بد صوات میں قیامت صغرا، اور گلگت بلتستان کے حکمران

غذر کی بالائی تحصیل اشکومن کے گاؤں بد صوات میں 17جولائی کو اچانک پہاڑ سے گلیشیر کا ایک بڑ احصہ دریا ئے اشکومن میں اگر ااور دریائے کو کئی گھنٹے تک روکے رکھا جس سے دیکھتے ہی دیکھتے دریائے اشکومن بدصوات کے مقام پر مصنوعی جھیل کی شکل میں تبدیل ہوا لوگوں نے بھاگ کر قریبی پہاڑوں پر جاکر پناہ لے لی اور رات پہاڑوں پر گزار دی دوسری دن اس قیامت برپا کرنے والا سیلاب کی اطلاع پورے ملک میں پھیل گئی بدصوات نالے میں سیلاب آنے کا سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور اس سال سیلاب نہیں بلکہ پورا گلیشیر ٹوٹ گیا اور یہ گلیشیر گاؤں بدصوات میں قیامت صغرا کا منظر پیش کر رہا تھا ٹنوں کے حساب سے گلیشیر کے ٹکڑے دریائے اشکومن میں گرتے تھے جس سے دریائے اشکومن رک گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بدصوات کا گاؤں ایک جھیل میں تبدیل ہوگئی درجنوں مکانات جس میں گاؤں کا واحد سرکاری سکول بھی مصنوعی جھیل میں ڈوب گیا جبکہ بد صوات کا نواحی گاؤں بلہز میں ایک درجن کے قریب رہائشی مکانات بھی سیلاب کی نذر ہوگئے ہمارے حکمرانوں کو جب یہ اطلاع ملی تو وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے متاثرین کے لئے فوری امداد پہنچانے کے احکامات جاری کئے وزیر اعلی شاید اس وقت گلگت بلتستان میں نہیں تھے غذر کی انتظامیہ نے اپنے وسائل کو بروے کار لاتے ہوئے ٹینٹ اور دیگر اشیاء خوردنی کو ایمت تک پہنچایا وہاں سے اگے روڈ مکمل طور پر تباہ ہوچکا تھا بہر حال انتظامیہ نے متاثرین کے لئے خیمے اور دیگر ضروریات زندگی کا سامان بدصوات تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی جبکہ بدصوات میں بننے والا جھیل عطا آباد جھیل کی یاد تازہ کر رہا تھا دو پہاڑوں کے درمیان دو کلومیٹر لمبی جھیل بنی ہوئی تھی اور بدصوات کی نصف سے زائد آبادی جھیل کی نذر ہوگئی تھی اور نصف درجن دیہاتوں کا زمینی رابط دیگر علاقوں سے کٹ گیا تھا اور صورت حال یہ تھی کہ کوئی بھی شخص پیدل چل کر بدصوات گاؤں کے دوسرے طرف نہیں پہنچ سکتا تھامتاثرین کا ایک دن تو ایسے ہی گزر گیا دوسرے دن سب سے پہلے پاک آرمی کا ہیلی کاپٹر امدادی سامان لیکر بد صوات پہنچ گئی جہاں مصنوعی جھیل بننے کے بعد کوئی انسان نہیں پہنچ سکا تھا پاک آرمی نے متاثرین کو امدادی سامان پہنچایا بلکہ ڈاکٹروں کی ٹیم نے مریضوں کا نہ صرف علاج کیا بلکہ دوائیوں تک فراہم کی اور اب تک پاک آرمی کی میڈیکل ٹیم بد صوات میں موجود ہے جب کہ پاک فوج کے جوان متاثرین کے لئے امدادی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں دوسری طرف گلگت بلتستان کے حکمران ابھی تک کہاں ہیں کچھ پتہ نہیں حالانکہ جس علاقے میں قیامت صغرا برپا ہوا ہے وہاں سب سے پہلے حکمرانوں کو پہنچنا چایئے تھامگر وزیر اعلی گلگت بلتستان تو دور کی بات ہے صوبائی حکومت کے کسی وزیر نے بھی ان علاقوں کا دورہ کرنا اور متاثرین کو مصیبت کی اس گھڑی میں حوصلہ دینے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی اور اب تک یہاں کے متاثرین اپنے حکمرانوں کا راستہ تک رہے ہیں مگر ایک ہفتہ گزر گیا ہمارے حکمرانوں کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ وہ اشکومن کے متاثرین کی خبر ہی لیتے مگر سب سے پہلے یہاں کے متاثرین کے پاس امدادی سامان لیکر پاک آرمی کے جوان پہنچ گئے نہ صرف امدادی سامان پہنچایا گیا بلکہ میڈیکل ٹیم کو بھی فوری طور پر متاثرہ علاقہ پہنچا دیا گیا جو تاحال بدصوات جیسے دور افتادہ علاقے میں موجود ہے دوسری طرف بلند بانگ دعوے کرنے والے بعض فلاحی اداروں کو بھی اتنے بڑے حادثے کا علم کئی دن بعد ہوا نہیں وہ بھی حکمرانوں کی طرح خاموش رہے جبکہ آرمی کی طرف سے مسلسل امدادی سامان کی ترسیل شروع ہوئی تو دیگر فلاحی اداروں کو میں بھی کچھ انسانی جزبہ پیدا ہوگیا اور بروز پیر آغاخان ایجنسی فار ہیبی ٹاٹ (AKAH)کی طرف سے بزائعہ آرمی کے ہیلی کاپٹر میں نوسو کے جی امدادی سامان بدصوات پہنچا دیا گیا یہاں یہ بھی کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہر ہفتے دو چکر غذر کا لگانے والی سفید ہیلی کاپٹر کا بھی کوئی پتہ نہیں چلا جو اس مشکل وقت میں متاثرین کو امداد پہنچاتا اس کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے اسلام آباد سے گلگت کی طرف نہیں ارہی ہے ایک ہفتہ گرزنے کے باجود بھی اسلام آباد سے گلگت نہ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ہیلی غریب عوام کو بروقت امداد پہنچانے کے لئے نہیں بلکہ AKAHکے اسلام آباد اور کراچی میں بیٹھے بڑوں کے سیر سپاٹے کے لئے ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments