ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

دنیا کے بیشتر  نطام  حکومتوں میں “جمہوریت” نسبتا” کامیاب ہے  جہاں لوگ  ا پنے لیڈر کو ان کی لیڈر شپ خصوصیات کے بناؑ  پر خود  منتخب کرتے  ہیں۔ اسی تناظر میں اگر ہم گلگت بلتستان میں “ہماری اپنی حکومت” کا جائزہ لیں تو 2009 میں Gilgit-Baltistan Empowerment کے طور پر ہماری اپنی حکومت  بنوائی گئی۔اس میں 33 نشتیں ہیں۔ اس کی ساخت اگر مختصرادیکھیں تو ۔۔۔ اس وقت تو   ایک  عام   (عوام ) یہ  سوچ کے پریشان ہے  کہ ہمارے    حصے میں تو  صرف -–سیٹ ہے باقی کے لوگ     کیسے ؟کب؟  کہاں سے؟ اور کیوں  آ ئے؟ اور کیا اس حالت  میں یہ اسمبلی  اپنا اصل مقصد پورا کر سکتی ہے؟      شاید  جواب نفی  میں ہے۔ لگتا ہے کہ اس ل قانون ساز  اسمبلی  گلگت –بلتستان  کی ساخت کو دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تا کہ جس مقصد کے لئے یہ اسمبلی بنوالی گی ہے وہ مقصد حا صل ہو سکے۔آج تک اس           اسمبلی کے مقاصد کیا رہے یہ الگ کہانی ہے۔ اس کی ساخت  کی  مثال اگر  میں   ضلع     ہنزہ سے دوں تو       قارئیں  کہا جاتا  ہے کہ   جغرافیائی اور تاریخی حیثت کے با عث ضلع  ہنزہ    پاکستان کے  اہم  ضلعو ں  میں سے ایک ہے۔ اس  کی سرحدیں طاقتوں کا سنگم بھی ہے۔اس کے حصے میں بھی ایک ہی نشت ہے جو عشروں پہلے ملی تھی ۔ کیا اس عشرے میں ہنزہ کی آباد  سا کن ہے؟  ایسا     بلکل   نہیں ہے۔

اس   اکلوتی نشت کی کامیابی کا انحصار بھی  ذیادہ تر  اسلا م آباد میں “موجود  حکومت  ”    سے جُڑی   ہوتی ہے  اور پھر گلگت میں بھی  بعد کے حا لات    کے لئے  بھی  ہر موقع  اور ہر    حال میں فرد واحد کے رحم و کرم پر  ہوتے ہیں ان    کی  فرمانبرداری   اور  ا طاعت واجب ہو جاتی ہے  اگر کو   ئ        منتخب نمائندہ                     اپنی  بات منوانے کی کو شش کرے تو فرد  وا حد    کو  اس  نمائندے کے   کردہ  و  نا کردہ          تمام خطا   اگلے پچھلے ایسے یاد آتے ہیں کہ بس ہاتھ دھو کے پیچھے      پڑ تا ہے ۔ہنزہ کا  منتخب نمائندہ       ،ممبر قانون ساز اسمبلی  شاہ سلیم خان ،  اڈوکیٹ   احسان کی  اور حکو متی  ترجمان   فیض اللہ فراق              کی   حالیہ                  مثالپں  ہمارے  سامنے ہیں ۔    شاہ سلیم خان نے     فرد واحد  سمیت   کچھ ہمارے بڑوں  کے خلاف منہ کھو لا ہی تھا    انھیں پا بند سلاسل کیا گیا اور پھر انھیں   سیٹ سے ہی   ہٹانے کی کوششیں تیز  ترکر دی گیئں۔کیا یہہی ہماری “جمہوریت” ہے؟     اور اپنی آئیندہ نسلوں کو   یہی  وراثت  میں دینا چاہتے ہیں ؟  کیا  ترقیاتی  فنڈ  زکو   کسی کی پکنک پر  لگا  نا   ٹھیک  ہے؟     کیا    آپ کا علاقہ آپ کے حا کم  اعلٰی سے    صرف ایک گھنٹے  کی دُوری پر ہو تین سال تک  عوام  کو  شکل بھی  نہ دکھا  دے    تو کیا یہ شفافییت ہے؟ کیا ہر قیمت پر  اور ہر حال میں آقاؤں کو  خوش کر نا   ان کے ہاں میں ہاں ملانا   ” جمہو ریت” ہے؟ ابھی تک تو یہی  نظر آ رہا ہے  اور ہمارے سامنے ایسا ہو رہا ہے۔کہ  طا قت ہی  ایک ہی فرد کے گرد گھومتی ہے  وہ جو چاہے  جب چا ہے کے فارمولے پر اپنی ذاتی پسند اور نا پسند   کو  ملحوظ خاطر رکھ  کر   فیصلے کرتا ہے اور ہم    ان کے ساتھ تعاون کرنا اپنا  اخلاقی فرض    سمجھتے ہیں  کہ شا ید یہ   جمہوریت ہے یا  اس سے بڑھ کر  یہی ریاست  ہے؟   مزاحمت کرے تو ا نارکی نہ   پھیلے جلسے جلوس نکالے تو ترقی میں خلل نہ پڑے۔

“اگر   تعا ون نہ کرے تو ہم کیا کر  ریلیاں نکا لیں یا جلوس  نکالے اس سے انار کی پھیلے گی”۔ ” ہم بزدل نہیں مگر ان کے منہ لگنا  نہیں چاہتے ہیں”  ۔      “راستے بند کر کے اپنا  نقصان   کریں کیا؟” ۔ مگر  کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو چُپ کرا کے ادھر اُدھر  کی سنتے ہیں۔ اور ہماری اس    “چُپ  ”   کو نہ جانے لوگ کیا سمجھتے ہیں؟

  اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو؟
بے زباں کو شعلہ نوا کہہ لیا کرو ؟
یارو سکوت ہی کو صدا کہہ لیا کرو؟

آئیے ذرا جائزہ   لیں کہ پا کستان کا  یہ اہم      ڈسٹرک  کتنی تیزی سے تر  قی کر رہا ہے ۔اس جائزے کے لئے  ہمیں  AKDN   کا     کام اور اس کی  سرگرمیوں کو   الگ رکھ کر   صرف بجلی  اور تعلیم  کو مختصرا”  دیکھتے ہیں۔

اس وقت بجلی کی لوڈشیڈنگ کا صورت حال یہ ہے کہ تین دن بعد دو   گھنٹے کے لئے آتی ہے ۔ سپیشل لانیز   والوں کے لئے شاید  الگ بندونست ہے، عام عوام  کے لئے ہنزہ کی تاریخ کی بد ترین لوڈشیڈنگ کہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ ہنزہ کے   منتخب نمائندے شاہ سلیم خان کے اخباری بیا نا ت کے مطابق تین پروجیٹس حسن آباد میں،تین مسگر میں،ایک مایوں میں،ایک التر میں اور   ایک رشت  (چپورسان)    میں پروگرس  میں تھے احمد آباد نے التت کی آبادی کو  سنبھالا دیا تھا۔  ان کے مطابق  ایک سو دس کروڑ   ڈ متعلقہ  ڈ پارٹمنٹ کو  انھوں نے دلائے  تھے۔ ان کے علاوہ تین تھر مل جنریٹر یونٹس   بھی پروسس میں تھے۔ اب کوئی اس کا  فالو اپ کرنے والا ہے یا  اس کو بھی ہم جمہورت  کا حصہ سمجھ  کے خاموش رہیں گے؟

درکار اجالا ہے مگر سہمے ہوئے ہیں
کر دے نہ اندھیرا کوئی بارود جلا کر
لے اس نے ترا کاسۂ جاں توڑ ہی ڈالا
جا کوچۂ قاتل میں قتیلؔ اور صدا کر

ہمارے ملک پاکستان کی تعلیم       سے لا تعلقی کے سلسلے میں  یونیسف   کے حا لیہ   معلومات      جو ڈان اخبار نے دیے   ہیں  ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں۔ یونسف    کے مطابق     سکول سے باہر یا تعلیم سے لا تعلق  بچوں  (5.03m in Punjab only)کو اگر تمام  دنیا  کے ممالک     کے ساتھ موازنہ کر وا کر دیکھیں تو    فسٹ نمبر  پر نائیجیریا ہے اور سیکنڈ   نمبر پر پاکستان ہے۔ اگر  ہم اس صورت حال کے ساتھ خود کو تو لے تو       اللہ   کا کرم  ہے اس سے تھوڑی بہتر صورت حال ہے۔مگر    دنیا بہت آگے گئی ہے اور ہمیں ابھی بہت کچھ کرنا  باقی ہے۔   تعلیم میں کارکردگی  کے لئے  ہم اپنے قریبی  اداروں میں دیکھنا ہو گا ۔ کیا ہمارے       تعلیمی ا داروں کو  مکمل آلات سے لیس کیا گیا ہے؟  اچھی کارکردگی والے اساتذہ کو   کیسے شاباش دیتے ہیں ؟     بھرتیوں کے وقت قابلیت کا خیال   رکھتے ہیں؟   یا     شو  بازی کے لئے کچھ   فو ٹو شیشن ہوئے باقی     وہ کا م عزیز ہے جہاں سے پیسا   ہاتھ آتا ہے۔  کہین ایسا تو نہیں کہ  کا لج میں  بیت الا خلا ء    موجو د نہیں  آپ  چلے قبروں کی تزہین و آسائش کے لئے ۔ KIU         ا بھی  وسائل کا محتاج ہے مگر آپ لڑکیوں کے لئے الگ یونیورسٹی کا ا   علان کر گئے۔ بھرتیوں کے وقت قابلیت کا خیال   رکھتے ہیں؟    تو    حالیہ بھرتیوں میں ہنزہ  کا  تناسب (فیصد )  میں دیکھے آپ کو کافی کچھ نظر آئے گا۔  لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب کرنے کے لئے ہمارے  نمائندے کو ہٹایا گیا   کہ سسٹمائز  کرپشن    پر  اب اگلی اٹھانے لگا ہے ،ان کو لگا کہ  یہ کسی بھی وقت پول کھول سکتا ہے اور اس کی موجودگی میں وہ سب کر نہیں سکتے جو من مانیاں   وہ چا ہتے ہیں۔

کون دے گا ہمیں اس دیس میں انصاف کی بھیک
جس میں خونخوار درندوں کی شہنشاہی ہے
جس میں غلے کے نگہباں ہیں وہ گیدڑ جن سے
قحط و افلاس کے بھوتوں نے اماں چاہی ہے
(قتیل شیفائی)

سی پیک کا  عالم میں چرچا ہے اب تک   ہمارے علاقے کو اس سے کیا حاصل ہوا ہے کوئی بھی ایک    چھوٹا    یا بڑا پروجیکٹ  ۔  ایسا نہیں کہ  باقی پاکستان بھی ہماری طر ح انتظار  میں ہے ۔    اچھا خاصا کام  ہو رہا ہے مگر ایک  ہم ہیں کہ صرف  ماحولیاتی آلودگی لے کر  سی پیک ، سی پیک   کے نعرے سے ہی خوش ہیں۔

آپ ہی اپنی اداؤں پہ  ذرا غور کرے
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments