن کو نگر آکر بادل ناخواستہ گورننس آر ڈیننس 2009 سے پہلے ممبران اسمبلی کی حیثیت کا یہ کہہ کر اعتراف کرنا پڑاکہ PPP کے گورننس آرڈیننس 2009سے پہلے ممبران اسمبلی پر گلگت بلتستان کی بیورو کریسی کا راج تھا، کے اعتراف پر دا د و تحسین ضرور دیتے ہیں۔ پی پی رہنماؤں نے مذید کہا کہ تحصیل چھلت کو نیابت دینے کے بجائے اسسٹنٹ کمشنر دے دیا جائے تا کہ تحصیل قائم کرنے اہداف پورے ہوں اور اس کا پورا فائدہ عوام کو دستیاب ہو۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے ایک روزہ دورہء نگر کو میگا منصوبوں کا اعلان نہ کرنے اور جو چھوٹے موٹے اعلانات کو مبہم انداز میں کرنے پر انتہائی مایوس کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بقول وزیر اعلیٰ کہ کہ اگر چھلت تا بر ویلی روڑ منصوبہ کے خلاف سازش ہوئی ہے تو ہم وزیر اعلیٰ اور چیف سیکریٹری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سازش کی مکمل تحقیقات کئے جائیں اور ہماری عوام کو بتایا جائے نیز سازشیوں کو فوری طور پر بے نقاب کریں ،ان کو سزا ئیں دلائیں اور ٹینڈر کا خاتمہ کر کے کسی اچھے اورنیک شہرت کے حامل ٹھیکدار کو مذکورہ کام حوالے کریں۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments