وزیر اعلی کا دو روزہ دورہ دیامر

تحریر۔محمد قاسم

 ہر شخص کے چہرے پہ خوشی بکھر رہی تھی۔ایک خواب جو ایک عرصے سے خواب ہی تھا آج شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا تھا۔لوگ ایک دوسروں کو مبارکبادیاں  دے رہے تھے۔مٹھائی کے ڈبے کھول کے بس منہ میٹھا کرنے کی دیر تھی۔ہر کوئی  پھولوں کے مالا سر سجھانے کے منتظر تھے۔تانگیر کے پولو گراونڈ میں موجود ہزاروں لوگ ضلع داریل تانگیر کے اعلان کے نوید کے شدید منتظر تھے۔وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن ایک عرصے سے دیامر کا دورہ پہ آنے چاہتا تھا مگر کھبی تلخ موسم  آرے آیا تو کھبی سی ایم کی منصبی  مصروفییات کے بنا پہ یہ دورہ منسوخ ہوتا گیا۔آخر کار کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے 7 مئی کو دو روزہ دورہ دیامر کا پروگرام کنفرم ہو گیا۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور فورس کمانڈر گلگت بلتستان ثاقب محمد دیامر کے دو روزہ دورہ پہ  تانگیر داریل اور گونر فارم کا دورہ کیا۔وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن دورہ دیامر پہ عوام کی کافی امیدیں وابسطہ تھی۔کیونکہ گلگت بلتستاں کے دیگر اضلاع کے دورے کے دوراں تعمیر و ترقی کے اعلانات کی جمعہ بازار لگایا تھا۔ ہر کسی کے کان ایک نئی خوشخبری سننے کے منتظر تھے۔اور سامعین کان کھول کے بیٹھے ہوئے تھے۔جلسہ گاہ میں جو بھی مقرر آتا سب  یہی نوید سننے کی بات کرتا۔آخر  “تھا جس کا انتظار وہ شاہکار آگیا”وزیر اعلی نے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات تعلیم صحت بجلی اور روڈ کا جال بچھانے کے اعلانات کئے گئے۔مگر بات ضلع کے اعلان کے حوالے سے آئی تو ایک ماہ کے اندر اندر وفاق سے منظوری پہ عملدرآمد کی یقین دہانی پہ عمائدین تانگیر کے ساتھ دو ہاتھ ہو گیا۔لوگ ششدر ہوگئے اور ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے یہ کیا ہوگیا۔سب کچھ تیار بس صرف اعلان کا دعویدار وزرا کے چہرے افسردگی کا شکار ہوگئے۔وہ مٹھائی کے ڈبے پھولوں کے ہار اور مبارکبادیاں اپنی موت آپ مر گئی۔۔

 مجموعی طور پہ دیکھا جائے تو وزیر گلگت بلتستان کا دورہ دیامر انتہائی  کامیاب اور تسلی بخش رہا۔داریل تانگیر اور گونر فارم میں عوام نے جلسوں میں جوق درجوق حصہ لیا  خوب استقبال کیا۔اور تاریخی جلسے ہوئے جلسہ گاہ میں مختلف  پارٹیوں کے لوگوں نے شرکت کر کے روائتی مہمان نوازی کا ثبوت دیا۔جو کہ دیامر کے روایات کا ایک سلسلہ عرصہ دراز سے چلتا آ رہا ہے۔

 داریل تانگیر ضلع کا اعلان ہوتا تو اس دورہ  پہ مزید چار چاند لگتے اور ہر طرف وزیر اعلی کی واہ واہ ہوتی اور حکمران جماعت کو مزید تقویت ملتی مگر بدقسمتی سے داریل تانگیر ضلع کا اعلان تعطل کا شکار رہا۔امید گمان غالب ہے کہ بہت جلد اعلان ہوگا۔عوامی حلقوں میں وزیر اعلی کے اس دورے کو اس لئے اہمیت دی جارہی تھی کہ ضلع داریل تانگیر کا اعلان ہوگا۔اور عوام اس دورے کو امید کی آخری کرن سمجھ رہے تھے۔کیونکہ مرکز میں حکمراں جماعت آخری ہچکچیاں لے رہی ہے۔ایسے میں اگر جاتے جاتے کی نوٹیفکیشن ایک دفعہ پھر عوام میں مسلم لیگ کہ مقبولیت کا سبب بنے جائےگی ۔۔

حالیہ دورہ دیامر میں وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے صحت تعلیم انفراسٹرکچر بجلی کے میگا منصوبوں کے اعلانات کے ساتھ ساتھ گوہرآباد کو تحصیل کا درجہ دیا۔عوامی حلقوں نے صوبائی وزیر ثوبیہ جبیں مقدم کی کاکردگی کو خوب سراہا وہ موجودہ حکومت سے ایک بڑا کام لینے میں کامیاب رہی جبکہ داریل تانگیر کے وزراء پہ سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ داریل تانگیر کے وزراء کی نااہلی کی وجہ سے آج ضلع بننے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔

وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گونر فارم کے جلسے میں سابق اپوزیشن لیڈر سابق وزیر تعمیرات اور پی پی پی جی بی کے رہنما بشیر احمد خان کو آڑے ہاتھوں لیا اور نام لئے بغیر خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔یاد رہے کہ نگر کے زمینی انتخابات برائے جی بی اسمبلی میں بشیر احمد خاں نے نگر کے مقام پہ ایک عوامی اجتماع میں  سی ایم کے خلاف خوب گرج چمک کے ساتھ برسے تھے۔آج اسکا قرض اس کے آبائی حلقے میں چکا کہ یہ پیغام دیا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے طاقت میں بھی رکھتا ہوں۔

جبکہ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے موجودہ ممبر اسمبلی و سابق اپوزیشن لیڈر حاجی شاہ بیگ کے تعریف کے پل باندھ کر اپنا ساتھی کہا۔

تانگیر کے جلسے خطاب کے دوران وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے ملک محمد مسکین کئ ساتھ  ناراضگی کا برملا اعتراف کیا۔ساتھ ہی پارٹی کا اثاثہ اور ملک محمد مسکین زندہ باد کا نعرہ مستانہ  خود بلند بھی کیا مگر یہ بھی کہا کہ نئے اضلاع کے قیام کے دوران داریل تانگیر ضلع کا ڈیمانڈ نہ کرنے کا الزام بھی  ملک صاحب کے کھاتے میں ڈال دیا۔دیامر کا ہیڈ کواٹر چلاس سے منتخب ممبر اسمبلی وزیر زراعت حاجی جانباز خان وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے تاریخی دورہ دیامر کے دوران سکرین سے غائب رہے۔انہوں نے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کو آبائی شہر آمد پہ کسی قسم کی بھی توجہ نہ دے کے ایک اور پیڈور بکس کھول دیا۔ سینئر رہنما مسلم لیگ اور ایک وزیر ہونے کر ناطے اپنے وزیر اعلی سے کیوں نالاں ہیں؟ اس سے قبل وزیر اعلی گلگت بلتستان پہ عدم اعتماد تحریک کی افواہیں گردش کر رہی تھی تو وزیر اعلی نے میرٹ ہوٹل اسلام آباد میں اراکین اسمبلی اور کونسل ممبران کو دی جانے والے ظہرانے میں بھی وزیر زراعت حاجی جانباز خاں مدعو ہونے کو باوجود بھی شرکت نہیں کی۔

 سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وفاق میں ن لیگ کی حکومت کے جاتے ہی ایک دفعہ پھر عدم اعتماد تحریک زور پکڑے گی اور  حاجی جانباز خاں مرکزی کردار ہونگے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کا دورہ دیامر کے دوراں عوامی اجتماع سے کئے گئے اعلانات محض اعلانات کے حد تک ہوتے ہیں ہا عملی اقدامات بھی کئے جاتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments