میرے دل کی آہ، رشتہ داری

از قلم ساجد حسین

یوں ہی بیٹھے بیٹھے میرے دماغ نے دل سے سوال کیا کہ رشتہ دار کون ہوتے ہیں اور انکا ہماری روز مرہ زندگی میں کیا کردار ہے اور یہ کس کام آتے ہیں؟

دل سمجھدار نکلا اور کہنے لگا اے دماغ! آپکا دماغ خراب ہے کیا جو ایسے سوال پوچھ کے مجھے الجھا رہے ہیں۔ پھر دل نے ایک آہ بھری اور عرض کرنے لگا کہ اے بھائی دماغ دیکھو آپکو پتا ہی ہے کہ یہ دنیا کے نظام جو سمجھ سے بالاتر ہیں اور یہ دنیا جذبات کی قدر نہیں کرتی بلکہ اسکو برباد دیکنھے کی خواہاں ہے پھر تو آپ بڑی اہمیت کے حامل بات پوچھ رہے ہیں کہ رشتہ دار کون ہوتے ہیں اور انکا ہماری روز مرہ زندگی میں کیا کردار ہے۔ تو میرے اندازے کے مطابق رشتہ دار وہ ہوتے ہیں جو آپکے ہر سکھ دکھ درد میں کام آئے آپکے نقصان میں وہ رنجیدہ ہوں اور آپکی خوشی میں وہ اپنی خوشی سمجھ کے خوش ہوں انہی کو رشتہ دار کہتے ہیں۔ اور انکے کردار کے بارے میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ رشتہ دار ایک کنجی کے مانندہوتے ہیں جو ہر کسی کے دل کے تالوں کو کھول کر ان دلوں میں نفرتوں کے بجائے محبتوں کے گل کھلائے اپنی محبتیں ہر سوں پھیلائے اور اپنا صلہ رحمی والا حق ادا کرے تب کہا جا سکتا ہے کہ انکا ہماری روز مرہ زندگی میں اہم کردار ہے ورنہ کوئی فائدہ نہیں کہنے کو تو رشہ دار ہونگے مگر انکا ہماری زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ رشتہ دار عموما خوشی کے موقعوں میں نہیں بلکہ غم کے موقعوں میں پہنچانےجاتے ہیں خوشی کے موقعوں میں دشمن بھی شریک ہوتے ہیں پتا تو اپنوں کا تب چلتا ہے جب کوئی مصیبت سر پہ آجاتی ہے یا کوئی غم نڈھال کر دیتی ہے تب معلوم ہوجاتا ہے کہ اپنا کون ہے اور پرایا کون۔ آج کل کی اس نفسا نفسی والی دنیا میں انسان کو دھن دولت کی فکر رہتی ہے جو ہر وقت انسان کو کھائی جاتی ہے کہ بس اسی کے خیالات میں اپنا سارا وقت ضائع کرتے ہیں۔ یہ رشتہ دار بھی کیا کمال کے ہوتے ہیں کہ جب دیکھو آپ کچھ صاحب ثروت ہوئے آپکے ہوجاتے ہیں اگر خدانخواستہ آپ کسی مصیبت کا شکار ہوکر جب تھک ہار جاتے ہیں تو یہ رشتہ دار ایسے فرار ہوتے ہیں کہ آیاں یہ دنیا میں زندہ ہیں یا مر گئے۔ ان رشتہ داروں کو میری اصطلاح میں materialistic یعنی مادہ پرست کہوں تو کچھ غلط نہیں ہوگا۔۔ اکثر یہ دیکنھے میں آیا ہے کہ فرض کیجئے ایک ہی باپ کے دو بیٹے ہیں ایک صاحب حثیت آفیسر ہے یا مال و دولت والا ہے اور ایک غریب اور پست ہے ایک محفل میں دونوں جاتے ہیں غریب پہلے اس محفل کا حصہ بن جاتا ہے اسکے استقبال کے لئے کوئی نہیں اٹھتا اور ایک جو صاحب دولت ہے اسکے استقبال کے لئے سارے محفل والے کھڑے ہوجاتے ہیں یہ ہمارے معاشرے کی ایک سب سے بڑی اور بری خامی ہے جو مال و زر کو ترجیح دی جاتی ہے حالانکہ سب مسلمان ہیں اور خطبہ حجت الوداع کے بارے میں اچھا خاصا علم رکھتے ہیں اسکے باوجود یہ لوگ عمل نہیں کرتے اسی طرح یہ مثال ہمارے رشتہ داروں کی بھی ہے بھئی جس کے پاس چند روپے پیسے ہیں وہ انہی کے ہوجاتے ہیں اور انکی شہرت کے ڈھنکے ہر سمت بجاتے پھرتے ہیں۔ رشتہ داروں کے بارے میں ایسی ایسی سخت احادیث اور قرآنی احکامات ملتے ہیں کہ بندہ دھنگ رہ جاتا ہے اور سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ رشتہ داری اتنی اہمیت کے حامل ہے اسکا یہ مقام و مرتبہ ہے جس میں تمام تر احساسات کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ مگر دوسری سمت والے رشتہ دارسمجھنے سے قاصر ہوجاتے ہیں اور اہمیت جاننے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ غم ہر کسی کی زندگی کا حصہ ہے مگر غم اس وقت تلخ اور تکلیف دہ بن جاتا ہے جب اپنے ہی پرایوں کا لبادہ اوڑھتے ہیں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئےکنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور بعد میں کسی مطلب کی خاطر دعوی بھی وہی رشتہ دار کرتے ہیں جنہوں نے اپنا منہ موڑ لیا تھا۔ انکی یہ دوہری پالیسی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہے کہ بندہ لاجواب ہوکر رہ جاتا ہے۔ گزشتہ چند دن قبل کسی عزیز رشتہ دار کے گھر گیا تھا کہ مل لوں اور کافی عرصے بعد ملاقات بھی ہوگی جوں ہی انکے گھر میں داخل ہوا سلام دعا کے بعد ہی خیر خیریت پوچھتے ہوئے میرے ذاتی زندگی اور خاندان کے حوالے سے ایک تلخ سوال پوچھا گیا اس بات کا میری زندگی سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا اس پر مجھے بہت رنج اور افسوس ہوا اور میں انکے گھر سے فورا اٹھا اور اپنا راستہ پکڑا وہ سوال میرے جذبات مجروح کرنے میں اکسا رہا تھا اور مجبور کروا رہا تھا کہ میں اسکے ساتھ سختی سے پیش آؤں مگر میں نے اپنے جذبات کو لگام دیا اور چپ چاپ اپنی منزل کی طرف بڑھا۔ اس واقعے کو بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب میں کسی کی زندگی اور اسکے ذاتی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا تو کوئی میری ذاتی زندگی اور خاندانی معاملات میں کیوں دخل دے۔ یہ رشتہ دار کسی کام کے نہیں جب تک انکے مطلب کا کوئی کام نہیں ہوتا یہ پوچھتے تک نہیں کہ تم زندہ ہو یا مر گئے ہو مال و دولت کے غلام لوگ ہمیشہ انہی کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں جو دنیاوی خرافات کے غلام ہوتے ہیں۔ میری زندگی کے ایسے ایسے واقعات ہیں جن کو بیان کرتے ہوئے میری زبان اجازت نہیں دیتی کہ میں کیسے بیان کروں ہماری سب سے بڑی خامی اور غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم حد سے زیادہ مخلص ہوتے ہیں جس کا لوگ غلط فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں کرتے جس کو اچھا کرو گے اتنا واپسی میں برائی کا جواب ملتاہے یہ ہے اصل رشتہ داری کی تعریف۔ میرے نزدیک رشتہ داروں کی قدر ہے میں انکا دل و جان سے احترام کرتا ہو جو احساس کا رشتہ رکھتا ہو درد کا رشتہ رکھتا ہو انہی کی میری نظر میں اہمیت ہے جب رشتے میں احساس و ہمدردی نہیں ہے تو وہ رشتہ دار نہیں بلکہ ایک خیانت کار سودا گر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمارے ارد گرد کافی قریبی رشتہ دار ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ کسی کی ترقی کو دیکھ کر نفرت کی آگ میں جل کر راکھ ہوجاتے ہیں اسطرح کی رشتہ داری سے اکیلا رہنا بہتر ہے۔ آخر میں رشتہ داروں کی ایک اور اہم بات جو فراموش نہیں کی جاسکتی وہ یہ ہے کہ اگر آپکو کسی جگہ تھوڑی بہت ناکامی ہوئی ہو یا آپ کا ذرا بھول چوک سے کوئی کام خراب ہوا ہے تو تو یہی رشتہ دار سب سے پہلے آسمان سر پر آٹھاتے ہیں انکو سب سے پہلے تکلیف ہوتی ہے اصولا دیکھا جائے تو تکلیف تو اسی کو ہونی چاہیے جس کا نقصان ہوا ہو مگر ایسا نہیں وہ ڈھنڈھورا پیٹینے میں سب سے آگے ہوتے ہیں اگر خدانخواستہ آپ کمزور پڑ جاتے ہیں تو وہ آپکی مدد کے بجائے آپکے حوصلے پست کروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے یہ ہمارے معاشرے کے بدترین اور بد نصیب لوگ ہوتے ہیں جن کا کوئی حال نہیں ہوتا ہم آج کیسے دعوای کریں کہ ہمارے رشتہ دار ہمارے ساتھ ہیں ایسے ساتھی خود کے لئے بھی مصیبت ہیں اور دوسروں کے لئے بھی نجات کے باعث نہیں بنتے۔۔ یہ میری دل کی ایک آہ تھی اور یہ معاشرے کی ایک تلخ حقیقت بھی ہے جس کو بیان کرنا اہم تھا اس لیے آپ احباب کی خدمت میں پیش کیا۔ جن احباب کو میری باتیں سخت لگیں ہوں ان سے دسبستہ معذرت خواہ ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments