چلاس کے باسی بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ سے متاثر، محکمہ برقیات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

چلاس (مجیب الرحمن) ملک کو اندھیروں سے نکالنے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے اپنا سب کچھ لٹانے والے خود لوڈشیڈنگ کی اذیت میں مبتلا ہوگئے۔بیس سے بائیس گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا شکار چلاس کے شہریوں کا پارہ چڑھ گیا۔محکمہ برقیات کے پاور سپلائی سٹیشن کا گھیراؤ کر کے دھرنا دے دیا۔مظاہرین نے محکمہ برقیات اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں پینتالیس درجہ سینٹی گریڈ تک کی گرمی میں بجلی مکمل غائب ہے۔جس کی وجہ سے روزہ دار اور معصوم بچے اور بزرگ گرمی سے تڑپ رہے ہیں۔

احتجاجی مظاہرین نے حکومت وقت کو چوبیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے اپنے مطالبہ کیا ہے کہ

1.محکمہ برقیات کے تمام کلیریکل سٹاف کو فوری ضلع بدر کیا جائے

2.محکمہ برقیات کےتمام انجینئنرنگ سٹاف اور ٹیکنیکل سٹاف جو کہ جعلی اور بوگس اسٹمیٹ بنا کر بجلی کی مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہیں۔ان کے ٹینڈرز منسوخ کئے جائیں۔

3.بجلی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے بنیادی اقدامات کئے جائیں

4۔واپڈا آفس اور تھور واپڈا کالونی کی بجلی ابھی اور اسی وقت کاٹی جائے۔

5۔تمام بینکوں کی لائنیں منقطع کی جائیں۔ہر بینک میں دس سے پندرہ اے سی لگی ہوئی ہیں۔

6۔دس سالوں سے زیر التوا  بجلی کے منصوبوں کی ایڈوانس ادائیگی محکمے کی ملی بھگت سے کی گئی ہے۔محکمے کے عملے اور ٹھیکیداروں کے خلاف کاروائی کر کے جیل بھیج دیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments