عوامی مسائل

سڑک کی خستہ حالی کے باعث کم سیاح استور کا رُخ کر رہے ہیں، تعمیراتی کمپنی غائب

استور ( سبخان سہیل ) استور ویلی روڈ پر کام ایک عرصے سے بند ہونے کے باعث ضلع استور میں جو سالانہ لاکھوں کی تعداد استور آتے تھے اس سال یہ سیاح کم ہوکے سینکڑوں میں آچکے ہیں روڈ پر جگہ جگہ ملبہ پھکنے کے بعد کمپنی مکمل غائب ہوچکی ہے.کمپنی نے باقاعدہ معائدہ کیا تھا کہ جون 2018 تک فیز ون کا آنٹھ کلو میٹر روڑ میٹل کر کے تیار کیا جائے گا۔مگر جولائی شروع ہوا ہے اور  آٹھ کلو میٹر تو کجا، ایک فٹ روڈ بھی میٹل نہیں کیا گیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار وزیر بلدیات فرمان نے علی خان نے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اربوں روپے کے منصوبوں کو محنت کر کے لاتے ہیں اور محکموں کی غفلت کے باعث وہ اربوں روپے کے میگا پروجیکٹ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہوتے ہیں استور ویلی روڈ جیسے اہم منصوبے تعمیر و ترقی کے ضامن منصوبوں پر غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کاروئی عمل میں لائی جائے گی استور ویلی روڈ پر خشک دیوروں کی تعمیر کا کام اور پہاڑ کی کٹائی کی بجائے ٹھیکدار کو فائدہ دینے کے لیے دریا کے ساتھ ساتھ دیوار بنانے کو ترجیح دی جارہی ہے۔ اس حوالے سے عوامی شکایت ملی ہے جو بالکل مناسب اور جائز ہے، اور اس پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔
استور ویلی روڈ پر ٹھیکدار گزشتہ دو ماہ سے کام نہیں کررہا ہے محکمہ ٹھیکدار سے کام لینے کے بجائے سب ٹھیک ہے سے کام نا لیں جس ٹھیکدرا نے محکمہ ورکس استور کے ساتھ معائدہ کیا تھا کی جون تک آنٹھ کلومیٹر روڈ تیار کروں گا تو وہ ٹھیکدار اور کمپنی کدھر ہے محکمہ ورکس استور فوری طور پر متلعقہ ٹھیکدرا کے خلاف کاروئی عمل میں لائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ استور ویلی روڈ پر بر وقت کام نہیں ہونے سے سیاحت سے جڑے ہزاروں لوگوں کی معیشت کا گلا دبایا گیا ہے۔ ایکسین محکمہ تعمرات استور فوری طور پر استور ویلی روڈ پر ہونے والے کام کی تفصیلی جائزہ کے ساتھ کام کو فوری شروع کروائیں یا پھر اس ٹھیکدار سے لکھ کر لیں۔ استور روڈ پر کسی کو بھی ہرگز سیاست کرنے نہیں دینگے۔ استور ویلی روڈ پر اسے قبل بھی میں نے خود غیر میعاری مٹریل پر نوٹس لیتے ہوئے سائٹ پر موجود مٹی مکس ریت کو پھینک دیا تھا۔ اب کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے چاہے اس کے لیے کتنے بھی کڑوے فیصلے کیوں نہ کرنا پڑے۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: