مسافروں اورعوام کے لئے درد سر،نیو اسلام آباد ائیرپورٹ

تحریر : ممتاز گوہر 

گزشتہ روز کراچی میں وفات پانے والے ایک رشتہ دار کی ڈیتھ باڈی وصول کرنے نیو اسلام آباد ایئر پورٹ جانے کا اتفاق ہوا. راستے میں پہنچے تھے معلوم ہوا کہ موسم کی خرابی کے باعث جہاز نے لاہور ائیرپورٹ لینڈ کیا ہے اور اب رات بارہ بجے کے قریب اسلام آباد پہنچے گی. راستے سے واپس جانے کے بجائے ہم نے ائیرپورٹ میں ہی انتظار کرنے کا پلان بنایا. موٹروے کے راستے ائیرپورٹ سے کچھ فاصلے پر ایف ڈبلیو او کا ٹول پلازہ ہے جہاں تیس روپے لیے جاتے ہیں. چار جگہوں پر تلاشی دینے کے بعد ائیرپورٹ کے گیٹ پر پہنچ جایئں تو گاڑی کی پارکنگ کے لیے نوے روپے وصول کئے جاتے ہیں. بیشک آپ پانچ منٹ کے لیے گاڑی پارک کیوں نہ کریں. جب آپ ائیرپورٹ سے واپس نکلیں تو عین اسی ٹول پلازہ میں آپ سے دوبارہ تیس روپے وصول کئے جاتے ہیں.

 رات ایک بجے واپسی میں جب ہم ٹول پلازہ پہنچے تو وہاں وردی میں موجود کچھ اہلکار انتہائی بد تمیزی سے پیش آئے ہمارے ایک ساتھی اور وہاں موجود اہلکار میں کافی دیر تک نوک جھونک ہوئی اور صلح صفائی کے بعد ہم وہاں سے آگے نکلے. تیس روپے کا غنڈہ ٹیکس لیا بھی تو مخصوص انداز میں. خیر ایک ٹیکس دینے والا عام شہری کر بھی کیا سکتا ہے چاہے ٹیکس وردی والا لے رہا ہو یا بغیر وردی والا.

 یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ ائیرپورٹ آنے والے مسافروں سے یہ ساٹھ روپے کا جگا ٹیکس کیوں لیا جا رہا ہے جب کہ موٹروے کا پچیس کلو میٹر کا ٹوٹل راستہ بھی استعمال نہیں ہو رہا. اور ایک گاڑی کی پارکنگ کی مد میں نوے روپے فیس نا جائز نہیں ہے؟ ساتھ ہی یہ ٹیکس لینے والوں کا عوام سے رویہ بھی غور طلب ہے.

اس سے قبل جیسے ہی ہم ائیرپورٹ پہنچے تو وہاں کی صورت حال دیکھ کر کافی حیرت ہوئی. ہمیں بتایا تو یہی گیا تھا کہ اسلام آباد کا نیا ایئر پورٹ اگلے پچاس سالوں تک جدید سہولیات سے مزین ہے. اس حقیقت کا اندازہ اس وقت ہوا جب ائیرپورٹ کے واش رومز میں گئے تو وہاں پانی تالاب کا منظر پیش کر رہا تھا. صفائی کی صورتحال دیکھ کر اسلام آباد سے کراچی بسوں میں سفر کرتے وقت راستے میں آنے والے ہوٹلوں کے پبلک واش رومز کی یاد تازہ ہو گئی. ائیرپورٹ میں کھانے پینے کے لئے کسی قسم کی سہولیات تا حال میسر نہیں. بس ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے کہ ابھی کینٹین و دیگر سہولیات کے ٹینڈرز نہیں ہوۓ ہیں. انتظار گاہ میں چند کرسیوں کے علاوہ بیٹھنے کے لئے جگہ موجود نہیں. خواتین اور بزرگ بھی کھڑے رہ کر گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہیں. صفائی ستھرائی کا نظام دگرگوں ہے. اکثر اسٹاف سسٹم کو صحیح طرح سسٹم استعمال کرنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے.

نیو اسلام آباد ایئر پورٹ بتیس سو ایکڑ پر محیط فتح جھنگ کے قریب پنڈ رانجھا میں واقع ہے. اسلام آباد زیرو پوائنٹ سے نیو ائیرپورٹ تک کا فاصلہ پچیس کلومیٹر ہے. ائیرپورٹ میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دو ڈیم راما اور کسنا کے نام سے بنائے جا رہے ہیں. کب یہ مکمل ہوں اور کیا بغیر کسی بد عنوانی یا تکنیکی خرابی کے وقت پر مکمل ہوں گے یہ سوالیہ نشان ہے.

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی اجلاس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ ائیرپورٹ کے ارد گرد قبضہ مافیا اور تجاوزات کی وجہ سے انفراسٹرکچر خاص طور پر روڈ کو نقصان پہنچا ہے. سول ایویایشن کے حکام کے مطابق کشمیر ہائی وے کے قریب گولڑہ موڑ سے ائیرپورٹ کے مرکزی گیٹ تک روڈ کا پلان بھی ہے اس کے حوالے سے بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کب اسے عملی جامہ پہنایا جائے.

 سول ایوی ایشن کی طرف سے پہلے ہی اس سنگین غلطی کا اعتراف کر لیا گیا ہے کہ اس جدید ائیرپورٹ میں دو طیارے ایک ساتھ لینڈ یا ٹیک آف نہیں کر سکتے ہیں.

ہونا تو یہ چاہئے کہ نیا ائیرپورٹ ہے لوگوں کی مدد کے لئے ہیلپ ڈیسک قائم کیا جائے. مسافر جس سے بھی مدد یا کسی جگہ کی نشاندہی کے لئے سوال کرتے ہیں تو یہی جواب ملتا ہے کہ “سوری سر/میڈم مجھے نہیں معلوم”. گزشتہ دنوں گلگت بلتستان کے مسافروں کی ائیرپورٹ میں ایک خاتون نے ویڈیو بنائی جو بہت وائرل ہو گئی. اس ویڈیو میں مسافر بتا رہے ہوتے ہیں کہ وہ تین گھنٹے سے اپنے سامان کے لئے ادھر ادھر دھکے کھا رہے ہیں مگر کوئی بندہ یہ بتانے کے لئے بھی موجود نہیں کہ سامان کہاں ہے اور کب ملے گا. ایک مسافر کی بچی حادثے کا شکار ہوئی تھی اور وہ اسے ایمرجنسی میں علاج کے لئے لے آئے تھے. اس کے تمام کاغذات بھی سامان کے ساتھ تھے. مگر وہاں کوئی بندہ موجود نہیں تھا جو اس باپ کی فریاد کو سن سکے. اور اس کا سماں اسے دلا سکے.

ائیرپورٹ کے انتظامات کا اندازہ آپ برطانوی پارلیمنٹ کی ممبر ناز شاہ کے اس ٹویٹ سے کر لیں جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ تین گھنٹے انتظار کے بعد آخر کار میرا سامان مل ہی گیا. کافی مسافر انتہائی طویل سفر کے باوجود پانچ گھنٹے سے انتظار کر رہے ہیں. انھوں نے کہا کہ ائیرپورٹ کو وقت سے پہلے ہی کھولا گیا ہے اور یہ صورت حال مسافروں کے لئے تکلیف دہ ہے.

ایک عام بندے کا ائیرپورٹ تک جانا اور وہاں سی واپس اپنے گھر تک پہنچنا بھی انتہائی پریشان کن ہے. پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں. میٹرو میں کام کی صورتحال سے یہ بات واضح ہے کہ اس پروجیکٹ نے موجودہ حکومت کے بقیہ دنوں میں مکمل ہونا نہیں ہے. اب اس کے بعد نگران حکومت اور نئی بننے والے حکومت اس منصوبے کے ساتھ کیا سلوک کرے کچھ نہیں کہا جا سکتا. گلگت بلتستان کے لیے فلائٹ کے ہونے یا نہ ہونے کا سارا دارومدار موسم پر ہوتا ہے. ہر حال صبح پانچ بجے ائیرپورٹ پہنچنا ہوتا ہے اور کئی گھنٹے انتظار کے بعد فلائٹ منسوخی کا اعلان بھی کیا جائے تو کیسے مسافر واپس آجائیں یقیناً یہ انتہائی پریشان کن عمل ہے. کبھی کھبار ایسا بھی ہوتا ہے کہ موسم کا بہانہ بنا کر یہاں کی فلائٹس کو کسی اور روٹ پر لگا دئیے جاتے ہیں. اور اس کا عملی مظاہرہ کراچی میں ہونے والے پی ایس ایل کے دوران دیکھنے کو ملا.

 جب سے ائیرپورٹ شہر سے دور ویرانے میں لے گئے ہیں ٹیکسی مافیا کے وارے نیارے ہو گئے ہیں. من مانے کرایے وصول کئے جا رہے انتظامیہ بھی اس حوالے سے مکمل خاموش ہے. ہونا تو یہ چاہئے کہ انتظامیہ ٹیکسی والوں کے ساتھ مل کر ائیرپورٹ سے پنڈی اسلام آباد کے اہم مقامات تک کا کرایہ نامہ مختص کرے. تا کہ کسی کی مجبوری سے غلط فائدہ نہ اٹھایا جا سکے. ایک یہ بھی آپشن ہے کہ جب تک میٹرو سروس شروع نہیں ہوتی انتظامیہ پبلک ٹرانسپورٹ کا باقاعدہ اہتمام کرے.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments