ضلع کھرمنگ اور سیاحت

تحریر: سرور حسین سکندر

پچھلے سال گلگت بلتستان میں سیاحت کی غرض سے تقریبا دو ملین ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے رخ کیا جس کی تعداد ہر سال بڑھتی جائے گی حکومت نے تو اس دفعہ اس سے بھی زیادہ تعداد کی توقع کر رکھی ہے اس دوران سیاحوں کی مدد اور سہولت کے لئے صوبے کے تمام اضلاع میں محکمہ سیاحت کی جانب سے ٹورسٹ گائیڈ سیل کے ساتھ ساتھ داخلی چیک پوسٹوں پر سیاحتی مقامات کے نقشے بینرز اور سائین بورڈز پر آویزان کئے جاتے ہیں اور اس پیشے سے منسلک ہزاروں افراد کی روٹی دال گلنے لگتی ہے سیاحت کے شعبے کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ اس علاقے کے روڈ انفراسٹریکچر کے ساتھ ساتھ قیام و طعام کے لئے خاص انتظام ہو دوسری جانب سکیورٹی کی بھی خاطر خوا ہ انتظاما ت ہو سیاحتی جگہوں کی مکمل صفائی اور کچڑے پھنکنے کے لئے خصوصی توجہ گلگت بلتستان حکومت یہاں کے سڑکوں کو مزید بہتر کر کے سیاحت کے شعبے سے اربوں کما سکتی ہے اس کے لئے اچھی اور فوری حکمت عملی مرتب دینے کی ضرورت ہے دنیا کے بہت سارے ممالک کی معیشت ہی سیاحت سے چلتی ہے اور اسی طرح یہاں گلگت بلتستان کے معیشت کو بھی سیاحت سے بڑے پیمانے پر ریونیوجنریٹ کر کے دے سکتے ہیں اس کے لئے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر ٹورسٹ پوائنٹس کی طرف جانے والی سڑکوں کے بھی تزین و آرائش کرنی چایئے حکومت کی جانب سے صوبے کے تمام اضلاع میں سیاحوں کی استقبال کے لئے اقدامات اٹھانا قابل تحسین لیکن اس کے برعکس نومولود ضلع کھرمنگ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے کھرمنگ میں بھی بہت خوبصورت اور قابل دید ٹورسٹ پوائنٹس ہیں جن میں منٹھوکہ آبشار خموش آبشار کھرمنگ کھر غندوس جھیل غندوس ٹو گنگچھے ٹریکینگ روٹ منٹھو جھیل کسور و جھیل شامل ہیں ان میں صرف منٹھوکہ اور خموش آبشار ہی میں سیاح پہنچتے ہیں باقی پوائنٹس اب بھی زیادہ تر سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہے ان تما م پوانٹس میں بھی سیاح کی پہنچ ہونی چاہئے جن کے لئے سب سے زیادہ محکمہ سیاحت کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور ضلع کھرمنگ میں وار زون ہونے کی وجہ سے غیر ملکی سیاحوں کو آنے کی اجازت نہیں ہے غیر ملکی سیاح بھی ضلع کھرمنگ کی خوبصورتی کو دیکھنے کی خواہش مند ہے لیکن ان کو اس ضلع میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اہم ایشو کی حل کرنے کے لئے اب تک کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے ہیں سابق اسسٹنٹ کمشنر کھرمنگ محمد جعفر نے ہماری التجا ء پر اس پر کام کرنا شروع کیا تھا جس کے لئے پاک افواج سمیت تمام متعلقہ آفیسروں سے ملے بھی تھے لیکن ان کا ٹرانسفر اس اہم کام کے رکاوٹ کی وجہ بنی اور معاملہ ان بھی جوں کا توں ہے میں نے ذاتی طور پر سابق چیف سکریٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز سے بھی حل کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور انہوں نے یقین دہائی کرائی تھی کہ اس سیزن سے پہلے یہ معاملہ حل ہوجائے گا لیکن اب بھی وار زوں کی رکاوٹیں غیر ملکی سیاحوں کو کھرمنگ آنے سے روک رکھی ہے لیکن یہاں ڈپٹی کمشنر کھرمنگ امیر خان کو اس اہم معاملے کی حل کے لئے ذاتی طور پر کوشش کر نی چاہئے تاکہ گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع کھرمنگ میں بھی غیر ملکی سیاح سیاحت کی غرض سے یہاں آسکے اور اس علاقے کی خوبصورتی کے سحر میں مبتلا ہوکر اپنے عزیز و اقارب کو بھی یہاں آنے کا مشورہ دیا جاسکے

دوسری جانب کھرمنگ کے دو مشہور سیاحتی مقامات پر منٹھوکہ اور خموش آبشار کی خوبصورتی دیکھنے کے لئے آنے والے سیاحوں کو قیام Stayکے مسائل رہتے ہیں دن بھر سفر کے تھک ہاڑ کر پہنچنے والے سیاحوں کی رات گزارنے کے لئے یہاں کوئی ریسٹ ہاوس نہیں ہے خموش آبشار پر تو چائے تک نہیں ملتی ہے محکمہ سیاحت کھرمنگ کے ان دو مشہور اور خوبصورت مقامات پر گیسٹ ہاوسز اور ہوٹلز بنانے کے لئے اقدامات کریں تاکہ قیام و طعام کی فکر سے مبرا ہوکر بلا جھجک زیادہ سے زیادہ لوگ علاقے کا رخ کر سکے

ساتھ ہی ڈپٹی کمشنر کھرمنگ کے مطابق کھرمنگ خاص کے قلعے کو بنانے کے لئے بھی محکمہ سیاحت اور دیگر ادارے کی جانب سے دو کڑور روپے کی خطیر رقم کی منظوری ملی ہوئی ہے جو اس قلعے کی تزین و آرائش اور مرمت پر خرچ کی جائے گی اس قلعے کی مرمت کے بعد اس قلعے پر بھی ہنزہ شگر اور خپلو کے قلعوں طرح لوگوں کا ہجوم امڈ آئے گا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments