معاشرے میں‌عورت کا کردار

 تحریر: قندیل
عورت معاشرےمیں ایک ایسا منفرد اور مضبوط کردار کا نام ہے جو اپنی بساط سے بڑھ کرمعاشرے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔
“عورت” حوا کی بیٹی ،  گلاب کی شگفتہ اور شفاف پانی کا چشمہ ہے۔ عورت کا دنیا میں پہلا روپ ہی  رحمت ہے جو بیٹی بن کر باپ کا مان ، سہارا اور  زینت بن جاتی ہے۔ اپنی ماں کا بازو بن جاتی ہےاور بہن بن کر بھائیوں کی سچی اور مخلص دوست بن جاتی ہے۔ بیوی ہو تو جیون ساتھی کا بہترین انداز میں ساتھ نبھاتی ہے۔اور پھر جب وہ عورت ماں بن جاتی ہے تو الّلہ اسکا رتبہ اتنا بلند کر دیتا ہے کہ  جنّت تو اٹھا کر اس کے قدموں میں ڈال دیتا ہے۔
اسلام سے قبل عورت ہر معاشرے  میں ایک کنیز کی حیثیت رکھتی تھی، عرب میں تو بچیوں  کو پیدا ہوتے ہی دفنا دیا جاتا تھا اور ان کی کوئی قدر ہی نہیں تھی۔ جب اسلام کا نور پھیلا تو ہمارے مذہب اسلام نے  عورت کو وہ مقام دیا جو کسی دوسرے مذہب میں نہیں۔ اسلام نے عورت کو اعتبار اور اعتماد دیا اور بچیوں کی پیدائش کو الّلہ کی رحمت قرار دیا اور انکی صحیح تعلیم و تربیت کو جنّت کی ضمانت کہا ہے۔
ہمارے نبی آخرالزّمان حضرت محمد ؐ نے  کئی موقعوں پر باپ کے مقابلے  پر ماں کی فضیلت بیان کی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اقبال نے بھی تسلیم کیا ہے :
وجودِزن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
عورت کا خمیر چونکہ وفا اور محبت سے اٹھایا گیا ہے  اس لیئے وہ ہمیشہ اپنے گھر اور خاندان کو  ہمیشہ مضبوط اور مستحکم  بنانے کی کوشش میں لگی ہوتی ہے۔ گھر کی چار دیواری میں عورت کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ کسی ملازمت سے کم نہیں، ان تمام ذمہ داریوں کو انجام دینے کے ساتھ عورت  مرد کو سپورٹ کرنے کے لیئے عورت باہر جا کر ملازمت بھی کرتی ہے تاکہ معاشی طور پر بھی وہ اپنے گھر کو مضبوط بنا سکے۔ شاید  یہ عورت ہی ہے جس کو رب نے اتنی طاقت د ی ہے کہ وہ ہر قسم کی تکلیفیں برداشت کر کے بھی  اپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑتی ہے۔بحیثیت ایک ماں اور ایک بیوی کےعورت کو بہت ساری ذمہ داریوں سے نبردِآزماں ہونا پڑتا ہے۔لیکن ان قربانیوں اور مشقتوں کے بدلے  بہت تم عورتوں کو وہ درجہ اور اہمیت ملتی ہے جنکی وہ اصل حقدار ہیں۔
بحیثیتِ مسلمان ہمارا یہ نظریہ ہے کہ عورت ایک پوری نسل کی تربیت کی ضامن ہوتی ہے، اسی لیئے قائدِ اعظم محمد علی جناح فرمایا کرتے تھے ” آپ مجھے ایک پڑھی لکھی میں دے دیں میں آپکو ایک پڑھی لکھی قوم دوںگا”۔تاریخ گواہ ہے کہ ایسی بھی ما ئیں گزری ہیں   جنہوں نے ایسے سپوت پیدا کیئے اور  ایسی مثالیں قائم کیں کہ  جنکی نظیر نہیں ملتی۔
مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے میں ٹوٹا شرارِ افلاطون
اگر ہم چودہ سو سال پہلے کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ہمیں عورتوں کو حوالے سے ایسی مثالیں ملتی ہیں جنکا  تذکرہ چند لفظوں میں تو ممکن نہیں  مگر پھر بھی کچھ الفاظ قارئین کے لیئے پیشِ خدمت ہیں۔حضور ؐ کی ابتدائی ازدواجی زندکی میں حضرت خدیجہ الکبریٰ ؑ نے جو ساتھ دیا اور بعثت نبوی کے بعد آزمائش کے دور میں جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کا سنہری باب ہے۔ عہدِ رسالت میں عورتوں نے جنگوں میں زخمیوں کی خدمت اور عیادت کر کے ہی بات ثابت کر دی کہ صنفِ ناز ک میدانِ جنگ میں بھی خدمات انجا م دے سکتی ہے۔
سب سے بڑی اور عظیم مثال حضرت زینبؑ کی ہےجنہوں نے واقعہِ کربلا میں بہت بڑا کردار ادا کیااور اکیلے اپنے قافلے کی سالار بنیں جب کوئی دوسرا نہیں بچا تھا۔اس کردار کو لفظو ں میں سمیٹا نہیں جا سکتا،یہ رہتی دینا تک ایک ایک عظیم الشا ن مثال ہے۔
بی بی آسیہ ؒ جو کہ فرعون جیسے ظالم اور جابر حکمران کی بیوی تھیں ، اس نے حضرت موسیٰ ؑ کی پرورش اپنے گھر میں فرمائی۔ حالانکہ فرعون اپنی بیوی پر بہت زیادہ ظلم کرتا تھا ، اس کے با وجود اس کی بیوی نے خندہ پیشانی سے حضرت موسیٰ کی پرورش کا کام انجام دیا گو کہ ہماری اسلامی تاریخ ایسی کئی مثالوں سے بھری پڑی ہےجس میں عورت نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہےاور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
یہ تو تھی چودہ سال پہلے کی تاریخ، اب ذرا دورِ حاضر پر بھی نظر دوڑاتے ہیں۔ دورِ حاضر میں بھی عورت ہر شعبے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہے مثلاً ڈاکٹری ، انجینیئرنگ، کھیل ،موسیقی،صحافت، سیاست ، وکالت، ایجو کیشن، فوج  گویا کہ زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جہا ں عورت اپنی صلاحیتوں کا لوہا نہیں منوا رہی ہو۔ دورِ حاضر میں نرسنگ اور تعلیم کے میدان میں خواتین بے پناہ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان سے بھی بڑھ کر جو خواتین اپنے گھروں کو بھی سنبھال رہی ہیں وہ بھی بڑی داد کی مستحق ہیں۔
میں یہاں لازماًاس معصوم اور ننھی فلسطینی صحافی جنیٰ جہاد کا ذکر کرنا چاہوں گی  جو ابھی صرف سات برس کی ہے مگر بڑی بہادر اور ہمّت والی ہےاور اپنے کیمرے کے ذریعے اسرائیلی فوجیوں کی ظلم اور بربریت کی وڈیوز دنیا کے سامنے لا رہی ہےاور دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ عورت مجبور، لاچاراور کمتر نہیں ہوتی بلکہ اس نے جس بھی شعبے میں قدم رکھا اپنا نام اور مقام ضرور بنایا جیسے محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رانا لیاقت علی خان، محترمہ بے نظیر بھٹو، نور جہاں، شرمین عبید چنائے، ارفع کریم، ثمینہ بیگ، نسیم حمید اور ایسے کئی بہت سے نام ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو منوایا اور ثابت کیا کہ عورت لاچار اور کمزور نہیں ہوتی ہے۔ بظاہرتو عورت بڑی نازک ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت ذات بڑی مضبوط ہوتی ہے اور ہر مشکل میں ثابت قدم رہتی ہے۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments