پرائیوٹ سکولوں کا قیام اور تعلیم کا معیار

گلگت بلتستان وہ خطہ ہے جہاں پر محکمہ ایجوکیشن کی عدم توجعی کی وجہ سے روزانہ درجنوں کے حساب سے پرائیوٹ سکول کھل رہے ہیں اور کوئی پوچھ گچھ حکومت کی طرف سے نہ ہونے کے باعث آج کل پرائیوٹ سکول کھولنا ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے اور والدین کو بہترین تعلیم کا جھانسہ دیکر ہر پرائیوٹ سکول کا سربراہ کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچے ان کی سکول میں داخلہ لے مگر محکمہ ایجوکیشن کے زمہ دار یہ نہیں دیکھتے کہ جتنی فیس بچوں سے لی جاتی ہے اتنی تعلیم بھی دی جاتی ہے کہ نہیں یا اس سکول میں اس معیار کے اساتذہ بھی تعینات کئے گئے ہیں یا صرف روزگا ر کے لئے سکول کھولے گئے ہیں یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انسانی ترقی اور سربلندی کا حقیقی راج علم کے حصول میں منحصر ہے آج کے اس جدید دور میں علم کے بغیر انسان کسی بھی جگہ یا مقام تک نہیں پہنچ سکتا ہمیں اس جدید اور تیز رفتا ر دنیا میں خو د کو اگے لانے کے لئے حصول تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے مگر بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے آج گلگت بلتستان میں تعلیمی ادارے جس طرح ناکامی کا شکار ہیں اس کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ہم اس وقت تک دنیا کے باوقار اور پراعتماد قوم میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک ان چیلنجوں کا جواب دینے کے لئے نوجوانوں کی ایک ایسی کھپ آگے نہیں بھیج دیتے جو زمانے کے ہم رنگ اور اہم اہنگ چلنا جانتی ہے اس کے لئے محنت کی اشد ضرورت ہے اساتذہ کو قوم کے معمار طلبہ کو آگے لانے کے لئے دن رات محنت کرنی ہوگی چونکہ یہ دور مشینی دور ہے ہمیں روایتی اور فرسودہ نظام کو ختم کرکے جدیدتعلیمی نظام لانا ہوگا اس کے لئے سرکاری سکولوں میں اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کا ہونا ضروری ہے گلگت بلتستان کے بہت سارے سکولوں میں نہ صرف اساتذہ کی کمی ہے بلکہ زیادہ تر ایسے سکول بھی ہیں جہاں پر اساتذہ کی تعیناتی تو اس سکول میں کیا جاتا ہے مگر بعض اساتذہ سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے ان سکولوں میں ڈیوٹی کی بجائے اپنے گھروں کے قریب سکولوں میں ڈیوٹی دیتے ہیں بعض ایسے اساتذہ بھی ہے جو سکولوں میں ڈیوٹی کم اور نجی اداروں میں فرائض زیادہ انجام دیتے ہیں اور ان اساتذہ کی ڈیوٹی سے غائب ہونے کی وجہ سے سکول کے بچوں میں اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں سینکڑوں ایسے قابل ترین اساتذہ جو سکولوں میں ڈیوٹی دیتے تھے ان قابل ترین اساتذہ کو سکولوں سے اٹھاکر ایجوکشن کے دفتروں میں تعینات کر دیا گیا کسی کو ڈی ڈی ایجوکشن بنایا گیا تو کوئی اے ڈی ائی بن گئے جس سے گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا معیار گرتا جارہا ہے جس باعث ہر سال سالانہ رزلٹ چند سکولوں کے دیگر سکولوں کا رزلٹ بد سے بدتر آتا ہے معمار قوم کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو جدید تعلیمی نظام سے متعارف کرائے تاکہ یہ بچے اپنے اور اپنے ملک کا نام روشن کر سکے مگر بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں تعلیمی حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ایسے ہونہار بچے بہت کم پیدا ہوتے ہیں جس کی اصل وجہ تعلیمی اداروں کی نااہلی اور ڈیوٹی سے غفلت ہے تعلیمی انحطاط کی ایک بڑی وجہ1956ء کے بعد گلگت بلتستان میں سکولوں کا اجرا بھی ہے 1946ء سے قبل گلگت بلتستان میں گنتی کے چند سکول ہواکرتے تھے غذر کے گاؤں میں گلاپور میں ایک مڈل سکول ہوا کرتا تھا اس سے قبل سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوئم نے غذر کے مختلف علاقوں میں ڈی جے کے نام سے سکول کھولنے کا فرمان جاری کیا کئی افراد نے ان سکولوں سے تعلیم حاصل کی اور ان سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے افراد گلگت بلتستان کے اہم اداروں میں اہم پوسٹوں پر تعینات رہے مگر حکومت کی طرف سے 1956تک ان علاقوں میں تعلیم کے حوالے سے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیااس وجہ سے اس وقت کی نوجوان نسل تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہی جب ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو گلگت بلتستان میں جگہ جگہ سکول کھول دئیے گئے اور علاقے میں تعلیم عام ہوئی اور مختلف علاقوں میں ہائی سکولز اور کالجز کا قیام عمل میں لایا گیا اوربہت سے نوجوان تعلیم سے مستفید ہوئے اس کے بعد سکول بنتے گئے عمارتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا مگر تعلیم کا گراف اگے بڑھنے کی بجائے نیچے آتا گیا اج یہ حالت ہے کہ کسی بھی سرکاری سکول کا سالانہ رزلٹ حوصلہ افزا نہیں راقم کی نظر میں اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ قابل ترین اساتذہ کو سکولوں سے اٹھاکر دفتروں میں تعینات کیا جاناہے جس باعث گلگت بلتستان کے سرکاری سکولوں میں تعلیمی نظام بہتر ہوتا ہوا نظر نہیں اتا اور اب تو حالت یہ ہے کہ عوام کے علاوہ اساتذہ کے اپنے بچے بھی سرکاری سکولوں کی بجائے پرائیوٹ سکولوں میں میں داخل کرائے جاتے ہیں مگر آج کل پرائیوٹ سکولز کی بھی یہ حالت ہے کہ بعض افراد نے اس کو ایک منافع بخش کاروبار سمجھ کر اس طرح تھوک کے حساب سے سکول کھولے ہیں کہ والدین خود پریشان ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کس سکول میں داخل کرادیں دوسری طرف آغاخان ایجوکشن سروس جو گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بہترین تعلیم دینے والے اداروں میں شامل ہوتا تھا اور اس حوالے سے اس ادارے کی بہترین کارکردگی پر یورپین کمیشن کی طرف سے کروڑوں روپے بھی ملے تھے جبکہ 2000سے2012تک ا ے کے ای ایس کے سکول گلگت بلتستان کے بہترین سکولز میں شامل ہوتے تھے مگر اب ان سکولوں میں بھی تعلیم کا وہ معیار نہیں رہا جس کی عوام توقع رکھتے تھے جس کی وجہ بھی یہ بتائی جاتی ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے اساتذہ کی بھر تیوں میں میرٹ کونظرانداز کرنے کے باعث اب پہلے کے ڈی جے سکولز اور آج کے اے کے ای ایس سکولز میں تعلیم کا وہ معیار نہیں رہا ایک طرف سرکاری سکولوں میں جہاں تعلیمی نظام بہتر نہیں تو وہاں پر اے کے ای ایس کے سکولوں میں بھی تعلیمی نظام کو بہتر نہیں کہا جاسکتا گلگت بلتستان میں ایجوکشن سے وابسط اعلی حکام کو خطے میں تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے سرکاری سکولز کے ساتھ پرائیوٹ سکولز پر بھی نظر رکھنے ہوگی آج تھوک کے حساب سے گلی اور محلوں میں پرائیوٹ سکول کھولے جاتے ہیں کیا وہ مطلوبہ معیار پر پورا اترتے ہیں اگر نہیں تو ایسے سکولز کی تالہ بندی کی جائے جو والدین سے پیسے بٹورنے کے لئے سکولز کھولتے ہیں محکمہ ایجوکشن گلگت بلتستان کے اعلی حکام کی خاموشی کی وجہ سے آج پرائیوٹ سکول کا کاروبار سب سے فائدہ مند کاروبار بن گیا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر صاحبان ان پرائیوٹ سکولز کا باقاعدہ دورہ کرئے اور تعلیم کا معیار چیک کیا جائے اور والدین سے ہزاروں روپے فیس کے نام سے وصول کرنے والے ان پرائیوٹ سکولز میں وہ تعلیم دی جارہی ہے جس مد میں وہ بچوں کے والدین سے پیسے وصول کرتے ہیں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ گلگت بلتستان میں درجنوں ایسے سکولز ہیں جو سرکاری کھاتے میں رجسٹرڈ تک نہیں مگر یہ پرائیوٹ سکولز چلانے والوں کو بعض سیاسی شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے اور یہ لوگ بغیر این او سی کے پرائیوٹ تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں مگر محکمہ ایجوکیشن کے حکام کو سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود بھی خاموش ہیں جو کسی بھی طرح قوم کے معماروں کے لئے نیک شگون نہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments