آواز کوہسار – موسمی تبدیلی اور اس کے نقصانات تحریر :۔

دنیا بھر کی طرح موسمی تبدیلی کی لہر گلگت بلتستان میں بھی پہنچ گئی ہے اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے ندی نالوں میں پانی کے بہاو میں اضافہ نہ ہونے سے ایک طرف خطے کے عوام پریشان ہیں تو دوسری طرف دریائے سندہ میں پانی کا بہاو میں اضافہ نہ ہونے سے جہاں گلگت بلتستان کی کاشتکاروں کو اپنی زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے مشکلات درپیش ہیں تو وہاں ملک کے دیگر صوبوں جہاں کے کاشتکاروں کی زمینوں کو دریائے سندہ کا پانی سیراب کرتا ہے اب تک دیکھ جائے تو دریاؤں کے بہاو میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے گلگت بلتستان میں2010کے تباہ کن سیلاب سے جہاں خطے کی سڑکیں تباہ وبرباد ہوئی تو وہاں صوبے میں موجو د کئی جھیل بھی ٹوٹ گئے جس سے سیلاب آیا اور کئی ایکٹرزمینوں میں کاشت شدہ اراضی کو تباہ کیا اور اس سال خطے کے گلیشرز کو بھی نقصان پہنچا بتایا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان میں 2010کے بعد سے گلیشرز کے پھگیلنے کے عمل میں تیزی آگئی ہے اور اس وقت خطے میں موجود ان گلشیرز کو اگر کوئی چیز نقصان پہنچاتی ہے تو وہ بلیک کاربن ہے گلگت بلتستان کے زیادہ تر عوام ایندھن کے طور پر لکڑیاں استعمال کرتے ہیں جس سے پیدا ہونے والی بلیک کاربن گلشیرز کے لئے سخت نقصان دہ ہے موسمی تبدیلی سے جہاں لوگوں کی فصیلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے تو وہاں پر لوگوں کے پھیلدار اور غیر پھیلدار درخت بھی خشک سالی سے متاثر ہوئے ہیں جس سے علاقے میں روزبروز الودگی بڑہ جاتی ہے اوریہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جنگلات بنی نوع انسان کو آلودگی سے بچانے میں موثر اور فعال کردار ادا کرتے ہیں اور ہوا کو صاف ستھرا رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں ماہرین کی رائے کے مطابق کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی اور فضا کی آلودگی سے بچنے کے لیے کل رقبے کا ایک چوتھائی یعنی 25فیصد جنگلات پر مشتمل ہونا ضروری ہے ہمارے ملک پاکستان میں صرف دو فیصد رقبے میں جنگلات موجود ہیں یہ امر کسی لحاظ سے خوش آئند اور حوصلہ افزائی نہیں ترقیاتی یافتہ ممالک میں اس شعبے میں اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں اور آلودگی سے بچنے کے لیے پودے لگائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی حفاظت بھی کی جاتی ہے ہمارے ملک میں بھی شجرکاری کے دوران کروڑوں پودے لگانے کا ٹارگٹ دیا جاتاہے ا ور ہر محکمے کو پودے لگانے کا حکم ملتا ہے پودے بھی لگائے جاتے ہیں مگر ان کی حفاظت کرنے کو کوئی تیار نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یہ پودے مال موشیوں کے خوراک بن جاتے ہیں یا پانی وقت پر نہ ملنے سے سوکھ جاتے ہیں جنگلات کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام میں اس کی افایت اور اہمیت اجاگر نہ ہوجنگل میں ایک چرواہاکلہاڑی اور درانتی سے ننے منے درختوں کو تختہ مشق بنا لیتا ہے اس سال بھی لاکھوں کی تعداد میں درخت لگائے گئے ہیں مگر اب صورت حال یہ ہے کہ ان کو پانی تک دستیاب نہیں اور ہمارے ملک کا یہ المیہ ہے کہ ہمارے پاس پانی کو سٹور کرنے کا بھی کوئی انتظام نہیں پانی کا بہاو زیادہ ہو تو وہ پانی سمندر کی نذر ہوتا ہے اور پانی کا بہاو کم ہو تو نہ صرف اس سے ہماری کاشت شدہ فصیل سوکھ جاتی ہے بلکہ کروڑوں پودے بھی پانی نہ ملنے سے ہنزم سوختنی کے کام آتے ہیں اس وقت تک تو صورت حال یہ ہے کہ صدیوں سے جس جگہ سے پانی گزر رہا تھا اب وہ زمین خود پانی کی پیاسی ہے بتایا جاتا ہے اگر دنیا میں کوئی بڑی جنگ ہوئی تو وہ کسی اور چیز پر نہیں پانی پر ہوگی ایک طرف دریائے سندہ میں پانی کی کمی سے ہمیں مشکلات درپیش ہیں تو دوسری طرف انڈیا نے بھی پاکستان کے حصہ کا پانی کم کردیا ہے اور مسلسل خلاف ورزیوں کو ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمارا یہ ہمسایہ ملک نے ہم پر روا رکھا ہوا ہے یہ دشمن ملک نہیں چاہتا کہ پاکستان ترقی کریں انڈیا ہر طریقے سے ہمیں نقصان پہنچانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے اورانڈیا جگہ جگہ ڈیم بنانے کے نام پر ہماراپانی بھی بند کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ہمیں ابھی سے ہی اپنے بچت پانی کو بچانے اور اس کو سٹور کرنے کے لئے اقدامات اٹھانے ہونگے ورنہ صورت حال یہ رہی اور موسمی تبدیلی کا سلسلہ اس طرح جاری رہا تو ہمیں زمینوں کی سیرابی کے لئے پانی تو دور کی بات ہے پینے کے لئے ہی پانی دستیاب نہ ہو اب بھی وقت ہے کہ ہمارے دریاوں کا جو پانی ضائع ہورہا ہے اس کو سٹور کرنے کے لئے ابھی سے ہی اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ ایک دن ہمیں افسوس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments