افسروں کی تربیت

خبر آئی ہے کہ وفاقی حکومت نے بیرون ملک تربیت کے لئے جانے والے افیسروں کے لئے نیا طریقہ کار وضع کرنے کیلئے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ایک مراسلہ بھیجا ہے نئے طریقہ کار میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ بیرون ملک تربیت کے لئے جانے والے حکام حکومت کے اہم راز ہمارے دشمنوں کے ہاتھوں میں نہ دیں نیا طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ماضی میں ہمارے اہم قومی راز تربیت پر جانے والے افیسروں نے افشا کئے جس کی وجہ سے ملک اور قوم کا بھاری نقصان ہوا پہلے مرحلے میں جس انگریزی مراسلے کا افشا ہوا ہے اس میں وزارت خارجہ ، وزارت داخلہ ، وزارت دفاع اور وزارت خزانہ کا ذکر ہے قومی سلامتی کے اداروں کا ذکر ہے دوسری وزارتوں اور ڈویژنوں کا ذکر ہے انگریزی میں طریقہ کار کو سٹینڈرڈ اوپریٹنگ پروسیجر (SOP) کا نام دیاگیا ہے یہ 1990ء کے عشرے کا ذکر ہے جب ملک کی دو سیاسی جماعتوں کے درمیاں دشمنی چل رہی تھی ملک کا وقار بھی داؤ پر لگا ہوا تھا ملک کی سلامتی بھی داؤ پر لگی ہوئی تھی اُس زمانے میں امریکہ کے ایک سرکاری اٹارنی رمزے کلارک نے اخباری بیان دیا تھا کہ ’’پاکستانی ڈالر کے لئے اپنی ماں کو بھی ہمارے قدموں میں ڈال دیتے ہیں ‘‘ اس بیان پر بہت شدید ردعمل آیا سول سوسائٹی نے بُرا منایا تو ایک دوست نے اس پر کالم لکھا کہ امریکی اٹارنی نے پاکستانی قوم میں سے چند افسروں کو دیکھا ہوگا وہ شاید ایسے ہونگے پاکستانی قوم ایسی نہیں ہے 10سال بعد چند افیسروں نے عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کر کے ڈالر لے لیا تو امریکی اٹارنی کی بات درست ثابت ہوئی سفیر بھی سرکاری افیسر ہوتا ہے امریکہ میں پاکستا ن کے ایک سابق سفیر نے کئی اہم قومی راز افشا کرکے ڈالر کمائے بلکہ ایک سفیر نے دشمن کے لئے لابسٹ (Lobbyst) کا کردار بھی ادا کیا پاکستان کے خلاف کارٹون، پیپر اور کتابیں شائع کیں ایسی بے شمار مثالیں ہیں اب حکومت کو اس کا خیال آگیا ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ خود اس کی نگرانی کرکے SOP تیار کروائیں گے اس ضمن میں دو باتیں قابل غور ہیں پہلی بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں بیرون ملک مقیم محب وطن پاکستانیوں سے مشاورت کی جائے لارڈ نذیر احمد ، چوہدری سرور، اعظم سواتی اور ڈاکٹر سید امجد حسین ، ڈاکٹر اکبر ایس احمد اور دوسرے نمایاں شخصیات کا تعاون حاصل کرنا مفید ہوگا اُ ن کے تجربات سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے نیز وطن کے اندر وکلاء اور صحافیوں سے مشاورت بھی مفید ہوگی محض سرکار ی افیسروں کی رپورٹ پر انحصار کر کے SOPبنائے گئے تو پر نالہ وہیں رہے گافرق کوئی نہیں پڑے گا دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ 1947ء سے اب تک افیسروں کی تربیت کا نظام برطانیہ اور امریکہ سے منسلک ہے مخصوص حالات میں جرمنی اور فرانس کو بھی اس میں شامل کیا جاتا ہے گویا ہمارے افیسروں کو تربیت کے لئے یورپ اور امریکہ کے سوا کسی اور ملک بھیجنے پر بہت کم توجہ دی گئی یا بالکل توجہ نہیں دی گئی اب 71سال بعد SOPبنانے کا خیال آیاہے ’’ بڑی دیر کی مہربان آتے آتے ‘‘اس سلسلے میں افیسروں کے لئے مالی طور پر یقیناََ یورپ اور امریکہ جانے میں زیادہ فائدہ ہے افیسروں کی بیگمات کے لئے بھی یورپ اور امریکہ کا سفر زیادہ پُر کشش ہے لیکن قوم مفاد کے لحاظ سے ایسا سفر یقیناََ نقصان دہ ثابت ہوا ہے اس وجہ سے افیسروں کی تربیت کے لئے نئے ممالک کی فہرست مرتب ہونی چاہیئے بہترین تربیتی ادارے ترکی ، ایران اور انڈونیشیا میں بھی قائم ہیں چین ، کوریا، جاپان اور روس میں بھی افیسروں کی تربیت کے بہترین ادارے موجود ہیں تھوڑی سی محنت کی جائے تو ہر شعبے کیلئے ان ممالک میں بہترین اداروں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے فوجی افیسروں کی تربیت کے لئے ترکی، عوامی جمہوریہ چین اور روس کے تربیتی اداروں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے سول سروس کے افیسروں کیلئے عوامی جمہوریہ چین ، ایرا ن ، کوریا اور جاپان کے تربیتی اداروں کا انتخاب مفید ہوگا قومی رازوں کے افشا کو روکنے کا یہ موثر طریقہ ہوسکتا ہے ساغر صدیقی کی ایک نظم مستزاد میں ٹیپ کا بند ہے ’’ او مست نظر جوگی ‘‘ شاعر ہماری ترجمانی کرتے ہوئے کہتاہے ؂

کب ظلمتِ ہستی میں تقریب سحر ہوگی

اومست نظر جوگی

آفات و الم گھر میں مہمان رہینگے کیا!

جاری یہ قیامت کے سامان رہیں گے کیا!

پابند ستاروں کے انسان رہیں گے کیا!

ذروں کے تصرف میں کب شانِ قمر ہوگی

اومست نظر جوگی

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments