شندورمیلہ۔۔شرمناک ہار کا ذمہ دار کون ؟؟؟

تحریر : دردانہ شیر

ہر سال کی طرح اس سال بھی شندور میلہ کے پی کے اور گلگت بلتستان کی حکومت نے پورے شایان شان طریقے سے منایا گیا ملک کے کونے کونے اور بیرونی دنیا سے سیاحوں کی بڑی تعداد کھیلوں کا بادشاہ اور بادشاہوں کا کھیل پولو میچ دیکھنے کے لئے چترال اور غذر کے راستے شندور پہنچ گئے تھے اور زیادہ تر سیاحوں کو اگر کوئی شکایت تھی تو وہ بونی سے شندوراورپھنڈر سے دنیا کے بلندترین پولو گراونڈ شندور تک کی خستہ حال سڑکیں تھی جو مشرف دور میں ٹرک ایبل روڈ تو بنایا گیا اس کے بعد سے آج تک کسی حکومت کو اس سڑ ک کو میٹل کرنے کی توقیق نہیں ہوئی حالانکہ پھنڈر سے شندور تک پکی سڑک کی تعمیر پر دس سے بارہ کروڑ روپے خرچ کئے جائے تو یہ سڑک میٹلنگ ہوسکتی ہے مگر وقت کے حکمرانوں نے غذر اور چترال کے عوام کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے کسی دن کوئی تو ائے گا جو یہاں کے غریب عوام کی آواز سن سکے اور گلگت سے چترال کی سڑک پکی ہو اور یہاں کے عوام بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے پی پی کے دور حکومت میں گلگت سے چترال تک پکی سڑک کی منظوری اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے دیا تھا اپنے پانچ سالہ دور میں پی پی کی حکومت ایک فٹ سڑک بھی نہ بنا سکی جب مسلم لیگ کی حکومت آئی تو (ن) لیگ کے قائد نواز شریف نے بھی گلگت بلتستان اور چترال میں سڑکوں کے جال بچھانے کے وعدے کئے مگر گلگت چترال روڈ بھی (ن) لیگ کو نظر نہیں آیا اس کے بعد (ن) لیگ کی حکومت نے اس اہم شاہراہ کو سی پیک میں شامل کرنے کی نوید سنائی مگر وفاق میں مسلم لیگ کے پانچ سالہ دور حکومت کے پورے ہوئے گلگت چترال روڈ کی ایک انچ سڑک بھی پکی نہ ہوسکی گلگت بلتستان کے وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمان نے بھی ایک اہم اعلان کیا تھاکہ گلگت سے گاہکوچ تک ایکسپریس وے بنانے کا مگر تین سال اس کے دور حکومت کے بھی پورے ہوئے ایکسپریس وے کا کوئی پتہ نہ چلا اس اہم منصوبے کے لئے رقم بھی مختص ہوئی تھی اس حوالے سے بھی صوبائی حکومت کی خاموشی حیران کن ہے اخر اس سکیم کے پیسے رکھے گئے تھے تو وہ کس مد میں خرچ ہوئے

قارئین کرام:۔

بات ہورہی تھی شندور میلے کی گلگت اور غذر کی ٹیموں کی مسلسل شندور میں پولو میچ ہارنیکی وجہ سے راقم گزشتہ اٹھ سالوں سے شندور نہیں گیا تھا چونکہ ایک دفعہ یا دو دفعہ کوئی ٹیم ہار جائے تو کوئی بات نہیں مگر مسلسل ہار سے نہ صرف شائقین پولو کو مایوسی ہوتی ہے بلکہ مجھے جیسے کئی افراد نے پولو کے کھیلاڑیوں کے ناقص کارکردگی پر شندور جانا ہی چھوڑ دیا مگر اس سال میرے دوست سرفراز بھٹی صاحب اسلام آباد سے اپنے بچوں کے ساتھ شندور پولو ٹورنامنٹ دیکھنے آئے تھے ان کی خواہش پر راقم بھی فائنل میچ دیکھنے شندور پہنچا ٹیرو کے قریب 8جولائی کے دن کچھ گاڑیاں واپس آرہی تھی میں نے گلگت کے چند جوانوں سے شندور سے جلدی واپس آنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ کل فائنل میں بھی عبرت ناک ہار ہماری قسمت میں لکھی گئی ہے اس وجہ سے واپس آئے ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر سلکشن ٹیم کو توڑ دیا جائے اور باقاعدہ انکوری ہو کہ مسلسل گلگت اور غذر کی ٹیموں کے ہارنے کی اخر کیا وجوہات ہے گلگت بلتستان کا پورا صوبے کے پولو کے کھیلاڑی ایک ضلع کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو اس سے بڑی شرمنادگی اور کیا ہوسکتی ہے ان کی باتوں میں کافی وزن تھی بہرحال 9جولائی کی صبح ہم بھی شندور پہنچ گئے شندور میں پولو کا اخری میچ دیکھنے کے لئے ہزاروں شائقین پولو گراونڈ کے باہر موجود تھے گلگت بلتستان کے راستے چترال پہنچنے والے سیاح گلگت کے کھیلاڑیوں کے حق میں اور چترال کے راستے آنے والے سیاح چترال کی ٹیم کی حق میں نعرے لگا رہے تھے مگر ہوا وہی جس کی امید تھی چترال کی اے ٹیم نے گلگت کی اے ٹیم کو پانچ کے مقابلے میں دس گول کرکے شندور پولو ٹورنامنٹ 2018اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئی چترال کی ٹیم کی کامیابی کے ساتھ چترال کے عوام دیوانہ وار گراونڈ میں داخل ہوگئے اور اپنے کھیلاڑیوں کو کندھوں پر اٹھا لیا جبکہ گلگت بلتستان کے شائقین کھیلاڑیوں کی مایوس کن کارکردگی پر ہاف ٹیم کے بعد ہی اپنے اپنے علاقوں کی طرف روانہ ہوئے تھے مایوس شائقین کے گراونڈ سے چلے جانے پر چترال کے شائقین نے سٹیاں بجھاکر اچھا خاصا ہمارا مزاق اڑایا گلگت اے ٹیم کے ایک نمبر اور دو نمبر کے کھلاڑی بہتر کھیل کا مظاہرہ کرتے نظر آئے مگر دیگر کھیلاڑیوں کی کارکردگی سے شائقین پولو سخت مایوس ہوگئے اہم ٹیموں کے میچ چترال کی ٹیموں نے اپنے نام کر لیا البتہ کچھ سال قبل بنائے گئے گلگت کی دو ٹیموں نے چترال کی ٹیموں کو ہارا دیا اس طرح چترال نے چار اور گلگت نے دو میچ اپنے نام کر لیا سب سے زیادہ دکھ اس بات پر ہوئی کہ سٹیج سے بار بار اعلان ہو رہا تھا کہ آج کا میچ گلگت بلتستان اور چترال کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جارہا ہے جس سے ایک طرف شائقین کا یہ کہنا بڑی حد تک درست تھا کہ اگر پورا گلگت بلتستان نے چترال کے ساتھ پولو میچ کا مقابلہ کرنا ہے تو ہر ضلع سے ایک اچھے کھیلاڑی کا چناو عمل میں لایا جاتا تو اس طرح کی شرمناک ہار ہماری ٹیموں کی نہیں ہوتی اس حوالے ضرورت اس بات کی ہے فوری طور شلکیشن کمیٹی کو توڑ دیا جائے اور گلگت بلتستان کے بہترین کھیلاڑیوں پر مشتمل ایک اچھی پولو ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ گلگت بلتستان کے شائقین پولو ہر سال شندور سے مایوس لوٹ کر نہ آئے اب بھی وقت ہے کہ گلگت بلتستان میں پولو کے اہم کھیلاڑی موجود ہیں اور بغیر کسی سفارش کے بہترین کھیلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے تو شندور پولو کپ گلگت کی ٹیم اپنے نام کر سکتی ہے اور کھیلاڑیوں کا انتخاب ابھی سے ہی کیا جائے تاکہ اگلے سال کو ہار کر نہیں بلکہ جیت کر آسکے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments