میری ڈائری کے اوراق سے ۔۔۔۔۔۔ فیض علی شاہ،  آشتی کا پیامبر اور محبتوں کا سفیر 

تحریر : شمس الحق قمر بونی حال گلگت

(پہلی قسط )

میر ا اور فیض علی شاہ کا یاد اللہ برسوں پر محیط ہے ۔    فقیروں کے درشن سے ذہنی آسودگی کا سلسلہ پرانا ہے ۔  اس عشق اور بے پناہ خوشی کی وجہ لفظوں میں بیان نہیں ہوتی ۔  بس یوں ہی دل ہشاش بشاش ہوتا ہے  اور یہی خوشی کی تعریف ہے ۔  ان فقیروں کے شخصیت کے ہمیشہ سے دو پہلو رہے ہیں ایک وہ جو ہمیں نظر آتا ہے اور ایک وہ جو ہمیں نظر نہیں آتا ۔  فیض علی شاہ  کی زندگی کے دونوں پہلوؤں پر میں لکھنے کو کوشش کر رہا ہوں ۔ فیض علی شاہ سے میری پہلی اور شاندار ملاقات  کا  واقعہ بڑا دلچسپ ہے جو کہ اس کی زندگی کا ظاہرہ   خط و خال ہے  ۔

بونی کے کچی دیواروں والے چھوٹے سے بازار میں  بسمہ  اللہ میکی کا ایک ہوٹل ہوا ت کرتا تھا  اس کے بالکل سامنے  ایک بیس بائیس سن کا  نوجواں،   چھوٹے قدو قامت    ،  طویل ناک  ، منحنی چہرہ   اور اُس پر کھنی داڑھی ،  اپنے ناپ تول سے  زیادہ کشادہ چترالی ٹوپی کے نیچے    نیم  پوشیدہ ماتھا       ،چھوٹی اور گول   مگر  گہری آنکھوں کے ارد گرد  عتابی  حلقے اور جسم کی مجموعی نسبت سے  بڑے کان   ہر آنے جانے والے کو بے باکانہ انداز سے بے نقط سنا تے   اور   ڈٹ کے اپنی چاروں جانب   دلیرانہ انداز سے دیکھتے   شخص   ا کی گالیاں بہت موٹی  اور لرزہ خیز تھیں ۔   وہ  لوگوں کے پردادوں تک کے نام لے لے کر  انہیں سناتا ۔ گلی کوچوں کے اوباش  اور آوارہ لڑکوں کے علاوہ   بازار کے بومکی دوکاندار بھی  ’’ شوشپہ اوغ‘‘  کا طعنہ دے کر   خود  کو  اپنی دکانوں  کی لکڑی کے بنے دروازوں کے کواڑوں کے اوٹ میں  چھپا دیتے   اور آپ جناب اسم اعظم کی تسبیح کی طرح  بلا تفریق  عمر ،  رشتہ  ، علاقہ  اور جنس کے   سب کو وہ بے نقط سناتے    کہ سن کر دماغ چکرا جاتا  ۔ اُس دوران بونی کے بازار سے  اگر کوئی اجنبی مسافر گزر تے  تو  شوشپہ اوغ کے قریب سے  گزرتے ہوئے بے چارے  مسافروں  پر کپکپی طاری ہو جاتی    وہ بد حواس ہو جاتے  اور اُن کے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے  ۔    حا لانکہ  یہ حصرت بھی تو کوئی  اس گاؤں کا پشتنی  باشندہ نہیں   لیکن رعب اور دبدبہ اتنا کہ  جیسے جنگل کے شیر ۔ایک مرتبہ میں نے  خود اپنی آنکھوں سے ایک مسافر کو حواس باختگی کے عالم میں فیض علی کے  پاس سے  گزرتے وقت  بری طرح سے گر تے ہوئے دیکھا ۔ مزے کی بات یہ ہوئی کہ مسافر کے اوسان خطا ہوکے دھڑام سے  گرنے پر فیض علی شاہ    کو اپنی  بے پناہ قوت کا ادراک  ہوا یوں اُس  بے چارے کے گرنے پر ٹکڑوں میں پروئی ہوئی ہنسی ہنستے ہوئے فیض علی شاہ  آگے بڑھنے لگے ۔  بونی کے بازار میں آج بھی فیض علی شاہ اُسی شان و شوکت سے رونمائی فرماتے ہیں  اور لوگ شوشپہ اوغ  کا  بے بنیاد طعنوں سے  اسے تماشا بناتے ہیں ۔

               اُسی دن میں بھی اُن کی تاک میں رہا کیوں کہ میرے ذہن میں بھی ایک تدبیر تھی ۔    میں قسمت کی دھنی  نکلا ،عین شام کے وقت شاہ صاحب مجھے ملے تو میں نے اُسے اپنے گھر  مدعو کیا ۔   اُس زمانے میں ایف ایم  مائیکرو فون ابھی ابھی متعارف ہوئے تھے۔ میں نے بھی ایک

مائیک خریدا ہوا تھا ۔ میں نے خوب کھانے کا بنددبست کیا    گھر سے باہر سبزہ زار میں محفل سجائی  اور  ایف ایم کی فریکوئنسی  برابر  کرکے  مائیک  اپنے ایک اور بھائی کو تھما  کر بولا کہ تم گھر کے اندر جاکے  مسلسل شوشپہ اوغ  شوشپہ اوغ بولتے رہو ۔ ادھر میں نے اپنا ریڈیو چالو کردیا   ۔ پہلے  ریڈیو کی سوئی  مختلف اسٹیشنوں پر گھمائی   اور ساتھ ساتھ زمانے کے لوگوں کو   لعن طعن  بھی کرتا  رہا  ۔ فیض علی شاہ میری ہاں میں  ہاں ملاتے رہے ۔  یکایک میں نے ریڈیو کی آواز اونچی کر دی  اور فیض علی شاہ     کو انگلی کے اشاروں سے چپ رہنے کی گزارش کی   اور خود ریڈیو کو توجہ سے سننے لگا ۔  فیض علی شاہ نے پوچھا  کہ  کیا معاملہ ہے ؟ میں نے کہا کہ ملک میں گڑ بڑھ ہوئی ہے ۔ یہ سنو ! ۔   جیسے ہی ریڈیو اُسے کے کان کے قریب لے گیا تو   شوشپہ   اوغ کے نعروں سے فضا گونج رہی تھی  ۔ اب فیض علی شاہ کی نظر میں حالات انتے بگڑ گئے تھے  کہ  سوائے صورت حال پر قہقہے لگانے کے اور کچھ باقی نہیں تھا لہذا  دیر تک ہنستے رہے ۔

فیض علی شاہ کے بارے میں یہ  وہ کہا نیاں تھیں  جن میں ہم تیز، طرار، دانشمند اور ہشیار نظر آتے ہیں ۔ اور فیض علی شاہ  ایک  پاگل اور کمزور شخص کے علاوہ  ہم سب کے لئے ایک تماشا  ہے ۔  یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ ہم لوگوں کی ظاہری شکل و صورت اور خد وخال کو  اپنی بے معنی  کسوٹی پر ناپتے  ،پرکھنے اور تولنے کو کوشش کرتے ہیں  ۔ جون ایلیا نے  ایسی ہی صورت حال کی کیا خوب تشریح  فرمائی ہے ۔

؎ جو رعنائی نگاہوں کے لیے سامانِ جلوہ ہے
لباس مفلسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی
یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پروردہ
یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بد صورت نظر آتی

دوسری قسط پر جاری    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments