چیف سیکریڑی کا فرعونیت بھرا لہجہ اور گانچھے کے عوام

تحریر: فدا حسین

عمومی طور پر ملکِ خدا داد پاکستان میں سرکاری بابو جنہیں عرف عام میں آفیسر کہا جاتا ہے کی فرعونیت کی کہانی کوئی نئی نہیں ہے کیونکہ وہ عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہوتے ہیں لہذا وہ عوام کو براہ راست جواب دہ بھی نہیں ہوتے مگر آئینی اور قانونی طور پر ان آفیسروں پروہاں کے لوگوں کی مسائل کے حل زمہ داری سونپی جاتی ہے جنہیں انہی ذمہ داریوں کونبھانے کے عوض سرکار بھاری بھر تنخواہ کے ساتھ دیگر مراعات بھی دیتی ہے۔ مگر یہ آفیسران عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہوئے ان سے بات کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ضلع گانچھے کے صدر مقام خپلو کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے دورے کے موقع پر چیف سیکریڑی گلگت بلتستان جناب بابر حیات تاررڑ صاحب کا رعونت بھرا لہجہ ان آفیسران کی اسی رویے کی اہم دلیل اور عکاس ہے۔اس کا مطلب یہ ایسا بھی نہیں پاکستان میں سارئے آفیسروں میں فرعونیت ہو مگر اکثر کے طور و طریقوں کے وجہ سے انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار بے چارے شریف النفس آفیسر بھی بدنا م ہیں۔ان کا یہ رعونت بھرا لہجہ جہاں ایک طرف اسی سوچ کی غماز ہے تو دوسری طرف یہ اس محترم کی جہالت پن کا بھی ثبوت ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پرجاری ویڈیو میں ایک شخص ان سے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں گائنا کالوجیسٹ نہ ہونے کی شکایت کر رہا ہے تو وہ اس سے نہایت تضحیک آمیز اور تحکمانہ انداز میں پوچھ رہے ہیں کہ حکومت (شائدوفاق) ایک ارب روپے بجٹ دیتی ہے کہ بتاؤ تم کتنا ٹیکس دیتے ہو جب وہ آگے متنازعہ والی بات کرنے لگتا ہے تو کہتے ہیں کہ کوئی متنازعہ نہیں ہے۔اگر جان کی آمان پاؤں تو جناب والاسے پوچھنا چاہتا ہوں کہ محترم ہسپتال کے دورہ کے موقع پرفریادی سے ٹیکس کا سوال آپ نے کس قانون کے تحت پوچھا ہے؟ ہسپتال میں زیر علاج شخص اگر قتل کا مجرم بھی تو اس کو صحت کی سہولت بہم پہنچانا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے اگر میں غلط نہیں تو اس وقت یہ بھی نہیں دکھا جاتا ہے کہ (قاتل) اس ملک کا شہری ہے یا نہیں ہے ۔اس لئے حکومت پاکستان یہاں کئی تخریبی سرگرمیوں میں رنگے ہاتھوں گرفتار کل بھوشن کو بھی صحت کی سہولت بہم پہنچانے کا دعویٰ کرتی ہے۔دوسرا اگر آپ کو عوامی مسائل سے اتنی ہی چیڑ تھی تو آپ نے ہسپتال کا دورہ ہی کیوں کیا تھا ؟مجھے ذاتی طور پر خوشی ہے کہ آپ نے اصل سچ اگل ہی دیا ہے کہ یہ علاقہ کوئی متنازعہ نہیں ہے بھلے یہ سچ آپ نے غصے میں ہی اگل دیا ہومگر سچ آخر کار زبان کا آہی گیا جس کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں مگر آپ سے گزارش ہے پھر اپنے آقا(وفاق)سے کہیں ہمیں فوری طور پر آئینی حقوق دے دیں اگر ایسا ہوا تو نہ صرف ضلع گانچھے کے عوام بلکہ پورا گلگت بلتستان آپ کا مشکور رہے گا۔آپ کو معلوم ہوگا کہ نمائندگی کے بغیر ٹیکس عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہے تو آپ کی اس علمیت پر داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔حال ہی میں وفات پانے مایاناز سائنسدان سٹیفن ہاہکنگ کا قول ہے کہ جاہل ہونے سے زیادہ عالم ہونے کا ڈھونک رچانا زیادہ خطرنک ہے اور اپنے آپ کو آئین و قانون کا سب سے بڑا عالم سمجھتے ہوئے وہاں کے عوام پر اپنا دھونس جمانے کا خواب دیکھیں تو یہ آپ سے زیادہ ملک خدا پاکستان کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ آپ تو اپنی نوکری کی مدت ختم کر کے چلے جائیں گے مگر وہاں کے عوام کا ریاستی اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ضلع گانچھے ویسے بھی سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے بہت حساس علاقہ ہے ہے یہاں سے اٹھنے والی معمولی بھی منفی آواز کو ہمسایہ ملک بہت اہمیت دیتا ہے۔ آپ کے علم میں شائد نہیں ہوگا کہ گزشتہ سال کے اختتام اور رواں سال کے شروع میں یہاں پر ٹیکس کے معاملے پر احتجاج شروع ہوتے تو بھارت نے اس کو ریاست مخالف احتجاج کے طور پر دنیا کو دکھانے کوشش کی تھی آپ کو اس بارئے میں آگاہی نہیں ہے تو ان احتجاج کا احوال اپنے کسی ماتحت سے سننے لیں۔جناب چیف سیکریڑی صاحب ہم آپ سے زیادہ خفا بھی نہیں ہیں کیونکہ آخر کار آپ اس علاقے کے سیاہ وسفید کا مالک ہیں تو آپ کو کچھ نہ کچھ اندازہ حالیہ گلگت بلتستان آرڈر کے حوالے سے ہونے والے احتجاج کی وجہ سے ضرور ہوا ہوگا ورنہ آپ کو گانچھے میں آکر اس طرح کا لب و لہجہ اختیار کرنے کی ہمت کیسے ہوتی ۔ضلع گانچھے والو! علامہ اقبال کے شعر اگر تم یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں کے مصداق ضلع گانچھے کا باسی ہونے کے ناطے مجھے چیف سیکریڑی سے آپ لوگوں پر حیرت ہے کہ حالیہ آرڈر کے حوالے سے جب پورا گلگت بلتستان سراپا احتجاج تھا تو آپ لوگوں کی وجود کا کہیں احساس تک نہیں ہورہا تھا۔ اتفاق و اتحاد کی ضرورت ازل سے ہی رہی ہے اس لئے اس طرح کے احتجاج میں حصہ لینا ضروری ہے ہاں اگر آپ کو اس احتجاج کے مقاصد سے اختلاف ہو اس کا بھی برملا اظہار ہونا چاہے مگر مشہور بلتی مقولہ ہرمق زن پو زو ہرمق تم مزر والے فارمولے پر چلنے کا وقت گزر چکا ہے جس کا شائد آپ لوگوں کو اندازہ نہیں ہے۔آپ کو اور مجھے ظلم پر ہر حال میں بولنا ہے یہ نہیں دیکھنا کہ کسی کی حکومت ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو کسی چیف سیکریڑی ، وزیر اعلیٰ ، وزیر اعظم کسی کو بھی آپ کے ساتھ اس طرح کا لہجہ اختیار کرنے کی ہمیت نہیں ہوگی ورنہ یوں ہی پستے رہیں گے۔مجھے یقین ہے کہ اگر آپ لوگوں نے عوام ایکشن کمیٹی کا ساتھ دیا ہوتا تو وہ فوری طورپر احتجاج کے لئے تیار ہو جاتے ۔تاہم مجھے یہ امید بھی ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی گانچھے والوں کی اس کوتاہی کو صرفِ نظر کرتے ہوئے اس بہیمانہ اور ظالمانہ لب لہجے کے خلاف اپنی آواز بھر پور بلند کریں گے۔آخر میں وزیرِ تعلیم جناب حاجی محمد ابراہم ثنائی صاحب جن تعلق بھی گانچھے سے ہی ہیں ،جناب محمد شفیق ،جناب ایڈوکیٹ غلام حسین جن کا حلقہ انتخاب بھی خپلو ہی ہے ، دبنگ انداز میں بولنے والے جناب میجر محمد امین سے گزارش ہے کہ یہ معاملہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے سامنے بھر پور طریقے سے اٹھاتے ہوئے انہیں یہ باور کرائیں کہ آئندہ عوام کے ساتھ اس طرح کا لب و لہجہ اختیار کرنے کی صورت ہم اپنی وزارتیں قربان کرتے ہوئے عوام میں جانے پر مجبور ہو جائیں گے۔مگر خاکم بدہن مجھے یقین ہے کہ وہ اس طرح کی بات اس انداز میں نہیں کریں گے۔ اگر حفیظ الرحمان صاحب کو وفاق میں اپنی حکومت کے ختم ہونے کاغم ہے انہیں بھی اس غم سے نکل آنا چاہے بلکہ انہیں یہ اطمینان بھی ہونا چاہیے کہ اس وقت وفاق میں بے داغ ماضی کے حامل منصف اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ ناصر المک نے وزارت عظمیٰ سنبھالا ہے اگر ضروری ہو گیا تو یہ معاملہ ان کے سامنے بھی اٹھایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی چیف سیکریڑی کو اس طرح حرکت کرنے کی جرات نہ ہو۔ و ما علینا الا بلاغ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments