کوستنگ کے استاد سازندے۔۔۔!

بلتی زبان میں ہرگاہ موقع و محل کی مناسبت سے جہاں ادب و شاعری کے تمام اصناف پائے جاتے ہیں۔ وہاں عہد رفتہ میں متنوع موسیقی کی دھنیں بھی مرتب و مقبول تھیں۔بلتستان میں موسیقی سے علاج معالجے کرنے کے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔ جشن میں روایتی موسیقی کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے، ایک زمانے میں یہاں کے سازندوں کو پینسٹھ کے لگ بھگ مختلف سروساز ازبر تھے، جن میں سے اکثرسرایرانی ، برمی اور ترک ناموں سے موسوم ہیں۔قوی احتمال ہے کہ ان پر انہی علاقوں کی چھاپ ہو، لیکن فی زمانہ تمام سروساز پر کمال رکھنے والے سازندوں کی کال ہے۔عہد رفتہ میں یہاں کے راجاوں کے محلات میں انہی موسیقاروں کے لئے خصوصی طور پر نوبت خانے موجود ہوتے تھے جہاں براجمان ہوئے سازندے حسب منشاء سروں کی راگ آلاپتے تھے۔ سن انیس سو اسی کے اواخر کی بات ہے کہ خپلو میں وادی چھوربٹ کے ایک خوبصورت گاؤں کوستنگ میں جب بہار اپنے جوبن پرآتی ہے۔ ہر سو ہریالی ہی ہریالی، کھیت کھلیانوں میں لہلہاتی فصلوں کو دیکھ کر وہاں کے جفاکش ، تخلیقی صلاحیتوں اور فنی مہارت کی دولت سے مالا مال باسی اپنی ریت روایات کے مطابق ان راحت افزاء اورخوش آئند لمحات کا بھرپور جذبے کے ساتھ استقبال کرنے کو تیارہوجاتے ہیں۔تیاریوں میں، گاوں کے جوان پیش پیش ہیں۔دیگر انواع و اقسام کی موسیقی کی محافل کے علاوہ بہار کی آمد پر کوستنگ میں میندوق ہلتنمو کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتاہے۔یہاں اس جشن کی تاریخ بہت قدیمی ہے یہاں تک کہ موجودہ نسل کے لوگ یہ وثوق سے نہیں بتا پاتے کہ اس جشن کا باقاعدہ آغاز کب ہوا ۔ تاہم آج بھی یہ روایت کسی نہ کسی طور سے جاری ہے۔ استاد محمد خان ذلف دراز(گوتنگپا) کے بھی جوانی کے دن ہیں۔ وہ چھوربٹ کے ان مایہ ناز موسیقاروں میں ایک ماہر استاد ہیں جوکمال فن سے ہر بڑے چھوٹے کو اپنی انگلیوں پر نچاسکتے ہیں۔ موسیقی سے لگاؤ تو اپنی جگہ مگر استاد محمدخان ذلف دراز کو خدا نے فن موسیقی میں وہ کمال عطا کیا ہے کہ جب وہ سرنہ، بانسری اوراس قبیل کے دوسرے آلات کو چھوتے ہیں، نغمہ و نے کا ایک طوفان طرب سا اٹھ جاتا ہے۔ وہ اپنے کمال مہارت سے سامعین پر ایسا سحر طاری کرتا ہے کہ جھوم جھوم اٹھتے ہیں۔ میندوق ہلتنمو کے دن اور وقت کا اعلان ہونے سے چند دن قبل سے استاد ذلف دراز اپنی بھرپور تیاری کر چکاہے۔ یوں جب آج میندوق ہلتنمو کا آغاز ہوا توگاوں کے بڑے تو بڑے ننھے منے بچے کھلے کھلے چہروں کے ساتھ اس جشن میں شامل ہیں۔ نوجوان گلے میں چادر اوڑھے ڈھول کی تھاپ اور سرنے کی لے پر تھرک تھرک کر رقص کرنے محفل میں کودپڑے ہیں۔ سننے والے آہنگ اورتسلسل کے ساتھ تالیاں بجاتے خود بھی لطف اندوز ہورہے ہیں اور گانے، بجانے اور ناچنے والوں کو خوب داد بھی دے رہے ہیں ۔ ناچنے والے کی ٹوپی کے کناروں میں پیسے ڈالنے اور نت نئے گانے گانے کا رواج یہاں عنقا ہے۔ البتہ پرانی حریب اور نوبت کی دھنوں پر سازندوں کے سر وساز اور سامعین کی تالیوں کی تال میل کے ملاپ سے ایک دلچسپ اور پر جوش ماحول بن گیا ہے۔جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد کوستنگ سے ملحقہ نالے میں جاکر جنگلی پھولوں کے گلدستے ہاتھوں میں لئے قطار در قطار گاوں کو لوٹتے ہیں۔ یہ منظر انتہائی دلکش، خوشنما اور جذباتی کیفیات پر مبنی ہوتاہے۔ بچے بڑے اور خواتین انہیں دیکھ کر کھل رہی ہیں۔ خواتین مقامی میوہ جات کی تھالیاں، ستوگوند کر اوپر دیسی مکھن کی ڈھلیاں رکھی،مٹر کے ابلے دانے اورجو، باجرہ اورگہیوں کے آٹے کے پکوانوں کوخوبانی کے تیل کے ساتھ پیش کررہی ہیں۔محفل کے اختتام پر سازندوں ، زعما اور جوانوں کو اس ضیافت سے نوازے جاتے ہیں۔ استاد محمد خان کے دم سے کوستنگ میں موسیقی اور ثقافت کی یہ روایات پرُ دم ہیں۔ ان کے دو چند شاگرد بھی ہیں۔ جو ان کے اپنے جتنے ماہر اور تمام سراور سازوں پر کمال مہارت تو نہیں رکھتے مگر حریب کے علاوہ جدیدطرز کی موسیقی بجانے کی حد تک انہیں دسترس حاصل ہے۔ استاد محمد خان ذلف دراز نے سرنہ بجانا اپنے والد سے سیکھا تھا۔ ان کے والد علی حسن موسیقی کے فن سے واقف تھے۔ شروع شروع میں دوسرے والدین کی طرح وہ بھی استاد محمد خان کے ہاتھوں میں سرنے کی بجائے قلم و قرطاس دیکھنا چاہتے تھے۔ مگر ان دنوں میں حصول علم جوئے شیر لانے کا ساکام تھا۔ گاوں میں تعلیمی سہولتیں عنقاتھیں۔ انیس سو اسی میں ان کے والد علی حسن کا انتقال ہوا۔اس وقت گاوں میں آپو غلو حسین بانسری نواز کے طور پر مشہور ہو چکاتھا۔ جب پرائمری سکول کے بچوں کو گاوں سے باہر پکنک پر لے کر جانا تھا اور بطور بانسری نواز آپو غلو حسین کی خدمات درکار ہوئی تو معلوم پڑا کہ آپو گاوں میں موجود نہیں۔ یہ وہ پہلا موقع تھا کہ جب استاد محمد خان ذلف دراز کو مجبور کرکے ان بچوں کے ساتھ بطور موسیقار لے کر جاناپڑا۔ بادل نخواستہ استاد محمد خان ان بچوں کے ساتھ ہولیئے۔ یوں اس کی مہارت کے ڈھول کا پول کھل گیا۔ اب جب جب گاوں میں موسیقی کی محفل کا اہتمام ہوتا تھا استاد محمد خان کوجان محفل سمجھا جاتا تھا۔ اور ان کی شمولیت کامیابی کی کنجی سمجھی جاتی تھی۔ یہیں سے ان کا شوق پنپتا گیا۔ وہ اپنے فن میں پختگی کی خاطر شاگردی شروع کرنے کی ٹھان چکاتھا۔ اس لئے فرانو میں استاد عبدالرحیم کو بطور استاد چن لیا۔ فرانو ان دنوں میں ترتک کے بعد کلاسیکی موسیقی میں سرفہرست تھا۔ استاد عبدالرحیم حریب ، نوبت اور کلاسیکی موسیقی کے رموز کے رازداں اور بڑے فنکار تھے۔ مگر بدقسمتی سے ان دنوں میں وہ بھی خانہ نشین ہوکر موسیقی کو خیرباد کہہ چکا تھا۔ اس لئے انہوں نے سیکھنا سکھانا تو کجا ، سالوں سے بند پڑے آلات موسیقی کو چھونے سے بھی انکار کردیا۔محمدخان ذلف دراز اپنی ضد پر اڑ گیا اور روزو شب کی منت سماجت سے بلآخر استاد عبدالرحیم فرانوی اسے موسیقی کے رموز سکھانے پر آمادہ ہوگئے۔ کئی مہینوں کی جہدمسلسل، مشق اور ریاض کے بعد محمد خان ذلف دراز استاد عبدالرحیم کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یوں وہ اپنے استاد کی تسلی کو سند مانتے ہوئے گھر کو لوٹ پڑے۔ استاد عبدالرحیم سے تربیت مکمل کرنے کے بعد اب حریب کی کئی دھنوں، غزل اور گیتوں کی جدید دھنوں اور کلاسیکل بلتی دھنوں کے حوالے سے وہ علاقے بھر میں مقبول ہوگئے۔ اس وقت بلتستان میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ یوں موسیقی کے دلدادہ چھوربٹ کے عوام خصوصاً کوستنگ کے لوگوں کو مفت تفریح ہاتھ آیا یوں رقص و سرود کے لئے ان کو بس ایک بہانے کی تلاش ہوتی تھی۔ شادی بیاہ، مقامی تہواروں اور موسمیاتی جمال و کمال کے ساتھ خاص ماحول بن جاتا تھا۔وہاں پولو کا گراونڈ بھی موجود ہے اور پولو کی ٹیمیں بھی ۔ اس لئے استاد محمد خان ذلف دراز پولو کے کھیل میں روایتی موسیقی کے حوالے سے بھی اپنے فن کا مظاہر ہ کرنے لگے۔ جب شام کو استاد محمد خان کوستنگ میں نمبردار کے گھر سے سرنے کی صدا بلند کرتا تھا ، پرچی لگتی تھی کہ اگلے دن پولو کا میچ ہوگا۔ یوں تو موسیقی نے مذہبی غلبے کے ساتھ دم توڑ دیا مگر ان دنوں میں جب استاد محمد خان کا ایک شاگرد استاد مہدی چھوربٹی عصر کے وقت گاوں کے قریب سرنہ بجانے کی مشق میں مگن تھے کہ ان سے کسی حریب کے دھن میں ان سے غلطی سرزد ہوگئی توسرِراہ مسجد کا موذن آکر اسے ٹھیک طریقہ سکھا گئے۔ ابھی استاد مہدی چھوربٹی کویت میں مقیم ہے اور وہاں بھی بلتی ثقافتی موسیقی کو زندہ رکھا ہواہے۔ غم روزگار کا بھنور آدمی کو وہ چکر دلاتا ہے کہ اس کے سر سے سارے فتور فرو کردیتاہے۔ گانابجانا استاد محمدخان ذلف دراز کا شوق تو پورا کرسکتا تھا مگر اس کا پیٹ کہاں بھر سکتا تھا۔ وہ بھی غم روزگار کے ہاتھوں اپنے مردم خیز، ثقافت آشنا اور موسیقی کے دلدادہ ہم وطنوں کے دیس سے نکل کر اسلام آباد منتقل ہوچکے ہیں۔ جہاں وہ گزشتہ اٹھائیس سالوں سے کسی ہوٹل میں بطور شیف کام کرکے روزی روٹی کمارہے ہیں۔ اب بھی اسلام آباد میں کوئی بلتی ثقافتی پروگرام ہوتا ہے وہاں ہو اپنا کام کاج چھوڑ کر اپنے فن کا مظاہرہ کرنے ضرور پہنچ جاتے ہیں۔ گردش زمانہ کہ اب کوستنگ کا نام بھی ہندوانہ سمجھ کر تبدیل کرکے حسن آباد رکھ دیا گیا ہے۔ مگر وہاں کے جوانوں میں موسیقی سے شغف جنون کی حد تک پائی جاتی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں کے نوجوانوں نے اپنے علاقے کے نمائندہ سیاسی شخصیت کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں حسن آباد سے شگر منتقل کئے گئے تاریخی ڈھول کو واپس گاوں لانے کے لئے اپنااثر رسوخ استعمال کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ موسیقی پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے جہاں یہ عظیم ثقافتی ورثہ معدوم ہوتا جارہا ہے۔ وہاں اس فن کے ماہر شخصیات کی پشت پناہی، سرپرستی اور غذر خلاصی نہ ہونے کی وجہ سے اس فن کی نئی نسل تک منتقلی بھی رک گئی ہے۔ اگر ان استادوں کو حکومت کی سرپرستی اورمخصوص کوٹے دلا کر روزگار ترتیب دیتے تو آج فن موسیقی کے ماہرین روزی روٹی کے پیچھے ہلکان نہ ہورہے ہوتے۔ جو نوبت خانے ماہر استادوں کے سروں سے گونجتے تھے آج نوبت یہ ہے کہ ان کی اپنی چیخ و پکار سننے والے کان ہی موجود نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments