خواتین اور سیاست

تحریر:کرن قاسم

عجیب اتفاق ہے کہ خواتین کی سیاسی میدان میں اہمیت کے حوالے اس کالم کے آخری سطور زیر تحریر تھے کہ دیامر میں ایک درجن گرلز سکولوں کو جلائے جانے کی خبر نے سکتے میں ڈال دیا۔ایک خاتون ہونے کی حیثیت سے میں دیامر میں گرلز سکولوں کو جلائے جانے کے اقدام کی مذمت کے ساتھ ساتھ یہ مشور ہ بھی ہے کہ خواتین کو دور جہالت میں دھکیل کر خاتون کو گھر کی چوکھٹ سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کرنے والے اپنے ذہنوں کو پہلے صاف کریں اگر معاشرے میں ہر فرد خواتین کی عزت کی نگاہ سے دیکھے ہر شخص اپنے گریباں میں جھانکے کسی خاتون کو صرف بد نظری سے قبل اپنے گھر میں موجود ماں بہن بیٹی کا خیال دل میں لائے تو معاشرہ سدھر سکتا ہے اور خواتین باعزت زندگی گزار سکتی ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ معاشرے کی تکمیل خواتین کے وجود سے ہے اور کسی نے کیا خوب کہا ہے ”کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ©©“۔ گلگت بلتستان کی خواتین کسی بھی شعبے میں اپنا لوہا منوا سکتی ہیں اور ماﺅنٹ ایورسٹ کو سر کرنے سے لیکر ملکی و بین الاقوامی سطح ہونے والے مختلف مقابلوں میں گلگت بلتستان کی خواتین کی نمایاں کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح سیاسی میدان میں نامی گرامی خواتین نے اپنا کردار ادا کیا ہے اور گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ میں دادی جواری کا نام سر فہرست ہے بہر کالم کی طوالت کو مد نظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کی وجودہ سیاسی حالات میں خواتین کے کردار کو سامنے لاتے ہیں۔۔۔۔۔

گلگت بلتستان کی خواتین سیاسی میدان میں ارتقائی مراحل سے گزر رہی ہیں اور اب تک کئی خواتین نے سیاسی میدان میں نہ صرف خود کو ایڈ جسٹ کیا ہے بلکہ ہے علاقے کی سیاست کے شعبے میں تعلیم یافتہ خواتین کی انٹری کے وسائل اور جواز پیدا کیا لیکن بعض خواتین کی وجہ سے اکثر پڑھی لکھی خواتین سیاست میں حصہ نہیں لے رہیں۔گلگت بلتستان کے سیاسی افق پر نام کمانے والی خواتین کی تعداد کافی ہے اور خواتین کو سیاسی پلیٹ فارم پاکستان مسلم لیگ ق جو صدر پرویز مشرف دور سے مشہور ہے میں مہیا کیا گیا جس میں گلگت بلتستان اسمبلی میں خواتین کی نشستوں میں کافی اضافہ کیا گیا بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی نے خواتین کو بہترین پلیٹ فارم مہیا کی اور خواتین کو بہت زیادہ حوصلہ دیا یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے دور کے سابق صوبائی وزیر سیاحت سعدیہ دانش سیاسی میدان میں سب سے آگے ہے اور سیاسی میدان میں قدم رکھنے کی خواہش مند خواتین کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے اسمبلی ممبر بننے والی دیگر خواتین میں سے شریں فاطمہ آ ج بھی سیاسی میدان میںمتحرک ہے لیکن یاسمین نظر اور گل میر ا گمنام ہو چکی ہیں جبکہ مسلم لیگ ق سے اسمبلی رکن بننے والی خاتون آمنہ انصاری آج کل پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سیاسی جد و جہد کر رہی ہیں پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے اسمبلی تک رسائی حاصل کرنے والی خواتین گل میرا اور یاسمین نظر سیاسی میدان سے آوٹ ہو چکی ہیں۔اسی سلسلے کے تحت پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں پر خواتین ممبران اسمبلی تو منتخب کئے ہیں لیکن صوبائی ترقی نسواں و امور نوجوانان صوبیہ جبیں مقدم کے علاوہ کسی خاتون کا کردار اسمبلی میں نظر نہیں آرہا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اکثر ممبران اسمبلی نے چپ کا روزہ رکھا ہوتا ہے ان نہ اسمبلی میں کوئی کردار ہے اور نہ ہی اسمبلی سے باہر بلکہ باقی ماندہ خواتین ممبران اسمبلی ماسوائے رانی عتیقہ غضنفر کے باقی سب غیر معروف ہیں اور ان کی کارکردگی سے خواتین سخت مایوس ہی۔

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر خواتین کو منتخب کیا جاتا ہے لیکن سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس حوالے سے میرٹ کی بجائے ذاتی تعلقات اور سفارش کی بنیاد پر خواتین کو منتخب کرنے کے اقدام کی وجہ سے آج تک خواتین کے حقوق کے حوالے سے کوئی اہم پیشرفت نہیں ہو سکی اور آض بھی گلگت بلتستان کی خواتین گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں۔اگر میرٹ پر پڑھی لکھی خواتین کو اسمبلی ممبران منتخب کیا جائے تو نہ صرف فنڈ کا صحیح معنوں میں استعمال ہوگا بلکہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے کوئی اہم پیش رفت بھی ہو سکے گی۔لیکن گلگت بلتستان کی سیاسی شعور رکھنے والی پپڑھی لکھی خواتین کو موقع نہ ملنے کی وجہ سے آج گلگت بلتستان کی خواتین گھریلو تشدد،ہراساں کئے جانے،انصاف نہ ملنے،معاشرتی ناہمواریوں سمیت دیگر کئی مسائل کا شکار ہیں اور ہراساں کئے جانے کے باﺅجود خواتین خاموش رہنے پر مجبور ہیں اگر سستا اور فوری انصاف ملے خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات رپورٹ ہو سکتے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ پڑھی لکھی اور با شعور خواتین کو موقع دیا جائے۔

مجھے ایک ایسی خاتون سے ملنے کا اتفاق ہوا جس کی بیانات اخبار کی زینت بنتے تھے اور میں بیانات کو آخری لفظ تک پڑھتی تھی اس خاتون کے کسی بیان میں کوئی ایک لفظ قابل اعتراض نہیں ہوتا تھا انتہائی مہذب انداز میں بیانات دینے والی خاتون سے ملنے کی خواہش تو تھی ہی کہ پوری ہو گئی جب اس خاتون سے بالمشافہ ملاقات ہو گئی تو مہذب انداز میں بیانات دینے والے خاتون مہذب دنیا کی ایک شاہکار تھی۔ ہر بات کا حوالے قرانی آیات سے دینے والی خاتون کا انداز بیاں بھی انتہائی جاذب تھا یہ خاتون شمیم اختر بیگ ہے کسی قسم کے ذاتی مفادات نہیں بس خدمت کا جذبہ اور شوق ،انتہائی مہذب،مدبر،مثبت اپروچ اور با شعور خاتون جسے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم پر بھی عبور حاصل ہے اور اور ہر بات کا حوالے قران مجید کے آیات سے دیتی ۔اس خاتون کے ذکر کا مقصد یہی ہے کہ اگر گلگت بلتستان اسمبلی میں ایسی خواتین کو منتخب کیا جائے تو نہ صرف خواتین کو ان کے جائز حقوق ملیں گے بلکہ خواتین کو معاشرے میں اعلیٰ مقام بھی ملے گا اور سیاسی میدان میں معاشرے کی پڑھی لکھی اور ساسی شعور رکھنے والی خواتین سیاسی میدان میں ایک اچھی روایت ڈال سکیں گی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments