عید اور محروم طبقات

اگر 2018ء کا موازنہ 50سال پہلے 1958ء سے کریں گے تو معلوم ہوگا کہ دولت کی ریل پیل آج زیادہ ہے دولت مند مسلمانوں کی تعداد آج زیادہ ہے زکوٰۃ ، صدقہ فطر اوردوسرے صدقات کی مجموعی مالیت 50سال پہلے کے مقابلے میں آج زیادہ ہے لیکن میرے اور آپ کے پڑوس میں جو غریب ، محروم ، یتیم ، مسکین ، حقدار طبقات ہیں اُن کو اس زکوۃ اور ان صدقات میں کوئی حصہ نہیں ملتا وجہ یہ ہے کہ زمانہ ترقی یافتہ ہوگیا ہے بے شمار تنظیمین میدان میں آگئی ہیں ان گِنَت سیاسی جماعتیں منظر عام پر آئی ہوئی ہیں سماجی بھلائی کے نام پر ادارے وجود میں آچکے ہیں وہ زکوۃ بھی اکھٹی کرتی ہیں قربانی کی کھالیں بھی جمع کر کے دکھاتی ہیں صدقہ فطر بھی جمع کرتی ہیں اُن کے دفتری اخراجات ان کی قیمتی گاڑیوں کا پٹرول ، ان کے یخ بستہ دفاتر کا ایئر کنڈیشنڈ سسٹم ، ان کے سیاسی دورے ، اُن کے بڑے بڑے تقریباتی پروگرام ، ان کے ووٹ مانگنے کی مہم سب اس آمدنی کی مرہون منت ہیں سال میں آدھ بار کسی بیوہ کو 10کلو آٹا یا ہزار روپے قیمت والی سلائی مشین ہاتھ میں تھماکر تصویریں اترواتے ہیں اخبارات میں شائع کر واکر کھایا پیا سب حلال کرتے ہیں شہر کے گنجان آباد محلے میں اگر 200یتیم ، مسکین ، محتاج ، بیوہ اور بیمار ایسے ہیں جو زکوۃ اور صدقات کے حقدار ہیں ان کو ہر گھر سے جواب ملتا ہے کہ سیاسی جماعت یا سماجی تنظیم کو صدقے اور زکوۃ کی رقم دیدی گئی ہے وہ بیچارے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں یہی حال بینکوں سے زکوۃ کٹوتی کا ہے محتاج ،غریب ، مسکین اور مستحق کو بتایا جاتا ہے کہ صاحب نصاب کی زکوۃ بینک سے کاٹ کر سرکاری زکوۃ کونسل کے ذریعے مقامی زکوۃ کمیٹی کو دیدی گئی مگر میرے اور آپ کے محلے کا مستحق یا حقدار زکوۃ کمیٹی کی راہ تکتا رہ جاتا ہے 50 سال پہلے ایسی مثالیں بہت زیادہ تھیں کہ محلے کی مخیر شخصیت نے غریب طالب علم یا طالبہ کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات برداشت کئے مخیر شخص کی امداد سے وہ ڈاکٹر ، انجینئر ،وکیل ، جج یا ڈی ایم جی افیسر بن کر کُرسی پر جا بیٹھا غریب ماں باپ کی اولاد نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کنبے کا کفیل بن گیا معاشرے میں عزت کا مقام اُس کو حاصل ہوا 50سال گذرنے کے بعد زمانہ آگے نکل گیا معاشرے نے ترقی کی این جی او کلچر آگیا درخواست فارم آگئے،تصد یقی دستخطوں کی ضرورت پڑ گئی غریب طالب علم داخلے کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں این جی او کہتی ہے کہ داخلہ فیس ادا کرکے یونیورسٹی کے خزانچی کی پکی رسید اور اخراجات کی تفصیل لے آؤ تمہارے نام کا فارم پُر کیا جائے گا رسیدیں لائی جائیں فارم پُر کیا جائے تو تصدیق کا ختم نہ ہونے والا عمل شروع ہوجاتا ہے اکتوبر 2015ء میں یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے یتیم طالب علم نے فارم پُر کیا تھا 6ماہ بعد ا س کو فیس جمع نہ کرنے پر یونیورسٹی سے نکالا گیا 8ماہ بعد اُس نے خود کشی کر کے اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیا این جی او نے تصدیق کا عمل مکمل نہیں کیا تھا مستحق کی خود کشی کے ایک ماہ بعد این جی او کی طرف سے تصدیق کرنے والا محلہ دار سے ملنے آیا 10اوراق کا فارم سامنے رکھا اور پوچھنے لگا اس نام اور ولدیت کا کوئی طالب علم اس محلے میں ہے یا نہیں ؟ محلہ دار نے کہا ’’ با لکل تھا ‘‘ این جی او والے نے پوچھا اب کدھر گیا ؟ محلہ دار نے کہا غربت کی وجہ سے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا دل برداشتہ ہوکر اُس نے خود کشی کرلی این جی او کے نمائندے نے انگریزی میں کہا ’’ ویری سیڈ ‘‘ ہر محلے کے مستحق اور محروم طبقے کی یہ کہانی ہے آج کل کے ترقی یافتہ دور میں کاغذات کی ریل پیل ہے فائلوں کا انبار لگا ہوا ہے تصویروں کی بہتات ہے اشتہار بازی میں بہت تیزی آگئی ہے جس مقصد کے لئے این جی او بنی تھی اس مقصد کا کوئی پتہ نہیں بیوہ ، یتیم ، مسکین اور غریب کے نام پر چندہ ، صدقہ ، خیرات اور زکوۃ بہت جمع ہوتا ہے مال و دولت کا انبار اکٹھا کیا جاتا ہے مگر مستحق تک اس کا ہزارواں حصہ بھی نہیں پہنچتا کسی گنجان محلے کے غریب ، مسکین اور یتیم کی اتنی استطاعت ہی نہیں کہ وہ فارم پُر کرے ، 2سال ، 3سال یا اس سے زیادہ مدت تک دفاتر کے چکر لگاکر زکوۃ اور خیرات میں کسی بڑے افیسر سے اپنا حصہ وصول کرے یہ غریب اور مسکین ، یا بیوہ اور یتیم کے بس کی بات نہیں آج کی عید 1958ء والی عید سے بہت مختلف ہے 1958ء میں شہر کے ہر محلے کا صدقہ فطر اُس محلے کے غریبوں ، یتیموں ، مسکینوں اور حقداروں کو ملتاتھا اُن کی عید بھی امراء کی عید کی طرح پُر بہار اور پُر رونق ہوتی تھی آج کل صدقہ فطر جمع کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں اور غیر سرکاری تنظیموں کا جال بچھا ہوا ہے محلہ مسکین پورہ میں اگر 200 مالدار گھرانے اور 50غریب یا حقدار گھرانے آباد ہیں تو مالدار گھرانوں کا صدقہ فطر 50کلومیٹر دور سے آنے والا سیاستدان یا این جی او کا مالک جمع کرکے لے جاتاہے 50گھرانوں کے مستحق منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں زمانہ ترقی کر گیا مگر انسان بہت پیچھے رہ گیا انسانیت کی خدمت بہت پیچھے چلی گئی ؂

پھر دکھا دے وہ منظر صبح و شام تُو

دوڑپیچھے کی طرف سے گردشِ ایام تو

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments