تحریک انصاف کا بدلا ہوا خیبر پختون خواہ۔۔۔۔

تحریر۔اسلم چلاسی

ستر سال قبل مسلمانان ہند کو ایسے سبز باغ دیکھائے گئے جس میں دو قومی نظریہ کے بنیاد پر ایک ایسی مملکت کا تصور پیش کیا گیا جس میں مسلمان اپنے مذہبی عقائد کے عین مطابق زندگی گزار ینگے اس میں کوئی نیا ں آئین یا قانون کی ضرورت نہیں پڑے گی۔قرآن کریم کے احکامات اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو ملک کا دستور و قانون تصور کیا جائے گا۔ریاست مدینہ کی شکل میں ایک ایسی مثالی ریاست قائم کیا جائے گا جس میں دریائے سندہ کے کنارے کوئی کتا بھوک سے مر جائیں تو میاں اور زردار کو خوف لاحق ہوجائے گا کہ کل کو کائنات کا مالک اس کتے کا حساب ہم سے پوچھے گا۔جس میں امن ہوگا خوشحالی ہوگی بھائی چارگی کا فضا قائم ہوگا ۔امیر و غریب میں کوئی تفریق نہیں ہوگی۔ محمود و ایاز ایک صف میں کھڑے ہونگے ۔قرآن و حدیث کی روشنی میں انصاف گھر کی دہلیز پر مہیا ہوگا۔کوئی تفرقہ بازی نہیں ہوگی۔اللہ رسول کو ماننے والوں میں کفر و مشرک اور گستاخ کے فتوے نہیں لگینگے۔سب کی جان و مال عزت و آبرو کی تحفظ کو یقینی بنا یا جائے گا۔ سر کش کو دبایا جائے گا مظلوم کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔مگر خوش قسمتی سے ایک عظیم اور ناقابل تسخیر ملک تو حاصل کیا گیا مگر بدقسمتی سے جس مقصد کیلے کروڑوں انسانوں سے قر بانی لیا گیا تھا وہ ستر سال بیت جانے کے باوجود سوالیہ نشان بن کر رہ گئے۔ اور اپر سے دو قومی نظریہ کی خوش فہمی میں یہ قوم ستر سالوں تک سوتی رہی اس نظریہ کو بھی مشکوک بنا دیا گیا۔کروڑوں مسلمانوں کو ہندوں اور سکھوں کے ہاتھوں مروا کر اب جا کہ پتا چلتا ہے کہ مسلمانان ہند کی جدو جہد ایک اسلامی فلاحی ریاست کیلے نہیں بلکہ ایک سکیولر ملک کی حصولی کیلے تھی۔اس گھٹن زدہ معاشرے میں کتنے فیصلے قرآن و حدیث کی روشنی میں ہوتے ہیں ؟انصاف کی فراہمی کس قدر سستا ہے ؟دریا کے کنارے کتوں کے موت کی زمہ داری تو دور کی بات ہے یہاں ایسا استحصالی نظام ہے کہ کہیں امیرکے کتے مٹن اور ملائی نوش فرماتے ہیں تو کہیں انسان بھوک و افلاس سے مر جاتے ہیں۔ غربت تنگدستی اوربھوک کی وجہ سے انسان خد سوزی پر مجبور ہے ۔غربت اس قدر آگے نکل چکی ہے کہ محض چند روپے مالیت کی ایک لیٹر پیٹرول کی حصولی کیلے درجنوں انسان آگ میں کود جاتے ہیں۔انصاف وکیلوں کے زریعے خریدنا پڑتا ہے ایک عام آدمی جس کے پاس وافر مقدار میں زر نہ ہو اس کیلے انصاف کے دروازے بند ہیں ۔ہزاروں لاکھوں وصولی کے بعد ایک وکیل مظلوم کی حق میں چار شب بول دیتا ہے ہر شعبے میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہے۔اقربا پروری بدعنوانی چوری چکاری اور سفارشی ماحول نے قوم کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔سرکاری وسائل کا بے رحمانہ استعمال میرٹ کا جنازہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔طاقت سفارشی کلچر اور زر کی بنیاد پر سرکاری عہدے حقداروں کے بجائے نا اہل لوگوں میں بانٹ دیے جاتے ہیں قانون کے تمام شکنجے بے بس لاچار اور غریب لو گوں کے گلے میں پڑ جاتے ہیں بھوک و افلاس سے تنگ آکر مر غی اور بکری چور ی کرنے والوں کو سالوں تک سلاخوں کے پیچھے دہکیل دیا جاتا ہے لیکن ملک و ملت کو لوٹ کر اپر سے بے توقیر کرنے والوں کی گریبان میں ہاتھ نہیں جاتا۔اپنے ملکی اداروں کی قابل قدر اقدامات کو محض اقتدار چھن جانے کی وجہ سے دنیاں کے سامنے ایسے اشکار کیا جاتا ہے کہ گویا وہ دنیاں کے سب سے بڑے دہشت گردہے اور دنیاں کو درپیش دہشت گردی میں ان کا ہاتھ ہے ملکی معیشت معاشرت اور سفارت کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا گیا ایک ایسا افرا تفریح کے ما حول میں ملک و ملت کا بیڑا لیکر اٹھنے والا شخص جس کا دامن تمام خرافات سے پاک ہو دنیاں کی کسی چیز کی لالچ اس کو ایک آنکھ نہیں بہاتی ہو جس نے برطانیہ کے رکن پارلمینٹ بننے سے انکار کردیا ہو جس نے گولڈ سمتھ کے اربوں ڈالر کو ٹھکرا دیا ہو ایک ایسا شخص اس قوم کو باوقار قوم بنا نے کیلے اپنا سب کچھ قربان کر کے نمل یو نیورسٹی کی شکل میں علم کی نور پھیلانے میں اور شوکت خانم میں دکھی انسانیت کو مفت علاج فراہم کر نے کے ساتھ آج اس قوم کی تعمیر کا بیڑا لیکر اٹھتا ہے اور ایک ایسا نظام و تبدیلی لیکر آنا چاہتا ہے جس کا خواب اس قوم کو ستر سال قبل دیکھا یا گیا تھا۔جس کا عملی نمونہ اس شخص نے خیبر پختونخواہ جیسا سخت قبائلی ما حول میں ایک قلیل عرثے میں اور انتہائی محدود وسائل کے باوجود لاکر دیکھایاتعصب تنگ نظری اور روایتی سیاسی کیچڑ زدہ عینک اٹھا کر کھلی آنکھوں سے دیکھا جائیں توخیبر پختون خواہ میں ایک عظیم تبدیلی نظر آئے گی۔ پولیس فورس ملک بھر کی طرح خیبر پختونخواہ میں بھی خوف کا علامت سمجھا جاتا تھا وہی بدنام ادارہ آج کے پی کے میں فخر کا علامت بن چکا ہے۔جن کو دیکھ کر لوگ خوف محسوس کرتے تھے آج ان کو دیکھ کر دل میں مسرت پیدا ہوتی ہے ۔علاج معالجے کا نظام اس قدر بہتر اور اعلی معیاری ہو چکا ہے کہ ہسپتال کے اندر جاتے ہوئے کسی ترقی یافتہ ملک میں موجودگی کا گمان پیدا ہو جاتا ہے عملہ کی طرف سے ایسا شائستہ رویہ ہے کہ ان کی اخلاق اور ہمدردی کو دیکھتے ہی مریض کی ادھی مرض رفع ہو جاتی ہے ۔اور ایسا لگتا ہے کہ سارا عملہ اس ایک مریض کے انتظار میں بیٹھے تھے جو ہی مریض پہنچ گیا ان کو سر پر اٹھا دیتے ہیں ۔یہاں لواحقین کو علاج کیلے دھائی دینی نہیں پڑتی ہے۔تعلیم کا سلیبس دیکھیں دین و دنیاں دونوں شعبوں کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے ایسا نظام وضح کیا گیا ہے کہ جس میں غریب امیر کی کوئی تفریق نہیں ہے سب کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے مجال ہے کہ کوئی مدرس غیر حاضر رہے یا اپنی فرائض منصبی میں کوتاہی کا مرتکب ٹھہریں طلبہ کی حوصلہ افزائی سکالر شپ اور وظیفہ کہ ادائی گی یقینی بنائی گئی ہے طلبہ کے زوق کے مطابق انتہائی پیشہ ور اساتزہ کی زیرے نگرانی ایسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں جو کسی بھی صورت انگریز کا محض کلرک یا با بو پیدا کرنے والا غلامانہ نصاب نہیں بلکہ جدید دنیاں کے تقاضوں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔دوسری طرف فوری انصاف کی فراہمی کیلے عدالتی نظام سے ہٹ کر اچھی شہرت رکھنے والے ریٹائرڈ آفیسران پر مشتمل عوامی جیوری قائم کیا گیا ہے یہاں کسی وکیل کی ضرورت نہیں ہے دونوں فریقین کا موقف سن کر زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر ہر سطح پر باریک بینی سے تحقیقات کر کے ایسا انصاف فراہم کیا جاتا ہے جو بروقت ہوتا ہے جس کو عوام قبول بھی کرتی ہے ۔بڑے بڑے معاملات کو چند دنوں میں حل کیا جاتا ہے۔تمام سرکاری شعبوں میں کام کرنے والوں کی اس قدر حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ دفاتر میں عملہ کی پیشہ ورانہ ما حول کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ وہ پرانا خیبر پختونخواہ نہیں ہے جس میں لاقانونیت اور بد امنی کا راج تھا ۔عوام اپنی زمہ داری اور حقوق کی شعور رکھنے لگی ہے ۔ پلوں سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ انسانی معاشرے کی تعمیر میں عمران خان نے جو نمایا تبدیلی اور بہتری لا یا ہے ایسا سب کچھ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا اور نہ کبھی کسی نے اس طرح کی ترقی و بہتری کی کوشش کی ہے ۔جاری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments