شگر کے گاوں‌تھگمو میں‌ دریا نے تباہی مچادی

شگر( عابدشگری) شگر کے مضافاتی گاؤں تھگمو میں دریاء کی بے رحم موجوں کی من مانیاں جاری،شدید کٹاؤ کے باعث ہزاروں درختان ،سینکڑوں کنال اراضی دریاء کی نذر ،لوگ ٹھنڈی آہ اور حسرت بھری نظروں سے اپنے قیمتی اراضی تباہ ہوتے دیکھتے رہ گئے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے توجہ نہ دینے پر متاثرین مایوس ،فوری طور پر کٹاو کی روک تھام کے لئے اقدامات نہ اٹھانے کی صورت میں مین شاہراہ بند کرنے کا اعلان کردیا ۔تفصیلات کے مطابق دریائے شگر میں طغیانی کے باعث گزشتہ کئی دنوں سے دریائی کٹاو جاری ہے جس کے باعث سینکڑوں کنال اراضی اور ہزاروں درخت دریائے بے رحم موجوں کے نذر ہوگئے دریائی کٹاو کا سلسلہ کئی دنوں سے جاری ہے مگر انتظامیہ کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ہے جس کے باعث متاثرین مایوس ہوگئے ہیں اور انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ہماری مدد کو فوری طور پر نہیں پہنچا اور کٹاو کی روک تھام کے لئے اقدامات نہیں اٹھایا تو ہم مجبور ہوکر مین شاہراہ کو بند کرکے دھرنا دیں گے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرین رسول بیگ ،حامد،عباس ،اکبر ،عارف ،حاجی موسیٰ ،غلام عباس اور دیگر کا کہنا ہے کہ دریائی کٹاو کی وجہ سے انہیں لاکھوں کا نقصان ہوا ہے ان کا کہنا تھا کہ درجنوں درخت دریائی کٹاو کے زد میں آکر بے رحم موجوں کے نذر ہوگئے ہیں جبکہ ہزاروں درختوں کو ہم نے خود خطرے کے پیش نظر کاٹ لیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ درختوں کے ساتھ ساتھ قابل کاشت اراضی کو بھی دریا بہا کر لے گئے ہیں اور دن رات مسلسل ہونے والی کٹاو کے باعث نقصان کے ساتھ ساتھ ہمارا سکون بھی برباد ہوکر رہ گیا ہے اور دن رات ایک کرکے دریائے کے کنارے موجود درختوں کو کاٹ رہا ہوں ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت دریا پر بند باند کر کٹاو کو روکنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ میں کامیاب نہیں ہوسکاانہوں نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان اور چیف سیکرٹری بابر حیات تارڑ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر دریائی کٹاو کی وجہ سے ہونے والی نقصانات پر نوٹس لیں اور دریائی کٹاو روکنے کے لئے اقدامات کریں تاکہ دریائی کارخ آبادی کی جانب موڑنے سے بچ سکیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments