خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

ممتازعباس شگری

گلگت بلتستان اویرنیس فورم کے زیراہتمام 15جولائی 2018کودن 2بجے آرٹس کونسل کراچی میں خطے کی سترسالہ محرومیوں پرایک سیمینارکاانعقادعمل میں لایاگیا،جس میں کراچی میں مقیم بے آئین خطے کے طلبہ سمیت سیاسی،سماجی اورمذہبی رہنماوں نے شرکت کی،بندہ ناچیزکوبھی اس پروگرام میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی،سیمینارسے قبل گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی سے ملاقات ہوئی،وہ بھی اس سیمینار،میں شرکت کیلئے بے تاب تھا،گفتگوکے دوران میں نے کہاکہ مجھے نہیں لگتاکہ آج اس پروگرام میں کثیرتعدادمیں لوگ شرکت کریں گے کیونکہ اس سے پہلے سندھ بوائی اسکاوٹس ایڈوٹوریم میں گلگت بلتستان الائنس کی جانب سے منعقدہ سیمینارمیں بہت کم لوگوں نے شرکت کی تھی،ہماری قوم ایک ایسی قوم بنی ہوئی ہے جوکہ سترسال سے حقوق سے محروم ہونے کے باوجوداس مسلئے کوکچھ لوگوں کی جولی میں ڈال کراپنی گردن اس جھنجٹ سے صاف کرناچاہ رہاہے،وہ یہ مانے کیلئے تیارہی نہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک کانہیں پوری قوم کامسئلہ ہے اورجب تک پوری قوم مل کرحقوق کی جنگ نہیں لڑیں گے آسانی سے حقوق میسرنہیں آسکتا، بحرحال جب ہم ہال میں پہنچاتومیرااندازہ غلط ثابت ہوا، پوراہال بے آئین خطے کے باسیوں سے بھرے ہوئے تھے ہمیں اندرجانے کیلئے جگہ بھی نہیں مل رہاتھا،مشکل سے ہال میں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا،سیمینارمیں ایم ڈبلیوایم کے رہنماو نامورعالم دین امین شہیدی،پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماتاج حیدر،ایم کیوایم پاکستان کے رہنمافاروق ستار،پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال،پاکستان تحریک انصاف کے رہنماعلی زیدی،سینئرصحافی وسیم بادامی سمیت گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کے اپوزیشن لیڈرکیپٹن(ر)شفیق ،ایکشن کیمٹی کے سربراہ مولوی سلطان رئیس الحسینی اوردیگررہنماوں نے شرکت کی تھی،تقریب کاآغازہوامقررین نے باری باری گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پرروشنی ڈالنی شروع کردی،امین شہیدی کاکہناتھا کہ گلگت بلتستان کوسترسالوں سے پاکستان سے الحاق کرنے کی سزادی جارہی ہے ،گلگت بلتستان کے عوام فریادکررہے ہیں کہ ہم پاکستانی ہے لیکن مقتدراعلیٰ انہیں پاکستانی تسلیم کرنے کی بجائے ان کے رہنماوں کے نام شیڈول فورمیں ڈالاجارہاہے،دھرتی کی حقوق کیلئے آوازاُٹھانے والوں کوغداراوراوردہشتگردکے نام سے پکاراجاتاہے،نوجوانوں کے شناختی کارڈربلاگ کیے جارہے ہیں،ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستارنے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پرگفتگوکرتے ہوئے کہاکہ گلگت بلتستان پاکستان کوڈیم بنانے کیلئے جگہ فراہم کررہے ہیں پاکستان کوپانی کی نعمت سے مالامال کیاجارہاہے انہیں سترسالوں تک آئینی حدودسے باہررکھنالمحہ فکریہ ہے،انہوں نے گلگت بلتستان کیلئے ایم کیوایم کی کاوشوں کوبھی بیان کرتے ہوئے اپنی سیاسی دکان چمکانے کی کوشش بھی کی،پیپلزپارٹی کے سابق سنیٹیر تاج حیدرنے بھی بے آئین خطے کوحقوق دلوانے کی کوششوں کوپیپلزپارٹی سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی،انہوں نے آرڈر2018کی معطلی کی توبات کی لیکن موصوف یہ کہنابھول گیاکہ آرڈر2009کاکالاقانون بھی انہی کی حکومت کا نافذکردہ ہے،اورجی بی کے عوام اس سے بھی بیزارہے،بحرحال مقررین نے باری باری اپنی خطاب سے عوام کوبے قوف بناکرلاچارلوگوں سے دادوصول کرتے رہے ،شرکاء ایک سکینڈکیلئے اپنی حیثیت اوران سیاسی پارٹیوں کی اصل جدوجہدکوسمجھنے کی بجائے داددیتے رہے،ایسالگ رہاتھاکہ ان لوگوں کوصرف تالیاں بجاناآتاہے اورانہیں تالیاں بجانے کیلئے مدعوکیاگیاہے،،مقررین اپنی سیاسی دکان چمکاتے اپنی ذمہ داری پوری کرتے وہاں سے چلتابنتے رہے نشستیں خالی ہوتے رہے،اپوزیشن لیڈرکیپٹن شفیق اورایکشن کمیٹی کے سربراہ سلطان رئیس اپنی باری کاانتظارکرتے رہے،بالاخراسٹیج سیکریٹری صاحب کواس وقت ان دونوں کودعوت دینے کی دسعادت نصیب ہوئی جب تمام نشستیں خالی ہوچکی تھی،کیاہی بہترہوتاکہ باقی رہنماوں ی موجودگی میں ان کودعوت دیتے،اگرانہیں ان کی موجودگی میں دعوت دیتاتوشایدوہ دونوں گلگت بلتستان کی دردبری کہانی اوران کے پارٹیوں کی اصلی جدوجہدان کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتا،خیراپنوں سے ہی شکایت ہے توغیروں سے کیاگلہ۔

آپ شایداس بات سے اتفاق کرتے ہونگے کہ جب کوئی اپنی حقیقی دردبھری کہانی زباں سے جاری کرنے لگتاہے توسنے والے چاہے ہزاروں ،لاکھوں میں ہی کیوں نہ ہوایساخاموش ہوتاہے جیسے وہاں پرکوئی بھی نہ ہو،یہ لمحہ اس وقت پیش آیاجب کیپٹن (ر)شفیق اورمولوی سلطان رئیس خطاب کیلئے ڈیسک پرنمودارہوا،ان کی تقریرکے دوران ایسالگ رہاتھاکہ کہ ایوان لوگوں سے خالی ہوگیاہیں،کہیں پرکوئی آہٹ تک سنائی نہیں دے رہی تھی،انہوں نے گلگت بلتستان کی موجودوہ صورتحال سمیت مستقبل کے لائحہ عمل پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا،کہ ہمیں سترسالوں سے محروم رکھاگیا،ہم پرآرڈرپہ آرڈرلاگوکیاجارہاہے، ہم نہ صرف آردڑ2018کومستردکرتے ہے بلکہ 2009کے آرڈرکوبھی مستردکرتے ہیں،اپوزیشن لیڈرنے کہاکہ وزیراعظم کے دورے کے دوران ہم نے آرڈرکومانے سے انکارکیاتھاان سے التجابھی کیالیکن وہ کسی صورت آرڈرلاگوکرنے کی غرض سے ہی تشریف لایاتھاتب ہم نے آرڈرپھاڑکراس کے سامنے رکھ دیا،حکومت چاہتی ہے ہم ان کے غلام بن کررہے،گلگت بلتستان کے عوام اب بیدارہوچکاہے، انہیں اپنی حقوق حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا،مولاناسلطان رئیس نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اب بہت ہوچکاہم سترسال سے حقوق سے محروم رہے ،حکومت پاکستان کومعلوم ہوناچاہیے کہ گلگت بلتستان کی پہاڑی سلسلے بلوچستان کی پہاڑوں سے بھی اونچی ہے،اب ہم حقو ق نہیں مانگیں گے،ہم نے بہت عرصے تک بھیک مانگی،اب حکومت پاکستان کی باری ہے کہ وہ ہمیں آئینی دائرے میں لانے پرمجبورہوجائیں گے،انہوں نے گلگت بلتستان کے حوالے سے جلدازجلدنئی چارٹرآف ڈیمانڈسامنے لانے کی کوششوں کوتیزکرنے کے حوالے سے بھی بات کرکے ایک نئی جدوجہدکااعلان بھی کردیا،یوں گلگت بلتستان کے حوالے سے منعقدہ سیمیناراپنی اختتام کوپہنچا۔

اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ آئینی حقوق کی حصول کیلئے سیمینارکرانااورہرکس وناکس کی بات پرتالیاں بجاناکافی ہے یاایک مستقل جدوجہداورتحریک کی ضرورت ہے؟اگرتالیاں بجانے سے ہی حقوق میسرآسکتی تھی توقیام پاکستان کیلئے لوگ جدوجہدکی بجائے تالیاں ہی بجاکرپاکستان بنانے میں کامیاب ہوجاتے،ہمیں یہ مانناہوگاکہ قیام پاکستان قائداعظم اوراسکے ساتھیوں کی بروقت منزل کی تعین اورمستقل جدوجہدکاثمرہے،اگروہ جدوجہدنہ کرتے توآج پاکستان ایک الگ ریاست کی صورت میں دنیاکے نقشے پرنمایاں نہ ہوتا،گلگت بلتستان کے لوگوں کویہ بھی مانناہوگاکہ وہ حقوق کی جنگ کوکئی لوگوں کی جنگ سمجھ رہے ہیں،اوراس انتظارمیں ہے کہ کوئی خلائی مخلوق آئیں اورگلگت بلتستان کوان کے جائزحقوق دلائیں،ہمیں یہ بھی مانناہوگاکہ آئینی حقوق گلگت بلتستان کیلئے زندگی اورموت کامسئلہ بن گیاہے،اورہرایک کواس مسئلے کواناکامسئلہ سمجھ کرجدوجہدکرنے کی ضرورت ہے،اگرہم اپنی منزل کاتعین کرکے مستقل کوشش کریں تووہ دن دورنہیں جب گلگت بلتستان بھی دوسرے صوبوں کی طرح آئینی دائرے میں آکرحقوق حاصل کرسکیں گے۔

اگرہم آج بھی اپنے لیے اپنے بال بچوں کیلئے نہیں لڑیں گے تودوآرڈراوراورسترسال کی محرومی کیامزید100آرڈرزلاگوکریں گے اورہزاروں سال تک حقوق سے محروم رکھیں گے اورہم صرف اس خبرکولیے پھرتے رہنے پرمجبورہوجائیں گے،لوگ ہم پرحکومت کرتے رہیں گے دنیاہم پرہنستے رہیں گے،ہم ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے،جب تک ہمارے فکروخیال نہیں بدلیں گے ہماری حالت نہیں بدلیں گے،عوام کومیسرحقوق بھی چھین لیے جائیں گے،ہم منہ دیکھتے رہنے پرمجبورہوجائیں گے۔کیونکہ خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،نہ ہوجس کوخیال آپ اپنے حالت کی بدلنے کا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments