ضلع غذر میں‌ واقع “آبِ‌ شفا” کا چشمہ

چلاس( شفیع اللہ قریشی)آب شفاء کا قدرتی چشمہ کئی لوگوں کیلئے صحت کا باعث بنا ہے۔سیاحتی علاقہ دیامر حکومت کی عدم توجہی سے دنیا کے نظروں سے پوشیدہ ہے۔ویسے تو وطن عزیز کا ہر حصہ نہایت خوبصورت ہے مگر خیبر پحتون خواہ اور گلگت بلتستان کے بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کی قدرتی حسن کے باعث سیاحوں کو یہاں آنے پر مجبور کرتے ہیں۔قدرتی خوبصورتی کے باعث گلگت بلتستان کو پاکستان کا سوئزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان کا پسماندہ علاقہ ڈسٹرکٹ دیامر نہ صرف بیش بہا دولت سے مالا مال ہے بلکہ اپنی قدرتی حسن سے اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔مگر دیامر ایک پسماندہ علاقہ ہونے کے علاوہ صوبائی حکومت کی عدم توجہی سے دنیا کے نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ایک سروے رپورٹ کے مطابق ضلع دیامر کے علاقے،بابوسر،بٹوگاہ ٹاپ،نگاہ پربت،فئیری میڈوز،داریل و تانگیر،ہوڈر ویلی،کھینر، و دگر جگہوں پر سفری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے سیاحوں کے پونچ سے دور ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ جنگلات،قیمتی پھتر،قدیمی ایثار ودیگر ذخائر ان علاقوں میں موجود ہیں جہاں حکومتی سطح پر سیاحت کو فروغ دینے کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہوگی۔چترال میں واقع دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور سے قدرے فاصلے پر گلگت روڈ ضلع غذر پر قدرتی پانی کا ایک چمشہ ہے جسے مقامی لوگ آبِ شفاء کہتے ہیں۔اس چشمے سے قدرتی طور پر ایسا پانی نکلتا ہے جس کا ذائقہ کڑوا اور بالکل سپرایٹ یا سیون اپ کولڈرنگ کی طرح ہے۔ملک کے کونے کونے سے لوگ یہاں آکر یہ پانی پیتے بھی ہیں اور اپنے اہل و عیال اور مریضوں کیلئے بوتلوں میں بھی بھر کر لے جاتے ہیں۔ ایک مقامی شحص کا کہنا ہے کہ یہ پانی دو سو سالوں سے یہاں جاری ہے اور یہ جسم کی گرمائش دور کرنے اور گردوں کیلئے نہایت مفید ہیں۔اس چشمے کے پاس ہی قریبی پہاڑوں سے برف پگھل کر ٹھنڈے اور دودھیاں رنگ کا نالہ بھی بہتا ہے جو سیاحوں کا دل موہ لیتا ہے۔آس پاس سر سبز و شاداب بلند وبالا پہاڑ اور موسمی پھول سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کیلئے ہر وقت کھِلے رہتے ہیں۔اس علاقے میں ٹھنڈے اور صاف پانی کے نہریں بہتی ہیں جس میں ٹراؤٹ مچھلی پائے جاتے ہیں اور یہاں کا ٹراؤٹ مچھلی ذائقے کے لحاظ سے بہت مشہور ہے۔ یہ چشمہ شندور سے نیچے اتر کر گلگت کی طرف ایک پل کے قریب ایک نالے کے پاس واقع ہے جہاں دس منٹ کا پیدل راستہ ہے۔ اگر حکومتی ادارے ان خوبصورت اور پر فضاء مقامات تک سڑکوں کی حالت بہتر کرے اور سیاحوں کی سہولت کیلئے ریسٹ ہاؤس قائم کرے تو ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح یہاں کا رخ کریں گے جس سے نہ صرف کروڑوں روپے کا ذر مبادلہ حاصل ہوگا بلکہ جو یقینی طور پر اس خوبصورت مگر پسماندہ علاقے سے غربت کی حاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments