سی پیک کا اہم منصوبہ اور ہمسایہ ملک کے عزائم

تحریر :۔دردانہ شیر

سی پیک میں گلگت بلتستان کے اہم منصوبوں کو تعمیر کرنے کے حوالے سے نوید ایک سال قبل سنائی گئی تھی اب ان پر عملی طور پر کام بھی شروع ہورہا ہے چونکہ گلگت بلتستان سی پیک کا دروزہ ہے اور سی پیک نے ایسی دروزے سے گزرنا ہے اور پاک چین اکنامک کوریڈور سے اگر اس وقت کسی کو تکلیف ہورہا ہے تو وہ ہے بھارت جو نہیں چاہتا کہ پاکستان ترقی کرسکے کیونکہ سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جس سے پاکستان میں نہ صرف خوشحالی آئیگی بلکہ پاکستان ترقی کے میدان میں بہت آگے نکل جائے گا اس لئے بھارتی میڈیا من گھڑٹ خبریں جوڑ کر ہمارے ملک کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے خصوصا گلگت بلتستان کی ترقی تو اس کو ہضم ہی نہیں ہوتی حالانکہ سی پیک میں جہاں ملک کے دیگر چاروں صوبے ترقی کی راہ پر گامزن ہونگے وہاں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ترقی کا انقلاب آئے گا اور گلگت بلتستان کی اہم شاہراہیں بھی سی پیک میں شامل کر دئیے گئے ہیں اس کے علاوہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے گلگت اور غذر میں دو سو میگاواٹ کے قریب بجلی کے منصوبوں کی تعمیر بھی عنقریب شروع ہوگی جس سے گلگت بلتستان ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگاگلگت بلتستان کے اہم منصوبوں میں سب سے اہم منصوبہ گلگت چترال روڈ کی تعمیر کا ہے اس روڈ کی تعمیر وقت کی ضرورت بن گئی ہے اور یہ شاہراہ کی تعمیر سے اگر شاہراہ قراقرم کسی وجہ سے بلاک ہونے کی صورت میں گلگت چترال روڈ کو متبادل روڈ کی شکل میں بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے اس روڈ کی تعمیر بہت جلد شروع ہونے والی ہے اور اس اہم شاہراہ کو آل ویڈر بنانے کے لئے شندور میں پندرہ کلومیٹر ٹینل بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ ہر موسم میں اس روڈ کو ٹریفک کے لئے بحال کیا جاسکے سی پیک میں پچاس ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری ہورہی ہے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے اس اہم منصوبے پر کام زور شور سے جاری ہے چائنہ کی حکومت نے تشقرغان سے کاشغر تک کی اہم شاہراہ کو مکمل کر دیا ہے کسی وقت تاشقرغان سے کاشغر تک آٹھ گھنٹے کی مسافت تھی اب دو گھنٹے کی مسافت رہ گئی ہے اس طرح بہت جلد بابوسر ٹینل کی تعمیر بھی شروع ہوگی اگر یہ اہم منصوبہ مکمل ہوا تو گلگت سے روالپنڈی کی مسافت صرف چھ سے سات گھنٹے رہ جائیگی اور گلگت بلتستان کا یہ خطہ ترقی کے ایک اہم دور میں شامل ہوگا اور ہماراہمسایہ ملک بھارت کو کسی بھی صورت میں یہاں کی ترقی پسند نہیں اس لئے وہ اس اہم منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے جو ناکام کوششیں کر رہا ہے ان سے یہ ناپاک عزائم کبھی شرمندہ تعبیر ثابت نہیں ہونگے چونکہ اتنا بڑا منصوبہ بھارت کو ہضم نہیں ہورہا ہے اس دشمن ملک کے غلط عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے ہمیں بھی ہوشیار رہنا ہوگا چونکہ اب ہمارا یہ دشمن ملک افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے بھی ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرئیگا اس حوالے سے خطے کے خصو صا غذرکے بارڈرز کی سخت نگرانی اور بارڈر پر سیکورٹی مزید سخت کرنی ہوگی چونکہ ہندوستان کا ناپاک چہرہ اب پوری دنیا میں عیاں ہوگیا ہے انھوں نے کشمیر کے نہتے عوام پر جو ظلم و جبر کا بازار گرم کیا ہوا ہے اس سے بھی دنیا آگاہ ہے اگر کوئی آگاہ نہیں تو وہ اقوام متحدہ ہے جس نے ابھی تک اپنے قراردادوں پر عمل کرانے میں کامیابی حاصل نہیں کی اس وقت بھارت کی طرف سے کشمیر کے نہتے عوام پر جو ظلم کیا جارہا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی مودی سرکار کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج ہورہاہے اور وادی میں مظالم بند کرانے کا مطالبہ کیا جارہاہے اورکشمیر میں ذیادتی کا شکار ہونے والی مصوم بچی آصفہ کے ساتھ بھارتی درندوں کی درندگی کا نوٹس لینے کا مطالبہ روزبروز روزپکڑرہا ہے مگر صرف ایک اقوام متحدہ ہے جس کو پوری دنیا کی آواز نہیں پہنچ جاتی آخر کب تک بھارت کے مظالم کشمیریوں پر جاری رئینگے وہ دن ضرور آئے گا کہ کشمیر آزاد ہوکر رہیگا بھارت کو ایک دن ان کے کئے کی سزا ضرور ملے گی چونکہ اس وقت بھارت کشمیریوں پر مظالم کی وجہ سے اس کا مکروہ چہرہ پوری دنیا میں بے نقاب ہوچکا ہے البتہ اقوام متحدہ کو نظر نہیں آنا یہ الگ بات ہے بھارت جتنا چاہئے نہتے کشمیریوں پر ظلم کر ئے وہ ان کی ازادی کی حق کو نہیں دبا سکتا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments