انسانیت ہی اصل مزہب ہے

 بدقسمتی سے پاکستان میں ایک قابل زکر تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو کہ اسلام کے نام پہ قتل وغارت ، الزام تراشی ، کفرونفاق کے فتوے اور جنت کے سرٹیفکیٹس بھی دینے سے گریز نہیں کرتے۔ اس سب کے باوجوبوجود دور حاضر کا انسان ٹیکنالوجی کے دور میں زندگی گزار رہا ہے اور اسلام کے نام پہ کھوکھلے نعرے لگا کر لوگوں کو بےوقوف بنانے والوں اور عمل کے زریعے اسلام کے اصولوں پہ کار بند رہنے والوں کے درمیان تفریق کرنا جانتا ہے ۔ جسکی واضح مثال 25 جولائی کو پاکستان میں ہونے والے الیکشنز ہیں ۔ 25 جولائی کو ہونے والے الیکشنز میں بہت سی سیاسی و مزہبی جماعتوں نے حصہ لیا اور خوب الزام تراشیاں اور کھوکھلے وعدے بھی کئے گئے۔ ایک طرف عمران خان تھے جنہیں یہودی ایجنٹ ، طالبان نواز سے لیکر نشہ کا عادی اور اخلاقیات سے عاری شخص قرار دیا گیا اور دوسری جانب تمام سیاسی و مزہبی جماعتیں تھیں ۔ مزہبی جماعتوں میں مولانا فضل الرحمان ، مولانا سراج الحق،علامہ سیدساجد علی نقوی اور دیگر مزہبی رہنماوں کی اتحادی جماعت ایم ایم اے سر فہرست تھی ۔ عمران خان اور ایم ایم کا سب سے تگڑہ مقابلہ خیبر پختون خواہ میں تھا جہاں کی عوام دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ مزہبی ہے ۔ مولانا صاحبان نے اپنی ساری الیکشن کمپین اسلام اور اسلامی قوانین کے نفاز کے نام پہ چلائی اور عمران خان کو ایک لبرل ، آزاد خیال اور خان صاحب کی حکومت بننے پہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بےراہ روی پھیلنے کے خدشات کا بھی اظہار کرتے رہے ۔ اور خان صاحب اسلام کا نام لئے بغیر کرپشن، ظلم وناانصافی ، اقرباء پروری کے خلاف اور قانون کی بالادستی اور انسانی فلاح کی بات کرتے رہے ۔ اب عوام کے سامنے دو قسم کے رہنما تھے ایک وہ جو اسلامی لبادہ اوڑھتے ہیں، اسلام کی خدمت کرنے کے ایسے وعدے کرتے ہیں جیسے کہ اسلام ایک بےبس مزہب ہو اور ہاکستان میں اسلام کی تمام تر زمہ داری ا انہی صاحبان کو سونپی گئی ہو، یہ لوگ داڑھی بھی رکھتے ہیں اور سر عام ایسے امور انجام دینے سے اجتناب بھی کرتے ہیں جن کی اسلام میں ممانعت ہو ۔ اور ایک طرف خان صاحب تھے جو نہ تو داڑھی رکھتے ہیں نہ ہی اسلام کے نام پہ لوگوں کو بےوقوف بنانے کا شوق ۔ خان صاحب ڈٹے رہے اور لوگوں کو اپنے عمل سے سمجھاتے رہے کہ اصل مزہب انسانیت کی خدمت ہے ۔ شاید کہ خیبر پختون خواہ کی عوام نے پی ٹی آئی کی حکومت اور سابقہ حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیا تھا اور وہ یہ بھی جان گئے تھے کہ جناب سراج الحق صاحب کا الیکشن کمپین کے دوران یہ کہنا کہ اسلامی حکومت چاہئے یا ناچ گانے والی حکومت ۔ ایک منافقانہ طرز عمل ہے کیونکہ مولانا صاحب گزشتہ 5سال اسی ناچ گانے والی حکومت کا حصہ رہے ہیں اور یہی وہ ناچ گانے والی حکومت ہی تھی جس نے اس صوبے میں کرپشن اور اقرباء پروری کے خاتمے کیلئے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ، سکولوں کا نظام بہتر بنایا ،تھانہ کلچر ختم کیا اور فلاحی کاموں پہ توجہ مرکوز رکھا ۔ خیبر پختون خواہ کے حوالے سے یہ کہا جارہا تھا کہ یہاں پہ کوئی بھی پارٹی دوسری بار حکومت نہیں بناسکتی مگر یہاں کی عوام نے اس روایت کو غلط ثابت کرتے ہوئے دیگر جماعتوں کو ایک واضح پیغام دیا کہ اگر جمہوری حکومت جمہور کیلئے ہو تو عوام بھاری اکثریت سے دوبارہ اسمبلی میں بیجھتے ہیں ۔ پی ٹی آئی حکومت کی اس صوبہ میں جو کار کردگی رہی اس کا اثر پورے پاکستان میں دیکھنے کو ملا اور خان صاحب پہ عوام نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومت بنانے کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا اور مخالفین کے کھوکھلے نعرے اور اسلام کے نام پہ منافقانہ طرز عمل کو بھی نہ صرف خیبر پختون خواہ کی عوام نے رد کیا بلکہ پورے پاکستان میں ان کی حوصلہ شکنی ہوئی ۔ شاید کہ اب اسلام کے ٹھیکہ دار بھی عوام کی طرح یہ بات سمجھ جائیں کہ محض کھوکھلے نعروں سے اسلام کی خدمت نہیں ہوتی ۔کرپسن کے خلاف لڑنا بھی جہاد ہے اور اسلام تعلیم ،صحت روزگار کی فراہمی کا درس بھی دیتا ہے ۔ اقرباء پروری ،منافقت اور دکھاوا اسلام میں منع ہے اور اسلام میں اقلیتوں حفاظت لازم ،قتل و غارت اور کفر کے فتوے منع ہیں ۔اور جنت کی سرٹیفکیٹ اور جہنم کا تعین اللہ کی زات کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا ۔ اقتدار کے حصول اقتدار کیلئے اسلام کو سیڑھی بنانا ناجائز اور قول و فعل میں تضاد کو اسلام میں منافقت کہا جاتا۔ تحریر : ایڈوکیٹ حیدر سلطان

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments