چلاس کے آثار قدیمہ خطرے کے  زد میں

تحریر ۔ظفراقبال

انسانی ارتقاء کی تاریخ ہزاروں سال نہیں، بلکہ لاکھوں سالوں پر محیط ہے۔ارتقاء کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے حضرت انسان نے ہر مشکل دور کو بڑے قریب سے دیکھا ہے۔
اس روئے زمین پر انسان ہی وہ واحد جانور ہے جس نے عقلی بنیاد پر ہر گھٹن ادوار میں خود کو تحفظ دینے میں کامیاب رہے۔چاہے وہ ائس ایج ہو یا آگ کی دریافت سے پہلے کا دور ہو، انسان نے ہر ماحول سے مطابقت پیدا کی۔انسان سے بھی زیادہ طاقتور جانور مشکل ادوار کا مقابلہ نہیں کرسکے اور معدوم ہو گئے۔آگ کی ایجاد انسانی زندگی کا ایک اہم کارنامہ تھا۔جس نے انسانی زندگی کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔
آگ ایک ایسے وقت میں دریافت ہو چکی تھی، جب انسان خاندانوں کی شکل میں غاروں میں رہائش پزیر تھے۔ایک طویل عرصے تک انسان ان غاروں میں موجود رہے۔اور اپنی موجودگی کے انگنت نقوش ان غاروں میں چھوڈ دئے۔اپنے فن کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اُس دور کے انسان نے غاروں کے دیوروں پر نقش و نگاری کی ہے ۔کہیں پے جانوروں کے اشکال بنائے ہیں۔اور کہیں  شکار کے اوزار بنائے ہیں۔
اج کے دورکے مُہذب اور جدید انسان نے انہیں اشکال کا سہارا لے کر تاریخ کے گمنام گوشوں سے پردہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے۔اگر جدید سائنسی دور کے انسان کی رسائی غاروں میں موجود ان اشکال اور نقش و نگاری تک نہیں ہوتی تو شاید تاریخ کے ان اندھیرے گوشوں سے معلومات اکھٹا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
جدید تہذیبوں کا آغاز کم و بیش تین ہزار سال قبل مسیح یعنی اج سے پانچ ہزار سال قبل  شروع ہوئیں۔جن میں دریائے نیل  دریائے سندھ اور دریائے گنگا اور جمنا کے تہذیبں شامل تھیں۔دریائےسندھ کے قدیم تہذیبوں میں موہنجودورو ،ہڈپہ،ٹکسلا اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔جبکہ گنگا اور جمنا کے تہذیبوں  میں ہستناپور اور ایودیہ کی شہری ریاستیں شامل تھیں۔
ان کے علاوہ مایا تہذیب،سلطنت روما ،ایتنھز کی شہری ریاستیں  بھی اس میں شامل تھیں۔دریائے سندھ کے تہذیبوں کے اثار انیسویں اور بیسویں صدی عسوی میں دریافت ہوئیں۔اثار قدیمہ کے ماہرین نے بہت احتیاط کے ساتھ کھودائی کے عمل کو مکمل کی ،اور کھودائی کے دوران اُس دور کے نادر اشیاء دریافت ہوئیں ،اوراُس دور کی شہری ریاستوں کے بارے میں بے تحاشا معلومات دستیاب ہوئے۔اور ریاستی سرپرستی میں حکومت پاکستان نے ان جگہوں کو اپنی تحويل میں لے لی۔اور ان جگہوں کی حفاظت بھی حکومت کی ذمے ہے،جو کہ قابل تحسین کام ہے۔
لیکن دوسری طرف گلگت بلتستان کے ضلع ریامر کے علاقہ چلاس میں موجود اثار قدیمہ کو دیامر بھاشا ڈیم کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں۔چلاس کے گردونواح میں پہاڑوں اور پتھروں پر دور قدیم کے نیاب اشکال اور نقش و نگاری دیکھنے کو ملے گے۔
کمال مہارت سے اُس دور کے قدیم انسان نے مختلف اشکال ان پتھروں پر نقش کی ہیں، جو کہ دلچسپی رکھنے والوں کے کشش کا باعث ہے۔یہ اشکال اس بات کی دلیل پیش کرنے کے لئے کافی ہے، کہ چلاس کا شمار بھی دریائے سندھ کی قدیم تہذیبوں میں ہوتا تھا۔اور اج بھی اُس دور کے انسان ہمیں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔
ان نقش و نگاری اور اشکال کا زیادہ تر تعلق بدھ مت مذہب سے ہیں۔بعض اونچے پہاڑی جگہوں میں مہاتما بدھ کے اشکال بنائیں گئے ہیں ،اور بعض جگہوں پر جانوروں کے اشکال بھی بنائیں گئے ہیں۔لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومتی سرپرستی نہ ہونے سے دور قدیم کے اس شاہکار تخلیق کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ہونا تو یہ چائیے تھا کہ ان جگہوں کو عالمی سطح پر تشہیر کرا کر زیادہ سے زیادہ سیاحت کو فروغ دیتے ،جس سے مقامی لوگوں کو فائده ہوتا اور ان کی معیار زندگی بلند ہوتی ۔لیکن حکومت کی عدم توجہ سے یہاں پر سیاحت کو کوئی خاطر خواں فروغ حاصل نہیں ہو سکا۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ  بعض مقامی ٹھکیداروں نے تعمیرات کے سلسے میں ان پتھروں کو جن پر دور قدیم کی نقش پا موجود تھے توڑ کر ضائع کر چکے ہیں، ایک باشعور قوم اپنی تاریخ کو محفوظ رکھتی ہے۔
ان اثار قدیمہ کو سب سے زیادہ خطرہ دیامر ڈیم سے ہے۔جب ڈیم تعمیر ہوگا تو یہ سارے پھتر  جن پر نقش نگاری کی گئ ہیں سارے ڈوب جائیے گے۔جس کے ساتھ ہی ہماری ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ بھی ڈوب جائے گی۔
یہ امر قابل غور ہے کہ ایک طرف  حکومت پاکستان اپنے آئینی حدود کے اندر موجود اثار قدیمہ کی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھایا ہوا ہے ،اور ہر طرح سے اس کی تشہر کی جاری ہے۔درسی کتابوں میں اس کو نصاب کا حصہ بنایا ہوا ہے،جبکہ دوسری طرف ہماری تاریخ کو جان بوجھ کر نہ صرف مسخ کیا جا رہا ہے، بلکہ اس کو سرے سے ختم کرنے پے تلے ہوئے ہیں۔ہم مقتدر حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری تاریخ سے جڑی ہر چیز کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے،اور اسکی حفاظت کرنےمیں اپنا کردار ادا کریں ۔اقوام کو ان کی تاریخ سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ شدت سے محسوس ہو رہا  ہے، کہ ہمیں ایک عرصے سے ہماری تاریخ سے دُور رکھا گیا ہے۔لیکن یاد رہے ہم اپنی تاریخ سے بے خبر نہیں با خبر ہے ،یہ الگ بات ہے کہ ہماری تاریخ نصاب سے غائب کیا گیا ہے،آخر میں گلگت بلتستان کے سیاسی حلقوں،سول سوسائٹی، یوتھ ،عام عوام سے پور زور اپیل کروں گا، کہ اگے ائے اور ہر اس عمل کی مخالفت کریں، جس کا ٹکراؤ ہمارے مفادات سے ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments