کمزور تعلیمی نظام سے مربوط مسائل

تحریر: شرافت حسین

گلگت بلتستان قدرتی حسن،معدنی وسائل، افرادی قوت، ذہین و محنتی طلباء اور قدرت کے بے پناہ نعمتوں سے مالا مال خطہ ہے۔ علاقے کا سب سے عظیم سرمایہ ذہین اور محنتی نوجوان طلباء ہیں ۔ پاکستان کے دیگر شہروں اور علاقوں کی نسبت سہولیات اور وسائل کا فقدان ہونے کے باوجود علاقے کے ذہین نوجوانوں نے اپنی ذہانت اور قابلیت کا لوہا منوایا ۔ آج پاکستان کے تمام صوبوں اور چھوٹے بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں میں گلگت بلتستان کے طلباء ہر طرح کے مسائل کا مقابلہ کرتے ہوئے حصول علم میں مشغول ہیں۔طلباء ذہین ، محنتی ، فرمانبردار ہونے کے باوجود جی بی کے اکثرسرکاری تعلیمی اداروں میں قابل، محنتی اور تجربہ کار اساتذہ میسر نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کو بیشمار مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ طلباء کی ایک کثیر تعداد پرائمری ، مڈل اور میٹرک سے پہلے ہی تعلیم کو خیر باد کہتے ہوئے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور جو بے پناہ مسائل کا سامنا کرتے ہوئے میٹرک تک پہنچ جاتے ہیں سکولوں میں قابل سائنس ٹیچر اور کالجوں میں قابل لیکچرار نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹی عمر میں ہی اپنے گھر بار چھوڑ کر والدین سے دور دوسرے بڑے شہروں اور صوبوں میں جا کے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ جسکی وجہ سے طلباء طرح طرح کے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ والدین کی معاشی حالت ابتر اور پورے جی بی کی معاشی حالت کمزور ہونے کے باوجود ہر سال تعلیمی اخراجات کی مد میں اربوں روپے دوسرے صوبوں اور بڑے شہروں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ والدین کی سر پرستی سے دور ہونے اور ہاسٹل میں برے لوگوں کی صحبت کی وجہ سے کئی طلباء نشے اور دیگر برے کاموں کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ہاسٹل کے مضر صحت کھانوں اور گندے پانی کی وجہ سے طلباء مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مختلف سیاسی اور مذہبی تنظیمیں ان ذہین اور با صلاحیت طلباء کو اپنے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مختلف لڑائی جھگڑے اور فسادات میں شامل ہونے کی وجہ سے مستقبل کی تباہی ، جانی اور مالی نقصان کے ساتھ ساتھ علاقے کی بدنامی کا بھی باعث بنتے ہیں۔ ایک طرف طلباء مسائل کا شکار ہو رہے ہیں اور دوسری طرف میرٹ پر لیکچرار اور اساتذہ بھرتی نہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے سینکڑوں ذہین پڑھے لکھے قابل جوان دوسرے صوبوں کے پرائیویٹ اداروں میں نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ان تمام مسائل کی بنیادی وجہ میرٹ کی پامالی ، سہولیات کا فقدان اور خراب تعلیمی نظام ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سابقہ حکومت کے دور میں جی بی کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں میرٹ کو پامال کرتے ہوئے ایسے ناقابل اور نا اہل لوگوں کو بطور ٹیچر اور لیکچرار بھرتی کیے جن میں سے اکثر کو پڑھانا تو دور کی بات پڑھنا بھی نہیں آتا ۔ یہ نا اہل لوگ آئندہ 30 سے 35 سال تک طلباء کے مستقبل تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام کے سا تھ کھیلتے رہیں گے۔ موجودہ حکومت تعلیمی اداروں اور نظام کی بہتری کے لیے کردار ادا کر رہی ہے۔ پچھلے سال NTSٹیسٹ کے ذریعے قابل لوگوں کو میرٹ پر بطور ٹیچر بھرتی کیے جو قابل تحسین ہے۔ تاہم کالجوں میں FPSCٹیسٹ اور انٹرویو کے ذریعے میرٹ پر لیکچرار بھرتی کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ سابقہ حکومت نے میرٹ کو پامال کرتے ہوئے FPSC ٹیسٹ اور انٹرویو کے بغیر نا اہل لوگوں کو عارضی طور پر بطور لیکچرار بھرتی کیے جو لیکچرار کی بھرتی کے لیے ہونے والے FPSC کے ٹیسٹ اور انٹرویو کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ ٹیسٹ انٹرویو کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کی عارضی نوکری کی مستقلی FPSC ٹیسٹ اور انٹر ویو پاس کرنے سے مشروط ہونےکے باوجود، ٹیسٹ انٹر ویو کے بغیر مستقل ہونے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں انتظامیہ اور حکومت کو بلیک میل کر رہے ہیں جو چور مچائے شور کے مترادف ہے۔ اکثر عارضی ملازمین 2016 میں لیکچرار کی بھرتی کے لیے ہونے والے FPSCکے ٹیسٹ میں فیل ہو چکے ہیں پھر بھی لیکچرار کے عہدوں پر ناجائز طور پر قابض ہیں۔ 2014 سے لیکر اب تک FPSC کےٹیسٹ انٹرویو کے ذریعے میرٹ پر لیکچرار کی بھرتی کی راہ میں رکاوٹ ڈال کر اپنی مدت ملازمت کو زیادہ ظاہر کر کے احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے مستقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جسکی وجہ سے سرکاری اداروں کے طلباء مختلف مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔مذکور ہ مسائل کے حل کے لیے ، طلباء کی ذہانت اور ان کے مستقبل کو خراب ہونے سے بچانے اور علاقے کی ترقی و خوشحال کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اس بنیادی اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کریں اور سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔ سکولوں اور کالجوں میں سفارش، رشوت اور اقربا پروی کی بنیاد پر نااہل لوگوں کو بھرتی کرنے کی بجائے میرٹ پر اساتذہ کی بھرتی کو یقینی بنائیں۔ ڈیلی ویجز، اڈھاک اور کنٹریکٹ پر ہونے والی بھرتیوں پر مکمل پابندی لگائیں۔ کیونکہ ڈیلی ویجز، کنٹریکٹ اور اڈھاک پر بھرتی ہونے والے اکثر نا اہل اور نا لائق ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ٹیسٹ انٹرویو کے بغیر چور دروازے سے بھرتی ہو کر اپنی نوکری کو مستقل کرنے کے لیے احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ جسکی وجہ سے طلباء کا نقصان ہوتا ہے اور ان کے مستقبل داؤ پر لگ جاتے ہیں۔ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے سزا و جزا کا تصور اور عمل درآمد ضروری ہے۔ اساتذہ کی ترقی کم از کم 96 فیصد حاضری اور 65 فیصد رزلٹ کے ساتھ مشروط کرنے کی ضرورت ہے۔ہر سال اساتذہ کے لیے تربیتی پروگرام ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اگر حکومت مخلصانہ کوششیں کرتے ہوئے NTS اور FPSCٹیسٹ انٹرویو کے ذریعے میرٹ پر قابل اساتذہ بھرتی کرے تو طلباء کا مستقبل محفوظ ہو گاعوام کا سرکاری تعلیمی اداروں پر اعتماد بڑھے گا اور علاقہ ترقی اور خوشحال کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments