دیوانوں کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( میری آنکھ کا پروسیجر )  آخری قسط 

کہانی یہاں تک پہینچی تھی کہ میری آنکھ میں سولہ مرتبہ قطرے ڈالے گئے تھے میں سوچ رہا تھا کہ ابھی میری آنکھ سن ہو گئی ہوگی ۔ میں بار بار اپنی آنکھ کو انگلیوں سے چھو کر دیکھ لیتا کہ سن ہوئی ہے یا نہیں۔

مجھے یہ بھی ڈر تھا کہ بہت ممکن ہے کہ ڈاکٹر مجھے بلانے میں تاخیر کرے اور  تب تک میری آنکھ سے نشہ اتر چکا ہو تو پروسیجر میں ہونے والے درد کو کیسے سہوں گا ۔ میرے سامنے بیٹھی نرس گھڑی  کی طرف دیکھتے ہوے میری جانب لپکے ( یہ لوگ سہی معنوں میں فرشتے ہوتے ہیں مریض کو چھوتے ہوئے بہت احتیاط برتتے ہیں تمام تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکتھے ہیں )  نرس نے میرا بلیڈ پریشر چیک کیا اور ساتھ ہی یہ بھی دریافت کیا کہ ٓخری مرتبہ رفع حاجت کب کی تھی ؟ میں نے رفع حاجت کا درست وقت تو  بتا دیا ۔ لیکن شش و پہنچ کا شکار ہوا  کہ رفع جاجت ( چھوٹی واش روم ) کا میری آنکھوں سے کیا تعلق ہے ؟  انہی سوچوں میں  الجھ  کر میں مزید پریشان ہوا یوں مجھے بار بار واش روم کی طلب ہو نے لگی اور زور سے ہونے لگی ۔ مجھے اُس دوران یہ خوف بھی دامن گیر رہا کہ اگر خدا ناخواستہ مجھے رفع حاجت کے بغیر تھیٹر میں بلایا گیا تو اپریشن کی میز پر کہیں کوئی شرمناک حادثہ پیش نہ آئے اور جس کی بنیاد پر  میں  دوبارہ سر اُٹھا کے لوگوں سے ملنے کے  قابل نہ رہوں گا پھر یکدم سے  ایک مثبت خیال آیا کہ یہ تو اے کے یو کے ڈاکٹر ہیں یہ تو راز داری میں اپنی مثال آپ ہیں بلکہ یہ تو  سر تا پا صیغہ راز ہیں ۔ میں نے بھرائی آواز اور مرجھائی ہوئی زبان سے ڈیوٹی پر تعینات نرس سے واش روم جانے کی اجازت طلب کی ۔ انہوں نے انتہائی احترام سے کہا ’’ سر ڈاکٹر سے پوچھنا پڑے گا  وہ اگر اجازت دے دیں تو آپ جا سکتے ہیں‘‘  اتنے میں میرے مسیحا ڈاکٹر عرفان جیوا سبز قبے میں ملبوس متبسم چہرہ لئے تھیٹر سے باہر آئے ۔ مجھ سے بڑے تپاک سے ملے ۔ ڈاکٹر کے اس طرز معانقے سے مجھے اور بھی شک ہوا کہ شاید میری بیماری گمبھیر ہے اور ڈاکٹر میری دلجوئی کی خاطر اس طرح سے ملے ہیں ( یاد رہے کہ ڈاکٹر عرفان جیوا اپنے مریضوں کو ہمیشہ تپاک سے ملتے ہیں مجھے اپریشن کے دوران بھی ایسا لگا کہ میری سگی ماہ کا ہاتھ میری آنکھوں کو چھو رہا ہے ) ۔ میرے ہونٹ خشک ہو گئے تھے جیسے گوندھ لگائی گئی ہو ۔ میں نے مشکل سے پوچھا ’’ سر میں واش روم جا سکتا ہوں‘‘  ڈاکٹر جیوا میر ے جیسے لاکھوں مریضوں سے گزرے تھے انہیں مجھ جیسے مریضوں کوحوصلہ دینے کا فن خوب آتا تھا ، انہوں نے میری آنکھ کا معائنہ کیا ، بولے “ very nice , fantastic , suburb”  ’’ ہاں جی آپ ضرور جائیں وہ دیکھو سامنے وہ رہا واش روم  پلیز!!! ‘‘ مجھے  تب جاکے معلوم ہوا کہ در اصل خوشی کیا ہوتی ہے ۔ خوشی دولت سے نہیں آتی اور نہ خوشی کسی خاص طبقے  کے لئے مخصوص ہے بلکہ خوشی اُس لمحے کا نام ہے جب آپ کسی مشکل میں ہوں اور کوئی آکر آپ کی مشکل آسان کردے ۔جیسے ہی میں واش روم سے باہر آیا تو ایک اور نرس نے اپریشن تھیٹر کی طرف  میری راہنمائی کی ۔  میں تانگے کے گھوڑے کی مانند اپریشن تھیٹر میں داخل ہوا ۔ دائیں بائیں بالکل نہیں دیکھا کیوں کہ ایسی صورت میں مجھے چھری ، قینچی اور سوئیاں وغٰیرہ نظر آنے کے خدشات تھے ۔ لہذا سیدھا اپریشن کی میز پر جاکے دراز ہو گیا اوپر ایک مشین لگی  تھی اُس مشین کی نوک پر ایک گول سا عد سہ لگا ہوا تھا میں نے اُس سیشے کی طرف اپنی نظریں مرکوز کر کے رکھیں تاکہ کسی ڈاکٹر کے ہاتھ میں کوئی اوزار نظر نہ آئے ۔ ایک نرس میری آنکھ میں قطرے ڈالتے رہے اس کے بعد ایک سفید چادر سے میرے ستر کو ڈھانپا  گیا اور جبڑے کے نیچے سے بھی ایک پٹی باندھی گئی ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب میری موت کا شک یقین میں بدل گیا میں نے یہ سوچا کہ شاید میری سانس کے قلیل المدتی بندش  اور میری ظاہری شریانوں کے وقتی طور پر رک جانے پر لوگوں نے میری موت کی تصدیق کی ہو اور شاید میں زندگی اور موت کی کشمش میں اپنے آپ کو آغا خان ہسپتال میں پا رہا ہوں ۔ لہذا مناسب یہ سمجھا کہ پوچھا جائے کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے کیا میں زندہ  ہوں ۔ میں نے پوچھ لیا ’’ میری ٹھوڑی کے نیچے جو پٹی باندھی گئی ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ ‘‘، نرس نے ہنستے ہوئے بولا،  ’’ جناب پروسیجر کے دوران  پانی سے آنکھوں کی صفائی ہوتی ہے یہ پٹی پانی کو جسم کے باقی حصوں میں جانے سے  روکنے کے لئے ہے ‘‘  میں نے کہا’’ میری آنکھ کے ارد گرد جو عینک نکما پرزہ لگایا گیا ہے اس سے مجھے درد ہوتا ہے ‘‘ میرے اس سوال پر نرس نے مزیدے قطرے ڈالے اور پوچھا ’’ اب درد تو نہیں ہو رہا ‘‘ مجھے دردر تو نہیں ہو رہا تھا لیکن میں نے اس ڈر سے کہ کہیں دوران پروسیجر زیادہ درد ہوگا لہذا سن کرنے والی دوائی کا زیادہ ڈالا جانا بہتر ہوگا ، کہا ’’ ہاں تھوڑا  سا درد ہو رہا ہے ‘‘  میرے جواب پر نرس نے قطرے ڈالنا بند کردیا ۔ اب کی بار ڈاکٹر جیوا میرے پاس کھڑے تھے انہوں نے کہا ’’ سیدھا میری انگلی کی طرف دیکھو ‘‘ میں  دھندلی نظر سے دیکھتا رہا ۔ مجھے سوئی نما کوئی چیز نظر آئی پھر ۔ ڈاکٹر نے وہ سوئی نما چیز میری آنکھ کے  نیچے لگا دی اور وہ کافی نیچے تک جاتی ہوئی معلوم ہوئی لیکن اُس کا احساس ایسا تھا کہ جیسے گوندھے ہوئے آٹے میں سے کوئی ملائم دھاکہ گزارا جائے  ، مجھے بالکل ایسا  ایسا ہی لگا ۔ چونکہ مجھے شک پڑا تھا کہ کہیں ڈاکٹر نے انجکشن تو نہیں لگایا ۔ میں نے پوچھا ’’ سر انجکشن تو نہیں ہے ‘‘ ڈاکٹر جیوا صاحب بولے ’’ نہیں نہیں یہ ڈراپ ہے ۔ آپ لمبی لمبی سانسیں  لو ‘‘ ڈاکٹر کا ہاتھ اٹھ گیا  نرس نے تیزی سے آںکھ کے اوپر ملنا شروع کیا  اس کے بعد مجھے ایسا لگا جیسے ٹیلی وژن کے تصاویر یکدم سے غائب ہوگئیں ہوں ۔ میں نے جب دیکھنے کی کوشش کی تو میرے سامنے ایک اسکرین تھا اور وہ آسمان سے وسیع اور بہت ہی خوبصورت تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک نیلے رنگ کا چاند اُسی آسمان پر نمودار ہوا اور مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق کی جانب گھومتا رہا ۔ یہ ایسا پر سکون منظر تھا کہ آنکھیں جھپکے بغیر تکتے  رہنے کو دل کرتا تھا ۔ تھوڑی سی عنودگی کا سما بھی تھا ۔ چاند آسمان پر گردش کرتا رہا اور میں مستی کی کیفیت میں اُسے دیکتھا رہا  ۔حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں ۔ میرے ساتھ یہی کچھ معاملہ تھا ۔ ڈاکٹر نے مجھے جھنجھوڑ کر کہا ’’ جناب کیسے ہو ؟‘‘  میں نے کہا ’’ سر میں بالکل بہترین ہوں ‘‘ ڈاکٹر نے کہا ’’ چلو اٹھو بھائی اپریشن ہو گیا ‘‘  مجھے یقین نہیں آیا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آنکھ میں مشینوں سے کا م ہو اور مریض بجائے پریشان ہونے کے لطف اندوز ہوتا رہے ۔ صبح  جب میری انکھ کھلی تو میں ایک خوبصورت دنیا میں تھا ۔ مجھے اب تک معلوم نہیں کہ وہ چیز کیا تھی جسے  آنکھ کے نیچے لگانے کے بعد ایک نرس میری آنکھ کو دباتے اور مالش کرتے رہے یوں منظر بدل گیا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments