گورننس آرڈر اور بھارت کے عزائم

تحریر :۔ دردانہ شیر

جنگ آزادی گلگت بلتستان کی تاریخ سنہری حروف سے نہیں بلکہ شہیدوں کے خون سے لکھی گئی ہے کیونکہ ڈوگرہ راج کے مضبوط فوج سے ٹکراتے ان شہدا نے گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑوں کو اپنے خون سے رنگین کیا ہے بے سروسامانی کے عالم میں ہمارے بزرگوں نے ڈوگرہ فوج سے جنگ شوق شہادت اور زوق قیادت نہ اپنے پیاروں سے بچھڑنے کا غم اور نہ ہی ہاتھ پاؤں ناکارہ ہونے کی فکر دل میں وہی ولولے اور زبان پر پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے غزوہ بدر کی یا د تازہ کرتے ہیں اور فتح حاصل کرنے کے بعد تکبر وخودستانی کے رب عظیم کے آگے سجدہ بجا لاتے ہیں اور 28ہزار مربع میل کا علاقہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قدموں میں نچھاور کرتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان کے لوگ مسلمان تھے اور نظریہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو دل سے قبول کرچکے تھے یہاں کے عوام کا یہ فیصلہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا تھا کہ جس سے ان کو کوئی دکھ ہو ہمارے بزرگوں نے جو بھی فیصلہ کیا تھا وہ سوچ سمجھ کر کیا تھا یہاں کے عوام نے ایک طویل عرصے انگریز حکام اور ڈوگرہ راج کے مختلف کالے قوانین کے تحت بڑے تکلفات برداشت کئے تھے جس میں ایف سی آر 1901اور 1935کے تحت زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے یہی وجہ ہے کہ یہاں کے غیور عوام نے پاکستان وجود میں آنے کے بعد سے لیکر آج تک اپنے جانوں کے نذرانے اس ملک کی گلشن کی آبیاری کے لئے دیتے آئے ہیں چونکہ گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان کی آزادی سے تین ماہ بعد آزادی حاصل کی اور اسلامی جزبے سے سرشار ہوکر پاکستان میں شامل ہوگئے 1948کی جنگ آزادی ہو یا 65کی پاک بھارت جنگ 71کی جنگ ہو یا معرکہ کرگل ان تمام جنگوں میں یہاں کے بہادر سپوتوں نے بہادری کی وہ لازول دستانیں رقم کی ہے جس کو رہتی دنیاتک یاد رکھا جائے گا آج گلگت بلتستان کے ہر گاؤں میں سبز ہلالی پرچم ہر شہید کی مزار پر لہرا رہاہے جو اس بات کی ثبوت ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام سچے پاکستانی ہیں اور یہ اس ملک کی گلشن کی ابیاری کے لئے ہر وقت قربانی دیتے رینگے گلگت بلتستان کے حوالے سے بھارت حسب روایت ایک بار پھر ایک جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے تاکہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے کشمیری مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم کو بین القوامی میڈیا سے دور رکھا جائے بھارت نے کشمیر میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے اب بھارت اپنے مظالم سے دنیا کی نظریں ہٹانے کے لئے گلگت بلتستان کے خلاف بھی اپنے میڈیا کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے یہ وہ ملک ہے جو اپنے گھر کو تو نہیں سنبھال سکتا البتہ دوسروں پر حملے کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کو جب بھی کوئی پیکیج کا اعلان کریں تو اس تکلیف بھی ہمارے اس دشمن ملک کو ہورہا ہے حالانکہ ان کو سب کچھ پتہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لاکھوں عوام نے جو فیصلہ کیا ہے وہ درست فیصلہ تھا اور گلگت بلتستان کے عوام آج بھی پاکستان کے لئے اپنی جان مال سب کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ گلگت بلتستان جب بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو تو اس کی تکلیف انڈیا کو ضرور ہوتا ہے چاہئے وہ سی پیک کی شکل میں ہو یا گورننس ارڈر 2018ہو بھارت کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے بارے میں بات کرئے گلگت بلتستان کے غیور عوام سترسال پہلے پاکستان میں شامل ہوگئے ہیں ہمارے بزرگوں نے جو فیصلہ کیا تھا وہ ایک دانشمندہ فیصلہ تھا اور گلگت بلتستان کے لاکھوں عوام اپنے بزرگوں کے اس فیصلے سے بے حد خوش ہیں دوسری طرف بھارت نے جس نے اب تک جموں و کشمیر میں قتل و غارت سے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور یہ مکار ملک کو اب گلگت بلتستان کو دئیے جانے والے پیکیج اور مراعات ہضم نہیں ہورہے ہیں اور اپنے ملک کے میڈیا پر گلگت بلتستان کے حوالے سے من گھڑٹ خبریں چلا کر دنیا کی توجہ کشمیر سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے مگر بھارت کے مظالم اب پوری دنیا میں عیاں ہوگئے ہیں وہ جتنا چاہئے پروپیگنڈہ کر یں گلگت بلتستان کے عوام پاکستانی تھے ہیں اور رہے نگے چونکہ گلگت بلتستان سے اب سی پیک گزر رہا ہے اور سی پیک سے گلگت بلتستان کے عوام کی تقدیر بدل جائیگی اور یہ خطہ بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا ہمارا یہ دشمن ملک کسی بھی طرح سی پیک کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے اور اس کے یہ ناپاک عزائم کبھی بھی کامیاب نہیں ہونگے چونکہ گلگت بلتستان کے عوام نے اٹھائیس ہزار مربع میل کا علاقہ ایسے ہی حاصل نہیں کیا ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے بزرگوں نے اپنے خون کا نذرانہ دیکر یہ علاقہ ڈوگروں سے آزاد کر اکے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شامل ہوگئے ہیں بھارت جتنا چاہے پروپیگنڈہ کریں اس سے خطے کے عوام کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے یہاں کے عوام بھارت کے غلط عزائم سے بخوبی اگاہ ہیں اور وہ دن ضرور ائے گا کہ ہمارے کشمیری بھائی بھی بھارت کے ظلم و جبر سے بہت جلد آزادی حاصل کرلینگے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments