گورننس آرڈر2018 پر اپوزیشن جماعتوں کا رد عمل

تحریر ۔شہزاد حسین الہامی

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے گلگت بلتستان کے8جون 2015کے ہونے والے انتخابات میں عوام سے مینڈیٹ حاصل کرنے کے لئے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کو آئینی حیثیت دینے کے حوالے سے سنجیدہ اور موثر اقدامات اٹھاے گی ۔ اس موقع پر انہوں نے سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ سر تاج عزیز کی سربراہی میں یہ کمیٹی گلگت بلتستان کے کو آئینی تحفظ دینے کے حوالے سے سفارشات تیار کرے گی ۔گزشتہ ڈھائی سال کے عرصے میں اس کمیٹی نے سفارشات تیار کئے مگر اس کمیٹی نے ڈھائی سال تک گلگت بلتستان کا ایک بھی دورہ نہیں کیا ۔ ہونا تو چاہیں تھا کہ وہ کمیٹی سب سے پہلے گلگت بلتستان کا دورہ کرتی اور گلگت بلتستان کی تمام سیاسی ، مذہبی اور قومی پرست جماعتوں سمیت وکلاء برادی اور سول سو سائٹی کو اعتماد میں لیکر ان کے مفید مشورئے کو مند نظر رکھتے ہوئے سفارشات مرتب کر لیتے مگر اس کمیٹی نے اسلام آباد میں اپنے کام کا آغاز کیا اورخطے کے عوام کی رائے لینے کی زحمت تک نہیں کی ۔ اس کمیٹی کے سفارشات پر وزیر اعلی گلگت بلتستان کے علاوہ مسلم لیگ ن کے وزراء کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا اور اس کمیٹی کی سفارشات کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے ورزاء کا موقف مقامی اخبارات میں بھی آیا کہ اس بارے میں کسی بھی وزیر کو علم نہیں۔ ڈھائی سال تک اس کمیٹی نے کیا سفارشات تیار کی وہ پبلک نہیں ہو سکا اور مسلم لیگ ن کے بعض وزراء نے انکشاف کیا تھا کہ اس کمیٹی کی سفارشات میں سینٹ اور قومی اسمبلی بطور مبصر نمائندگی دینے کے حوالے سے سفارشات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے ۔ کافی عرصے تک مقامی اخبارات میں سر تاج عزیز کمیٹی سفارشات کے حوالے سے شہ سر خیاں لگی مگر میرئے معلومات کے مطابق معزز وزیز اعلیٰ گلگت بلتستان نے کشمیری قیادت کے اس مسودئے کو مسترد کرنے پر نہ صرف ان کا ساتھ دیا بلکہ دوسری طرف ہنگامی بنیاد پر 2018ایکٹ کیے نام سے ایک مجوزہ سامنے لایا جس پر گلگت بلتستان کی عوام کو وزیر اعظم پاکستان کے نہ صرف ذیر اثر کر دیا بلکہ وزیر پاکستان کو گلگت بلتستان کی 15لاکھ عوام کا وائسرئے بنایا گیا اسکے بعد سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کو بیلا جیجک یہ کہنا مناسب سمجھونگا کہ کھودا پہاڈ نکلا چوہا ۔ ۔ اور آج کل گلگت بلتستان کے نوجوان اس خود ساختہ مسودئے پر نہ صرف تحفظات کا اظہار کرتے ہیں بلکہ ان کا موقف ہے کہ ہمیں پاکستان کی حکومت نے غلامی میں دھکیل کر جذبات ابھرنے کی کوشش کی ہے دوسری طرف ۔پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی قیادت نے گزشتہ دنوں پارٹی سیکریڑیٹ میں پریس کانفرنس کے ذریعے اس مسودہ کو مسترد کرنے کا اعلان کیا اور پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نے موقف اختیار کیا کہ اس مسودہ میں تمام اختیارت دوبارہ وفاق منتقل کئے گے ہیں اور اختیارت گلگت بلتستان میں منتقل کر کے 2009گورننس آرڈر کو مزید مضبوط بنانے کے بجائے ایف سی آر کے اس قانون کے مترادف ایک مسودہ تیار کیا پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ نے ایک اور بہترین تجویز ان کی جولی میں ڈال دیا انہوں نے کہا کہ بھارت نے ان کے آئین کے آرٹیکل 370میں ترمیم کر کے جموں کشمیر کو ان کی سینٹ اور اسمبلی میں نمایندگی دی ہے اسی طرح پاکستان اپنے آئین کے آرٹیکل 1میں ترمیم کر کے گلگت بلتستان کو آئینی تحفظ دیں یہ بات روز اول سے عیاں ہے کہ گلگت بلتستان میں آج تک 18رکنی ایڈوائزی کونسل سے لیکر قانون ساز اسمبلی تک جتنے اصلاحات آئے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے مرحون منت ہیں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نے اپنی اس روایت کو بر قرار رکھنے اور اس مسودئے کو سختی سے مسترد کرنے کے لئے شہیدوں کی سر زمین غذر میں عوامی عدالت میں اس مسودے کو لیکر جانے کی ٹھان لی اوراسی سلسلے میں پیپلز پارٹی نے دس مئی کو سرزمین غذر میں ہونے والے جلسے میں بھی گلگت بلتستان آرڈر2018 کو مسترد کر دیا انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام پاکستان سے والہانہ محبت رکھتے ہیں اس کی سرٹیفکیٹ کسی کو لینے کی ضرورت نہیں میں پاکستان کی ریاست سے گلہ نہیں گلہ ہے تو ان سیاسی جماعتوں سے ہے جنہوں نے آج تک ہمیں اندھیرئے میں رکھا اسکے بعد متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے جانب سے گزشتہ روز گھڑی باغ کے مقام پر عوامی جلسہ کا ا نعقاد کیا گیا جس میں اپوزیشن کے ممبران اسمبلی سمیت عوامی ایکشن کمیٹی کے چئیرمین مولانا سطان رئیس نے بھی خطاب کیا ۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہ نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پر خوشی کا اظہار کیا اور انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاسی جماعتوں یہاں کے حقوق کے حصول کے لئے ایک پیج پر آنا خطے کے لئے نیک شگون ہے ساتھ ہی موصوف چیرمین صاحب نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کے اندار سیاسی جماعتوں کو فرقے کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا تھا مگر اب ایسانہیں ہے انہوں نے ساتھ ہی اس بات کا بھی اظہار کیا کہ ماضی میں سیاسی جماعتوں میں اپنے حقوق کے لئے اس طرح متحدہ ہو کر کام کرنے کی رواج بھی نہیں تھی انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر وفاق گلگت بلتستان کو صوبہ اور آزاد کشمیر جیسا سیٹ اپ نہیں دے سکتی تو پھر دفاع ، خارجہ پالیسی ، اور کرنسی کے علاوہ تمام اختیارات گلگت بلتستان منتقل کریں اب گلگت بلتستان کی عوام مزید صبر نہیں کرسکتے ۔ اس جلسے میں پاکستان پیپلزپارٹی کی رکن اسمبلی جاوید حسین نے بھی دبنگ خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی گلگت بلتستان کی پالیسوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور انہوں نے مطالبہ کیا کی وفاق اگر گلگت بلتستان کو متنازعہ سمجھتی ہے تو پھر آیئن پاکستان میں بھی ہمیں متنازعہ لکھا جائے اور ہمیں اختیارت دیئے جائے بصورت دیگر حفیظ سرکار کو چلانے نہیں دینگے جلسے سے بی این ایف نے چئیر مین نواز خان ناجی نے بھی جذباتی تقریر کی اور کہا کہ وفاق نے سترہ سالوں سے خطے کے عوام کو آئینی حقوق کے حوالے سے کچھ نہیں کیا ۔ گلگت بلتستان کی عوام جب تک اپنے حقوق کو خود چھینا کر نہیں لیں گے تب تک گلگت بلتستان کے عوام کو کچھ نہیں ملے گا انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو چاہیں کہ وہ کشمیر طرز کے سیٹ آپ کا مطالبہ کریں ۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے بیورکریسی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اس کے بعد اپوزیشن لیڈر کیپٹن (ر) شفیع خان نے اپنے خطاب میں موجودہ آرڈر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اس مسودہ کو تیار کرنے سے پہلے گلگت بلتستان کے راکین اسمبلی کو اعتماد میں لینا چاہیں تھا مگر صوبائی حکومت نے اس کو اسمبلی میں پیش نہیں کیا جس کے بعد اب اپوزیشن ارکین نے مشترکہ طور پر اسمبلی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا اس مہنیے کی سولہ تاریخ کو اسمبلی اجلاس میں اس حوالے سے اپوزیشن ارکین بحث کرینگے انہوں نے کہا اب اپوزیشن ارکین کے پاس صرف تین راستے ہیں یا تو ہم اس حکومت کو ختم کریں یا اس حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لیکر آئے یا گلگت بلتستان کے وہ ارکین اسمبلی جو خطے کا دکھ دردرکھتے ہیں وہ اسمبلی سے اجتماعی استعفاء دینگے اورعوام کے پاس آکر تحریک چلا ئینگے ۔مذکورہ بالا ان تمام تر حقائق کے بعد میں ذاتی طور پر ان تمام سٹیک ہولڈرز سے اتفاق کرتا ہوں اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے معصومانہ سوال کرتا ہوں کہ سرتاج عزیز کمیٹی سفارشات ایک دم کہا دفن ہوگئے اور کیوں اچانک ایک ماہ میں برسٹر راجا ظفر الحق کی سربراہی میں گلگت بلتستان کی عوام کو سازش کے تحت غلامی میں دھکیلنے کے لئے خود ساختہ مسودہ تیار کیا گیا جس کو اگر میں قاتل مسودہ کہوتو بلکل غلط نہیں ہوگا خیر اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر سمیت ان کے اراکین اسمبلی اور پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ اور ان کی ٹیم اس مسودئے کو روکنے میں کامیاب ہونگے یا ن لیگ کی حکومت اس مسودئے کو عوام کا اوپر مسلط کرنے میں فتح حاصل کر سکے ینگے اس پتا آئندہ چند روز میں لگ جائے گا ۔

گلگت بلتستان کے اپوزیشن اراکین اور پیپلز پارٹی کے صوبائی صد ر اور اس کی ٹیم کے لئے اس شعر کے ساتھ اجازت

نہ کر شکوہ مقدر سے مقدر آزماتا جا

نہ ڈر منزل کی دوری سے قدم آگے بڑھاتا جا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments