ڈرائی پورٹ اور این ایل سی کے مابین معائدے بارے الزامات لگانے والوں کیخلاف عدالتی کاروائی کی جائے گی، ظفر اقبال چیرمین

ہنزہ ( پ۔ر) سلک روٹ ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کے چئرمین ظفر اقبال نے کہا ہے کہ ڈرائی پورٹ ٹرسٹ اور این ایل سی کے مابین کئے جانے والے معاہدے کے بارے میں جن بندوں نے سوشل میڈیا پر سلک روٹ ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کے کابینہ اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف جو الزامات لگائے ہیں ان کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائیگی ۔ میں نے اپنی زندگی کے ساڑھے چار سال سلک روٹ ڈرائی پورٹ کے خدمت کیلئے وقف کئے جو وعدہ میں نے الیکشن جیتنے کے بعد سلک روٹ ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کے ممبران کے ساتھ کیا تھا آج الحمد اللہ وہ پورا ہوا ۔ آج ٹرسٹیز سلک روٹ ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کے مالک بن گئے اور آج پہلی بار 16سال بعد ممبران کو منافع ملا ۔ الیکشن جیتنے کے بعد بہت سے مسائل درپیش آئے ، چائنیز زبردستی اس پورٹ پر قبضہ کرنا چاہتے تھے ان کے ساتھ وفاق کی طرف سے حکومت کا مکمل تعاون تھا لیکن ہم نے اپنے ملک کے اقوانین کے مطابق عدالتی جنگ لڑی اور ہم کامیاب ہو گئے ۔ چائنیز کے ساتھ مقامی مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ بھی تھا جو نہیں چاہتے تھے کہ مقامی لوگ اس پورٹ کے مالک بنیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سلک روٹ ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کے سالانہ جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں مزید چےئرمین کی حےٖثیت سے کام نہیں کر سکتا اور میں اس اجلاس میں اپنا استعفیٰ پیش کرتا ہوں ۔ جنرل باڈی اجلاس نے ظفر اقبال کے استعفے کو مسترد کرتے ہوئے مزید ایک سال کیلئے خدمات جاری رکھے کیلئے درخواست کی ۔

اجلاس کے مہمان خصوصی کرنل (ر) کریم احمد نے کہا کہ ہمیں ظفر اقبال جیسے لیڈر پر فخر ہے جنہوں نے دن رات محنت کرکے سلک روٹ ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کے غریب ممبران کو اس کا مالک بنایا اور ان میں منافع تقسیم کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ طاہر نے کہا کہ جو معاہدہ این ایل سی کے ساتھ ہوا ہے اس میں تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے، اور یہ ایک اچھا معاہدہ ہے اس سے مقامی لوگوں کے ساتھ ٹرسٹ کو بھی بہت فائدہ ہوگا ۔ اس میں جو خدشات ہیں ان کو دور کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے ۔ اجلاس میں ٹرسٹ ڈیڈ کو بہتر بنانے کیلئے ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا ۔ اجلاس سے سابق ممبر قانون ساز اسمبلی مطابعت شاہ ، صدر اسماعیلی لوکل کونسل گوجال بالا دیدار احمد ، اقبال رسول ، عالم ، برہان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments