گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق دینے میں تاخیر کیوں؟

گلگت بلتستان میں مئی کا مہینہ ختم ہونے کو ہے مگر قدرتی موسم تاحال گرم نہ ہوسکا البتہ گلگت بلتستان کا ان دنوں سیاسی ٹمپریچر بہت زیادہ گرم ہے اور اپوزیش کے علاوہ عوامی ایکشن کمیٹی بھی وفاقی حکومت کی طرف سے جاری گورننس آرڈر2018کی مخالفت میں میدان میں کود پڑی ہے گلگت کے علاوہ بلتستان اور دیگر اضلاع میں بھی اس گورننس آرڈر کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہورہاہے ہیں اورآج وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے گلگت کا مختصر دورہ بھی کرنے والے ہیں اور وہ اسمبلی میں خطاب کے دوران گورننس آرڈر کے حوالے سے بھی بات کرینگے دوسری طرف اپوزیشن نے بھی وزیر اعظم کے دورہ گلگت کے موقع پر اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے اور آمدہ اطلاعات کے مطابق پولیس کی بھاری نفری کو صوبائی حکومت نے صوبائی اسمبلی کے لئے جانے والی راستوں پر تعینات کر دی ہے جبکہ بڑی تعداد میں ٹرک بھی اسمبلی کے قریب لاکر کھڑی کر دی گئی تاکہ ممکنہ احتجاجی کو روکا جاسکے گلگت بلتستان کو موجودہ گورننس آرڈر سے قبل بھی ایک گورننس آرڈر 2009میں بھی جاری کر دیا گیا تھا تعجب کی بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لئے ہر وقت گورننس آرڈر ہی جاری کیوں ہوتے ہیں اس علاقے کی آئینی حیثیت کے حوالے سے پارلیمنٹ سے باقاعدہ منظور ی کیوں نہیں لی جاتی گورننس آرڈر آج کسی صدر نے جاری کیا ہے تو کل کو وہی صدر اس کو مسترد بھی کرسکتا ہے حالانکہ فاٹا میں ابھی تک ایف سی آر کا قانون چل رہا تھا فاٹا کو تو ایک طرف کے پی کے میں ضم کیا گیا دوسری طرف یہاں پر موجودکالے قانون ایف سی آر کا بھی خاتمہ کر لیا گیا اس کے علاوہ فاٹا کے عوام کو کے پی کے اسمبلی میں نمائندگی بھی ملے گی مگر گلگت بلتستان کے حوالے سے پاکستان کے حکمران مکمل طور پر خاموش ہے حالانکہ یہاں کے غیور عوام نے پاکستان کی آزادی کے تین ماہ بعد یکم نومبر 1947کو بغیر کسی بیرونی امداد کے گلگت بلتستان سے ڈوگروں کو مار بھاگا یا تھا اور پندرہ دن تک گلگت بلتستان دنیا کے نقشے میں ایک آزاد ریاست کی شکل میں ابھر ا اور راجہ شاہ رائیس خان اس نو زائیدہ ملک کے صدر بن گئے پندرہ دن تک آزاد ملک ک حیثیت سے ابھرنے والا ملک گلگت بلتستان کے حکمرانوں نے اس خطے کو پاکستان میں شامل کر نے کا اعلان کیا وہ دن ہے اور آج کا دن گلگت بلتستان کے عوام کو وہ آئینی حقوق نہیں ملے جو پاکستان کے دیگر صوبوں کے شہریوں کو حاصل ہے اگر گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے میں پاکستان کے حکمرانوں کو کوئی مسلہ درپیش ہے تو اس علاقے کے چوبیس لاکھ عوام کو بھی وہ حقوق کیوں نہیں دئیے جاتے جو آزاد کشمیر کے شہریوں کو حاصل ہیںیا جب تک مسلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری صوبائی سیٹ اپ دینے میں ملک کے حکمرانوں کو کیا مشکلات درپیش آسکتی ہے اگر گلگت بلتستان کو گورننس آرڈر کے تحت چلانے کی بجائے اس علاقے کی ائینی حیثیت کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بحث کیوں نہیں ہوتی گلگت بلتستان کو دیا جانے والا گورننس آرڈر 2018پر گلگت بلتستان میں نہ صرف اپوزیشن جماعتیں اس آرڈر کے خلاف یک زبان ہوگئی ہے بلکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی اس آرڈر کی مخالفت کی ہے اس حوالے سے اب حکمران جماعت کی یہ اولین زمہ داری بنتی ہے کہ اپوزیشن اور خطے کے عوام کو اعتماد میں لینے کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ اس گورننس آرڈر میں جو خامیاں ہے اس کو حکومت اور اپوزیشن دونوں ملکر دور کر سکے اگر ایسا نہیں کیا گیا اور حکمران جماعت خاموش رہی اور اپوزیشن احتجاج کرتی رہی تو اس زیادہ تر نقصان حکومت کو ہوسکتا ہے اب بھی وقت ہے کہ حکومت گلگت بلتستان کے عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں کے عوام کو آئینی حقوق دلانے میں اپنا کردار ادا کریں فاٹا کو اگر ایف سی آرجیسے کالے قوانین سے چھٹکارہ مل سکتا ہے تو گلگت بلتستان کے عوام کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی کیوں نہیں مل سکتی اس کے علاوہ اگر صوبہ بنانے میں کوئی مسلہ درپیش ہے تو ازاد کشمیر طرز کا سیٹ اب یا عبوری صوبہ بنانے سے پاکستان کے حکمرانوں کو کیا مسلہ ہے گلگت بلتستان کی تمام اپوزیشن جماعتوں کے ممبران صوبائی اسمبلی کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے آئینی حقوق کے لئے قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا مگر قومی میڈیا مکمل طور پر خاموش رہی اسلام آباد میں اگر کوئی معمولی حادثہ پیش آئے تو ملک کے تمام میڈیا چینلز پر بریکنگ نیوز چلتی ہے مگر گلگت بلتستان کی اپوزیشن جماعتوں کے دھرنے کو کسی ملکی چینل کا کوریج نہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی میڈیا بھی یہاں کے عوام کو ان کے حق دلانے میں مخلص نہیں مگر خطے کے عوام اپنے تاپناک مستقبل کے لئے پر امید ہے چونکہ ناامیدی گناہ کسی نہ کسی دن یہاں کے عوام کو ان کی خواہشات کے مطابق ان کے حقوق ضرور مل جائینگے آخر میں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ مسلم لیگ کی وفاقی حکومت اپنے پانچ سال پورے کرنے کے بعد چند دن بعد پورے کرئے گی اور نگران سیٹ اپ آجائے گا الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے مختلف سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماوں نے دوسری پارٹیوں میں شامل ہونے کی تیاریاں مکمل کر لی ہے اور جون کے مہینے میں گلگت بلتستان کی سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماوں نے دوسری پارٹیوں میں شمولیت کے لئے اپنی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہے اور یکم جون کے بعد گلگت بلتستان میں سیاسی ٹمپریچر بہت زیادہ گرم ہونے کا امکان ہے چونکہ خطہ کا قدرتی موسم اب تک سرد ہے البتہ سیاسی ماحول کی بدلتی صورت حال سے علاقے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے کا قوی امکان ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments