’سارے شینا والے دہشتگرد ہیں؟’ میں نہیں مانتا

 تحریر: فہیم اختر گلگت

شہر میں گرمی عروج پر تھی، محکمہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہوا کے نمی کا تناسب انتہائی معمولی تھا۔ سوا نیزے کی دھوپ محسوس ہورہی تھی ۔ شہر میں لوگوں کا رش معمول سے کم تھا جس کی وجہ سے اکثر لوگوں کا ٹھنڈے مقامات کی طرف رخ کرنا تھا۔ معمولات متاثر ہونے کی وجہ سے میں دریائے گلگت کے کنارے کی طرف چل پڑا جو کہ قریب ترین ٹھنڈا مقام تھا۔ دوپہر کے قریب کا وقت تھا میں دریا کے ٹھنڈے لہروں سے لطف اندوز ہورہا تھا ۔میرے سامنے ’باباجی‘ہاتھ میں اخبار لئے تشریف فرما تھے ۔ ان کا معمول تھا کہ صبح نماز کے بعد چہل قدمی کے لئے نکلتے اور مارکیٹ میں اخبار پہنچنے تک وہ بادنسیم کو ’آکسیجن‘ کے متبادل کے طور پر اپنے اندر زخیرہ کرتے تھے جو کہ ان کے صحت کا ایک راز بھی تھا۔ ’باباجی ‘ناشتہ کئے بغیر گزارہ کرسکتے تھے مگر اخبار پڑھے بغیر نہیں۔حالات حاضرہ سے مکمل باخبر رہتے تھے ،ماضی کے تجربات کی وجہ سے صحافت کے اسرارو رموز سے واقف تھے۔ خبر وں اور کالموں پر صرف اس وقت تبصرہ کرتے تھے جب اچھے لگتے یا انتہائی ناگوار محسوس ہوتے ،اکثر راقم کے تحاریر پر بھی انہی کیفیات میں اپنا تبصرہ پیش کرتے تھے اور ان کا تبصرہ بذات خود ایک کالم ہوتا تھا۔ ’باباجی ‘ اخبار کے باریک بینی سے مطالعہ میں مصروف تھے ۔دریائے گلگت کا پانی گلیشیئرز کے پگھلنے کی وجہ سے معمول سے کافی زیادہ تھا ،لہریں ٹھاٹھیں مارتی ہوئی حفاظتی بندسے ٹکرارہی تھی ۔ چند لمحوںمیں وہ اپنے ضرورت کی خبروں اور اداریوں کو دیکھ کر فارغ ہوگئے ، انہوں نے اخبار کا ایڈیٹوریل صفحہ کھولا ہوا تھاجس میں راقم کا دیامر کے حالات پر لکھا ہوا کالم ’دیامرسانحہ اور اجتماعی زمہ داری‘ نمایاں تھا۔ ایک لمحے کے لئے خیال آیا کہ ’باباجی ‘حسب معمول اس پر تبصرہ نہیں کریںگے کیونکہ اس میں عافیت تھی۔ ’باباجی ‘کالموں کی تعریف اکثر کم ہی کیا کرتے تھے ۔’آپ کو شاید معلوم نہیں کہ میرے آباءو اجداد کا تعلق بھی داریل سے ہے ؟‘ باباجی مجھ سے گویا ہوئے، ’دیامر کے اس واقعہ میں مقامی افراد کا بڑا ہاتھ ہوسکتا ہے لیکن آپ نے اچھی کاوش کی ہے ‘۔’مجھے اس کا یقینا علم نہیں کہ آپ کے آباءو اجداد داریل سے گلگت یا مضافاتی علاقوں میں منتقل ہوئے ہیں۔مقامی افراد کے بغیر تو کوئی کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا ہے ‘۔میں نے مختصراً جواب دیا۔ ’باباجی ‘نے گہری سانس لیکر کہا ’میری نظر میں لفظ’دہشتگرد‘ بکواس لفظ ہے کیونکہ ہمارے اندر آپس میں ہی قتل و غارت گری کی صلاحیتیں موجود ہیں‘۔ ’باباجی ‘ میں دیامر میں ایسے افراد کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے سخت دہشتگردی کے واقعات کے دوران جان ہتھیلی پر رکھ کر لوگوں کی جان مال کی حفاظت کی ہے ‘ ، میری بات کا ’باباجی ‘پر کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے جواباً کہا کہ ’شینا بولنے والے سارے قاتل ہیں اور کچھ بھی نہیں‘۔ باباجی کا جملہ ایک سیلاب تھا ۔میں نے خود کو دیکھنا شروع کردیا کہ بحیثیت شینا بولنے والامیں کس قدر شدت پسندہوں یا کن نظریات میں شدت رکھتا ہوں، سرسری طور پر کوئی ایسا کونہ نظر نہیں آیا۔ کہاں کے شینابولنے والے؟ میں نے بھرپور تجسس کے ساتھ سوال کیا۔ ’جہاں کہیں بھی ہیں‘ ’باباجی ‘کا یہ جواب خلاف توقع ہی تھا۔ میں نے دوبارہ سوال کیا کہ ’کسی ایک مخصوص اقلیتی واقعہ کی بنیاد پر عمومی اکثریت کو ہم کیسے بدنام کرسکتے ہیں اور کسی بھی مخصوص زبان اور کے بولنے والوں کا قتل عام سے کیا تعلق ہوسکتا ہے‘؟ ’باباجی ‘نے کرخت لہجے میں کہا کہ ’میں ایسا کرتا ہوں تاکہ لوگ کچھ تو اپنے بارے میں سوچیں‘’شینا بولنے والے دراصل ’ماچو کلچر ‘کے پیروکار ہیں‘۔میں نے بڑی نادانی سے سوال کیا کہ ماچو کلچر کیا ہوتا ہے؟باباجی نے کہا کہ ’آپ گلگت بلتستان کے ان تمام علاقوں پر تحقیق کرو جہاں شینا بولنے والے اور دیگر زبان والے ایک ساتھ رہتے ہیں آپ کو شینا بولنے والے شرارتی ملیںگے۔ ’باباجی ‘کی اپنی زبان بھی شینا ہی تھی اور سماجی علوم پر گہری تحقیق رکھتے تھے اس لئے ان کی کسی بات پر سوال اٹھانا میرے لئے ناممکن تھا۔ ماچو کلچر پر گفتگو کرتے ہوئے ’باباجی ‘نے کہا کہ اس کی تاریخ بہت لمبی ہے ، اس کی داستان سپین اور پرتگال سے شروع ہوئی تھی،جہاں پر ایک مخصوص زبان بولنے والوں نے پورے علاقے کو اپنے قابو میں رکھا تھا ، ان زبان دانوں کو معاشرتی امور میں صرف ایک ہی خصوصیت حاصل تھی وہ اپنی مردانگی اور بہادری پر ناز کرتے تھے ، ان کے اس رویہ نے کئی عشروں تک علاقے کو مکمل آگ و خون میں دھکیلے رکھا ،وہاں پیدا ہونے والی بچی اپنی قسمت کا فیصلہ تک نہیں کرپاتی تھی کیونکہ وہاں معاشرتی امور میں خواتین کی رائے تک لینا گناہ عظیم تھا، ان دونوں ممالک میں اس صورتحال پر سنجیدہ ممالک نے ہمیشہ مذمت کی اور مخالفت کی ۔ تب سے اب تک جہاں بھی بچوں کو پیدائش سے ہی ہنرمند بنانے کے بجائے بہادری اور مردانگی کا درس دیا جاتا ہے اسے ’ماچو کلچر ‘ کا پیروکار کہا جاتا ہے‘۔ ’باباجی ‘کی اس گفتگو نے جھنجوڑ کے رکھا اور علاقائی سطح پر ہونے والے حادثات کا سلائیڈشو زہن میں ابھرنا شروع ہوا جو کہ ’باباجی ‘کے گفتگو پر حقیقت کا مہر لگارہے تھے ،اس کے علاوہ علاقائی سطح پر سرحدی تفریق سے بالاہوکر کئی مثالیں دی اور کہا کہ ان سب مثالوں کے پیچھے لوگوں کا ماچو ہونا ہے۔’اُس دور میں کسی حد تک حکمت اور قیادت کا عنصر بھی موجود ہوتا تھا مگر اُس وقت کے ’ماچوز‘نے ان دونوں عناصر کو اگلے ’ماچوز ‘ میں منتقل نہیں کیا ‘۔ زراسی توقف پر ہی میں نے متبادل راستہ اور اس کا حل پوچھ لیا ۔ ’باباجی ‘نے کہا کہ ’جب بندہ ماچو کی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے تو اس کی سوچ کا محور صرف وہی چیزیں ہوتی ہے جہاں اس کا اپنا مفادہوتا ہے ہر شے کو اسی مفاد کے حصار میں دیکھا اور پرکھا جاتا ہے، ناپسندیدہ افضل ترین شے بھی ان کے سامنے قابل نفرت ہوتی ہے اور اس کا واحد حل اشیاءاور مخلوق کی بناوٹ ،قابلیت ،اہلیت اورہنرمندی کے مطابق تعریف و تنقید کی تبلیغ کرنا ہے ۔ بنیادی طور پر انسان اندھا گونگا اوراندھا پیدا ہوتا ہے ۔ پھر وہی دیکھتا،سنتا اور بولتا ہے جو اسے معاشرے میں سکھایا جاتا ہے ۔ اگر معاشرہ کسی ایک فرد کی اچھی تربیت کرے تو وہ معاشرے کے ایک زمہ دار کے طور پر سامنے آتا ہے ۔ معاشرہ کی دعوت اور اس کے اثرات سے صرف وہی محفوظ رہ سکتا ہے جس نے معاشرے سے قطع تعلقی کر رکھی ہو ،یا معاشرے سے دور بھاگا ہوا ہو، کمزور معاشروں میں انسان کو اشیاءپر قبضہ کرنے اور مادی اشیاءکی طرف راغب کیا جاتا ہے جبکہ مضبوط معاشروں میں انسان پیدائش سے ہی صلاحیتوں میں نکھار لانے ، مادی اشیاءکی بجائے روحانی پہلوﺅں پر غور کرنا سیکھ جاتا ہے ۔ اس پہلی درسگاہ کا سبق انسان کی زندگی بھر ساتھ ہوتا ہے وہی سے انسان اپنا تعارف کراتا ہے کہ وہ کون ہے؟یقینا اپنے نام اور حسب نسب کے علاوہ پہلا تعارف وہی ہوگا جو اسے سکھایاگیا ہے ۔ معاشرے میں اگر لوگ اپنی پہچان ’بہادری اور مردانگی‘ سے کرائیںگے تو اس سے بگاڑ ہی پیدا ہوتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں بہتری کا واحد راستہ یہی ہے کہ لوگ خود سے ہی سوال کریں کہ میں معاشرے کے لئے کتنا مفید ہوںکیونکہ علامہ اقبال مرحوم نے بھی خوب کہا تھا کہ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ ہماری صورتحال پر اسی لئے کہا تھا کہ ہمیں ’دہشتگردوں ‘کی ضرورت نہیں ہے ہم آپس میں ہی اس کارخیر کے لئے کافی ہیں۔ معاشرہ اور فرد کا تعلق لازم و ملزوم بھی ہے اور ایک دوسرے پر منحصر بھی ہے ۔ معاشرہ انسان کو بناتا ہے اور انسان معاشرے کو بناتا ہے ۔ انسان کے رویہ اور الفاظ میں نرمی اس کی ابتداءہوتی ہے اگر گھروں میں یہ درس عام ہوجائے تو تبھی ممکن ہے کہ ہم ماچو کے اندھی تقلید سے باہر نکل سکتے ہیں۔’باباجی‘ نے جس فکر انگیز انداز میں یہ گفتگو کی میرا خیال تھا کہ ان کا ضبط ٹوٹ جائیگا اور آنسو جاری ہونگے لیکن اس کے جذبات بھی مرحوم ہوچکے تھے ۔ اس نے گفتگو سمیٹ لی تو میرے اندر کا ’ماچو‘جاگ اٹھا اور کہا کہ ’سارے شینا والے دہشتگرد ہیں؟میں نہیں مانتا ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments