ڈیم کا معاوضہ جھوٹے مقدمات اورخونریز قبائلی تصادم کا خطرہ

یوں تو دیامر میں دیرینہ دشمنیوں کا سلسلہ صدیوں پرانا ہے جس میں بے شمار انسان اپنے انجام تک پہنچتے ہیں اور اپنے پیچھے کشت و خون کا ایک نہ ختم ہونے والا بھیانک سلسلہ چھوڑ جاتے ہیں ۔دستیاب تاریخ کے مطابق اس زمین میں ایسی طویل اور خونریز دشمنیاں بھی چلی ہیں جو نصف صدی تک جاری رہی اور اس میں درجنوں لوگ کٹ مرے ہیں ۔دشمنی کرنے والوں نے اپنے دو دو نسلیں برباد کردی تب جا کہ عقل ٹھکانہ آیا توروایتی طریقہ صلح یا رازنامہ کی ۔اس بدقسمت ضلع میں ایسا کوئی گاؤں یا محلہ نہیں ہے جہاں ما ضی میں قتل و غارت گری نہیں ہوئی ہو اور آج بھی بے شمار ایسی دشمنیاں موجود ہیں جس میں فریقین کے سیکڑوں افراد ایک دوسروں کے شر سے بچنے کیلے محصور ہیں ۔ ان محصورین میں بڑے بذرگ بچے سبھی شامل ہیں ان لوگوں کے بچے نہ تو تعلیم حاصل کر سکتے ہیں نہ آزاد فضاء میں سانس لیے سکتے ہیں۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دیامر میں صدیوں پر محیط دشمنیاں چار چیزوں کی وجہ سے بنی ہیں ، زن، زر، زمین، یا پھر نا اہل قبائلی عمائدین کی ہٹ دھرمی ضد انا یا پھر میں نہ مانوں والی جہالت ۔ ان چاروں چیزوں کی وجہ سے دیامر میں ہزاروں انسانوں کا خون بہہ چکا ہے۔قتل و غارت کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔زمانہ قدیم میں آبادی بھی کم تھی لوگوں کے آپس میں معاملات بھی محدود ہوا کرتے تھے اس کے باوجود بھی قتل و غارت کی شرح آبادی کی تناسب سے حیران کن حد تک زیادہ تھی۔اب آبادی کے ساتھ معاملات میں بھی اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ گھر گھر میں ایک جھگڑہ ہے بھائی باپ بیٹے آپس میں دست گریبان ہیں قوم قبیلہ اور علاقائی تعصب چاروں طرف پھیل چکا ہے۔ ان تنازعات کا لعنت گزشتہ آٹھ سے دس سالوں کے درمیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دیامر بھا شہ ڈیم کا معاوضہ ملنا شروع ہوا لوگوں میں لالچ پیدا ہوئی ۔تعلق رشتہ حصول زر کی لالچ میں ریت کی دیوار ثابت ہو گئے ۔کچھ تو وراثت کے معاملات پیدا ہوگئے جو بالکل قابل حل طلب ہیں مگر کچھ ایسے اندھا دھند ہوائی دعوے کر کے مقدمے دائر کیے گئے جن کا زمینی حقائق سے زرا برا بر بھی تعلق نہیں ہے۔ کچھ با اثر لوگوں نے ظلم کی حد کرتے ہوئے اپنے بے پنا سیاسی اثر رسوخ کے گھمنڈ میں عوامی زمینوں کی رقم کو سٹے ارڈر کے زریعے روک رکھا ہے تاکہ عوام کو بلیک میل کر کے کچھ پیسہ حاصل کر سکے حالانکہ انتظامیہ کی طرف سے عوامی ایوارڈ بنانے کے باوجود جس کی تکمیل کا دورانیہ کم از کم تین سے چار سال رہا اس درمیان یہ لوگ خاموش رہے عین معاوضوں کی ادائے گی کے وقت مقامی انتہائی با اثر گروہ کے سر پرستی میں دنیاں کا انوکھہ اعتراض لگا کر ایک جعلی فیصلہ کا حوالہ دیکر غریب بے بس اور لا چار عوام جس میں یتیم بیوہ معزوروں سمیت ہزاروں لوگوں کا پیسہ روک کر ان کا معاشی قتل کر دیا گیا۔کسی نے دریا پار سے اٹھ کر بے جا طور پر صدیوں سے آباد لوگوں کے گھر بار اور دیگر املاک کا معاوضہ روک رکھا ہے انتظامی گرفت اس قدر کمزور اور لاغر ہے کہ کسی کا بھی معاوضہ روکنا ہو تو سفید کا غذ پر ایک عارضی کلکٹر کو لکھنا ہے جو فوراً معاملے کو ریفری کوٹ منتقل کرکے اپنے بنائے ہوئے ایوارڈ کو جو کئی سالوں سے ہر سطح پر تحقیقات کر کے بنایا جاتا ہے کو متنازع بنا دیتا ہے حالانکہ پیمائش سے ایوارڈ کی تیاری تک انتظامیہ کی زیرے نگرانی کام ہوتا ہے سب کچھ جاننے کے باوجود کہ یہ بے جا دعوہ ہے کیس کو اسی جگہ میں مسترد کرنے کے بجائے کلکٹر ڈیم کیس کو کورٹ منتقل کرتا ہے جبکہ دوسری طرف موضع ہڈور میں سیکشن نائین کے دوران معمولی اعتراض کو جواز بنا کر اور با اثر گروہ کی دباؤ میں آکر انتظامیہ کی طرف سے پورے ایوارڈ کو تبدیل کرنے کا معا ملہ بھی سامنے آیا ہے انتظامیہ اس قدر دباؤ میں آگئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے عوام کے نام پر بننے والا ایوارڈچند دنوں میں ایک با اثر گروپ کے نام پر تبدیل کرنے مجبور ہوئی ۔جس سے مظلوم لوگ بھی عدالتوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ ایک مکمل ما فیا ہے جو عدالتوں اور انتظامیہ کا وقت برباد کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔جھوٹے بے بنیاد دعوے کر کے یو ں عدالت کا قیمتی وقت ضائع کیا جاتا ہے اب یہ لوگ جعلی نقول جھوٹے گواہوں خود ساختہ نمبرداروں فرضی فیصلوں اور پیشہ ور و کیلوں کا سہارا لیکر کیس کو قابل سماعت بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے مصالحتی گروہ کو بھی سر گرم رکھتے ہیں جو مظلوم فریق سے لین دین کے حوالے سے بات چیت جاری رکھتے ہیں تاکہ کچھ لیے دیکر کیس کو واپس لیا جاسکے ساتھ میں ان لوگوں کی طرف سے ڈراو دھمکاو کا سلسلہ بھی چلتا ہے اور مخالف فریق کے خد ساختہ عمائدین کو بھاری معاوضہ کی عوض خریدنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔اور مذے کی بات یہ ہے کہ قدیم پشتنی باشندگان کا اجتماعی رقم روکنے والوں کی اپنی ملکیت بھی مشکوک ہوتی ہے یہ لوگ یا تو وراثت پر مالک ہوتے ہیں یا پھر مقامی لوگوں کی مہربانی سے ان کو حصہ دار تسلیم کیا ہوتا ہے۔اس طرح کی ہڈو ر کا ا یک کیس ریفری کورٹ میں زیرے سماعت ہے جس کی وجہ سے عوام کا ایک ارب کے قریب رقم گزشتہ تین سالوں سے رکی ہوئی ہے۔ تو دوسری طرف مختلف قبائل آپس میں الجھے ہوئے ہیں بٹو خیل اور تھک قبائل کے درمیان تھک داس کا مسلہ تو خیر برسوں سے چلا آرہا ہے مگر سونیوال اور بٹوخیل کے درمیان ملکیت کا معاملہ پیدا ہوا جس میں کئی ایک مرتبہ نا خوشگوار واقعات بھی پیش آئے گوہر آباد اور بٹو خیل کے درمیان حدود کا مسلہ ہڈور اور بٹو خیل کے درمیان حد بندی کا تنازعہ جبکہ دوسری طرف تھک بٹوخیل اور بونر والوں کا مسلہ اپنی جگہ پر جبکہ تھور اور ہربن کے درمیان اب تک چار انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں داریل اور ہڈور کے عوام کے درمیان ایک کیس عدالت میں زیرے سماعت ہیں اس طرح محلہ اور گاؤں سطح پر دیکھا جائے تو زیادہ سے زیادہ پیسے حاصل کرنے کی لالچ میں بے بنیاد ایسے دعوے کیے گیئے ہیں جو انتہائی ظلم پر مبنی ہیں ایک طرح سے دیکھا جائے تو پورے علاقے میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے اورسخت قسم کا اندرونی انتشار نے پورے علاقے کو اپنے لپیٹ میں لیے رکھا ہے اور یہ لا وہ اس قدر پک چکا ہے کہ کسی بھی وقت خوفناک آتش فشا کی صورت میں پھ ٹ سکتا ہے جس سے علاقے میں خونریز خانہ جنگی پیدا ہو سکتی ہے اس سے نہ صرف ضلع دیامر متاثر ہو سکتا ہے بلکہ دیامر ڈیم کی تعمیر میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں چو نکہ لوگ پہلے سے ہی بہت زیادہ تحفظات رکھتے ہیں اپر سے مقامی اجارہ داروں کی طرف سے پورے پورے بنے بنائے ایوارڈ تبدیل کر کے ایسے بے بنیاد دعوے کر کے معاوضات حاصل کرنے کی کوشش جلتی پر تیل کا کام دے سکتا ہے ۔ایسے کیسز جو عین ڈیم کی معاوضات کے وقت سامنے آئی ہیں ان میں نناویں فیصد بالکل جھوٹ کا پلندہ اور بے بنیاد ہیں جس کا مقصد متاثرین کو بلیک میل کر کے رقم حاصل کرنا ہے ایسے کیسز کا تیز ترین ٹرائل ضروری ہے تاکہ عوام کو بروقت انصاف میسر آسکے ورنہ آنے والے دنوں میں دیامر میدان جھنگ بن سکتا ہے چونکہ زمینی حقائق عوامی بے چینی اور مظلوموں کی سر گوشی بتارہی ہیں کہ معاملات معرکہ آرائی کے قریب پہنچ چکی ہیں۔اور مجھے آنے والا وقت انتہائی بیانک دیکھائی دیتا ہے جس میں بے شمار دیرینہ دشمنیوں کیلے انتہائی خطرناک ما حول بن چکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments